سزا کا مقصد اصلاح


ملک ایک نظام ہوتا ہے۔ اس میں کچھ قوانین ہوتے ہیں، کچھ اصول ہوتے ہیں، کچھ قواعد وضوابط ہوتے ہیں جن کی پابندی سے ہی ایک نظام بخوبی چل سکتا ہے۔ ایک نظام میں کسی غلط حرکت کرنے والے، نقصان پہنچانے والے سے چاہے وہ چھوٹی سطح پر نقصان پہنچانے والا ہو یا بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے والا ہو یا دشمن ہو، ہرایک سے ایسا سلوک کرنے کی تعلیم ہونی چاہیے جو اس کی اصالح کا پہلو لئے ہوئے ہو۔

یہ بنیادی قانون اور اصول سزا اور اصلاح کا ہمارے مذہب اسلام میں پیش ہوا ہے جو ہماری انفرادی زندگی کے معاملات پر بھی حاوی ہے اور حکومتی معاملات میں بھی بلکہ بین ا الاقوامی معاملات میں بھی، اور معاشرے کی اصالح کے لئے بھی یہ بنیاد ہے۔ اگر حالات و واقعات یہ کہتے ہیں کہ سزا دینے سے اصالح ہو گی تو سزا دو۔ لیکن سزا میں اس بات کا بہرحال خاص طور پر خیال رکھنا ہو گا کہ سزا جرم کی مناسبت سے ہو وگرنہ اگر جرم سے زیادہ سزا ہے تو یہ ظلم اور زیادتی ہے اور ظلم اور زیادتی ایک نظام کے لئے کسی صورت بھی اچھے نہیں ہوسکتے۔

نظام اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب نظام چلانے والے نیک نیتی سے کام کریں اور جب معافی یا سزا کا مقصد اصلاح ہو۔ قصوروار شخص کے معاف کرنے سے بھی نظام کمزور ہوتا ہے۔ اورطاقت کو انتقام کے لئے استعمال کرنا بھی نظام کے لئے نقصان دہ ہے۔ ان دونوں باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ نہ اتنی نرمی ہو کہ بالکل بے غیرت ہو جائے، اس سے قوم بکھر جاتی ہے۔ اور نہ انتقام کی نیت ہو۔ وہ قوم کو باغی بنا دیتی ہے۔ پس ہر دو حدود کو سامنے رکھتے ہوئے معافی اور سزا کے فیصلے کرنے چاہئیں۔

بعض دفعہ با اختیات لوگ جب کسی کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں تو دیکھنے میں آتا ہے کہ اس میں سختی کا پہلو ہوتا ہے جو کسی جرم کی پاداش میں کی جارہی ہوتی ہے اور بعض ضرورت سے زیادہ نرمی اور معافی کا رجحان رکھتے ہیں جس سے پھر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پس نہ سزا دینا پسندیدہ ہے، نہ معاف کرنا قابل تعریف ہے۔ اصل نظام کی بہتری کا حصول ہے اور یہ اُس وقت حاصل ہوتی ہے جب اصالح مقصد ہو اور اس کے لئے متعلقہ محکموں کو چاہیے کہ وہ کوشش کریں تا کہ وہ حقیقی نظام اور حالات ہم اپنے میں اور ملک میں پیدا کرسکیں جو ملک میں بہتری پیدا کرنے والے ہوں۔

عفو اور درگزر اگر بلا وجہ ہو تو نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور انسان کے اندر بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ اپنی حدود سے باہر نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ نظام قائم نہیں رہتا۔ پس جن کو اصالح کے لئے سزا ملتی ہے وہ بجائے ڈھٹائی دکھانے کے اس بات کی طرف زیادہ توجہ دیں کہ ہم نے اپنی اصالح کس طرح کرنی ہے۔ اس کے لئے ندامت اختیار کریں اور اپنی اصالح کریں۔ سزا کسی انتقام کی وجہ سے نہیں دی جاتی جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، اصالح کے لئے دی جاتی ہے اور یہی کوشش ہونی چاہیے۔ یہ بات صرف با اختیار کے لئے ہی یہ نہیں ہے۔ صرف با اختیار کا ہی قصور نہیں بلکہ افراد کے بھی قصور ہوتے ہیں۔ اگر ہر شخص اپنے روز مرہ کے معامالت میں اور آپس کے تعلقات میں اپنا جائزہ لے کہ وہ دوسروں کے متعلق کس طرح سوچتا ہے اور اپنے متعلق کیا سوچتا ہے تو اس سے معاشرے میں ایک خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔

پس اصل چیز یہی ہے کہ ہر وقت یہ خیال رہے کہ ہر فعل نظام کے حدود و قواعد کے مطابق ہو اور ملک کی بہتری اور غیرت ملحوظ خاطر ہو۔ پس ان دو باتوں کو ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے