پاکستان میں وطن پرستی کا نصابی تصور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی ذہن کی تشکیل نصاب تعلیم کے ذریعے سے کی جاتی ہے، نصاب تعلیم کی بنیاد پر ہی قوم پرستی، وطن پرستی کا سبق پجپن سے ہی ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی سطح پر قومیت کا از سر نو تصور تشکیل دیا گیا، اس تصور کے تحت ہر قوم نے اپنے اپنے وطن میں قومی ہیروز بنائے۔ قومی پرچم بنایا، قومی ترانہ لکھا، قومی لباس، قومی پھول، قومی کھیل، قومی زبان، قومی ثقافت غرض یہ کہ ہر لفظ کے ساتھ قوم لگا کر انھیں مقدس بنا دیا گیا۔

پاکستان میں اس تصور کو نصاب کے ذریعے سے رائج کیا گیا، ریاست کے تشکیل کردہ تصورات کے اثرات یہ ہوئے کہ ان مقدس چیزوں کو عزت و تکریم نہ دینے والوں کو بطور غدار، وطن دشمن، ریاست دشمن کہا جانے لگا۔ ریاست نے اس بیانیہ کی ترویج کے لئے مخصوص دانش ور طبقات کی پرورش کی اور قومی ذہن میں قومیت کے ان تصورات کو راسخ کیا گیا۔

نصاب تعلیم میں ہر قوم نے اپنے اپنے تاریخی پس منظر کو بیان کیا چنانچہ پاکستان میں قومیت کے نام پر قومی شناخت کو مقدس بنا کر اسے مذہب کا حصہ بنا دیا گیا۔ پاکستان میں نیشنل ازم یا قومیت کے تصورات میں بھی تضاد پایا جاتا ہے۔ ریاست کے اشرافیہ طبقات کا قومیت یا وطن پرستی کا تصور صوبوں میں موجود تصورات سے مختلف ہے۔

قومیت یا وطن پرستی کے مبہوم تصورات کا نتیجہ یہ ہوا کہ صوبوں میں برپا ہونے والی ان تحریکوں نے لسانیت میں خود کو مقید کر لیا اور علاقائی سوچ سے آگے بڑھنے میں قاصر رہے۔ دوسری جانب قومی تصور میں جو چیزیں نصابی کتب کے ذریعے سے شامل کی گئی ہیں ان میں قومی دشمن کی پہچان ہمسایہ ملک سے کرائی گئی اور نصاب تعلیم کو اسی تناظر میں مرتب کیا گیا۔ طلباء کی ذہن سازی کا کام سکولوں سے ہی شروع ہوا، تاریخ، معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں جو تاریخ پڑھائی جاتی ہے اس تاریخ میں دُشمن کے خدوخال کو انتہائی مہارت سے تشکیل دیا گیا ہے اور اس نصاب کو پڑھنے کے بعد ہمارے ذہنوں میں اس کے گہرے اثرات پڑ رہے ہیں۔

جو تاریخ ہمیں پڑھائی جارہی ہے اس تاریخ میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے، طلباء کو اس خطے کی تاریخ پڑھانے کی بجائے انھیں محض ہندو دُشمن پر مبنی نظریات پڑھائے جاتے ہیں۔ قومی تاریخ کا دائرہ ہندو دُشمنی کے گرد گھومتا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ہمارے نوجوان ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔ نصابی حریف اور حقیقی حریف میں تضاد ملتا ہے۔ نصاب میں پڑھایا جاتا ہے کہ تاریخ پاکستان کا آغاز محمد بن قاسم سے ہوتا ہے جب مظلوم بیٹی نے اُنھیں پکارا، پھر اُس کے بعد درمیان کے ہزار سال نکال کر اس خطے کی تاریخ کا آغاز سر سید احمد خان سے شروع کر دیا جاتا ہے۔

اس ہزار سال کے دوران کیا ہوا کس نے حکومت کی اور پھر کیسے اس خطے کو انگریز نوآبادکاروں نے اپنی کالونی میں تبدیل کیا؟ ایسٹ انڈیا کمپنی نے جنگ پلاسی میں فتح کے بعد بنگال کے خزانے کیسے یورپ منتقل کیے؟ اس پر نصاب خاموش ہے، 1857 ء کی جنگ آزادی میں کمپنی نے کن قوانین کے تحت آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کا فوجی عدالت میں ٹرائل کیا اور انھیں جلا وطن کرنے پر ملکہ برطانیہ نے کیسے دستخط کیے اور پھر ہندوستان کی غلامی کا نیا قانون برطانوی پارلیمنٹ سے کیسے منظور کرایا گیا، اور 50 ہزار علماء کرام کا قتل کس کی ایماء پر ہوا تھا؟ اس خطے میں 1930 ء کے قحط بنگال کے باعث موت کی آغوش میں جانے والے لاکھوں افراد کا ذمہ دار کون تھا یہ حقائق طلباء کو کیوں نہیں پڑھائے جاتے؟

تاریخ کی نصابی کُتب میں میڑک تک جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اس میں یا تو حقائق چھپائے گئے ہیں یا پھر حقائق کو سرکاری سطح پر مابعد نوآبادیاتی حکمت عملی کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ تاج برطانیہ یا پھر انگریزوں کے خلاف چلائی جانے والی تحریکیں دانستہ طور پر نصابی کتب سے خارج رکھی گئی ہیں اور ان برطانوی راج کے اس پہلو کو نصاب سے الگ رکھنے کے لیے برطانیہ کی جانب سے سرکاری طور پر پاکستان کو فنڈنگ کی جاتی ہے۔ یہ تضاد کیوں ہے؟

200 سالہ نوآبادیاتی عہد کے دوران اس خطے کی معیشت کے استحصالی منصوبوں کو کیوں سرکاری کتابوں میں شامل نہیں کیا گیا؟ تقسیم کرو اور راج کرو کی پالیسی کے تحت یہاں پر مذہبی منافرت، گروہیت اور فرقہ وارانہ فسادات کی منصوبہ بندی کیسے ہوئی تھی، سرکاری ملازمتوں میں مذہبی تقسیم کیوں رکھی گئی تھی؟ نصابی کتب میں ہمیں کیوں نہیں بتایا جاتا کہ پہلی عالمی جنگ کی فتح کا جشن منانے کے لیے لاہور لاہور میں کس کی صدارت میں پہلا قومی مشاعرہ ہوا، جس میں انگریز سرکار کو خراج تحسین پیش کر کے اُنھیں باعث رحمت قرار دیا گیا تھا۔

جس اُدھوری تاریخ کے انجکشن ہمارے بچوں کو نصابی کتب کے ذریعے سے لگائے جارہے ہیں اس سے نوجوان نسل کے ذہن بیمار ہورہے ہیں جو نوجوان اس خطے کی تاریخ پر مبنی کتابیں پڑھتا ہے تو اُس پر حقیقت کچھ اور عیاں ہوتی ہے جبکہ اُسے پڑھایا کچھ اور گیا ہوتا ہے۔

ریاست کی یہ پالیسی محض یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ تقسیم ہند کے بعد کی سیاسی تاریخ کو بھی مسخ شدہ حالت میں یا پھر نا مکمل و ادھوری صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ملک کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی پوری تقریر کو نصاب کا حصہ کیوں نہیں بنایا جاتا؟ ہمیں یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ 1956 ء تک آئین پاکستان بنانے میں انگریز راج کی تربیت یافتہ سول و فوجی افسر شاہی نے کیسے رکاوٹ پیدا کی تھی یا پھر مغربی پاکستان الگ ہوکر بنگلہ دیش کیوں بنا؟

کون کون پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مابعد نوآبادیات کا سیاسی ڈھانچہ کھڑا کرنے میں ملوث رہا ہے اور کیسے ملک کو جدید دور کی غلامی میں جکڑا گیا ہے، یہ سب نصابی کتب سے کیوں غائب ہے؟ حب الوطنی کا جذبہ نصابی کتب کے ذریعے سے پروان چڑھتا ہے لیکن ان نصابی کتب کو ذہن نشین کرنے کے بعد نوجوان نسل میں اس جذبے کا عالم یہ ہے کہ وہ بہتر مستقبل کے لیے پاکستان سے فرار ہونا چاہتا ہے۔ نصابی کتب میں قیام پاکستان سے پہلے کی بھی اُدھوری تاریخ پڑھائی جاتی ہے اور قیام پاکستان کے بعد بھی۔

معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی نے نصاب اور تاریخ جبکہ کے۔ کے عزیز نے اپنی کتاب مرڈر آف ہسٹری میں اس قسم کی ادھوری تاریخ کے بے شمار حوالے درج کیے ہیں۔ نومبر 2014 ء میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے نصابی کتب کو از سر نو لکھنے کا حکم دے کر ایچ ای سی کو ہدایت کی کہ تاریخ، مطالعہ پاکستان اور معاشرتی علوم کی کتابوں کو تبدیل کیا جائے۔ پانچ سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود وہ کچھ نہیں کرا سکے۔

اسی دور میں خیبر پختونخواہ میں نصاب میں پختونوں کی تاریخی قربانیاں اور ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کو سلیبس کا حصہ بنایا تو جماعت اسلامی نے مظاہرے شروع کردیے اس کی وجہ یہی تھی کہ پختونوں کو حقیقت نہ بتائی جائے کہ اُن کے ساتھ کیا ہوتا رہا۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو تعلیمہ خود مختاری دی گئی لیکن اس کے باوجود ملک سے دوہرے تعلیمی سسٹم کے خلاف کوئی پالیسی نہیں بن سکی کیونکہ پالیسیاں بنانے والے بالا تر طبقات کا حصہ ہیں اور یہ طبقات اپنے بچوں کو کیمبرج، آکسفرڈ کا نصاب پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ وہ سماج میں اپنی الگ شناخت کو برقرار رکھ سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •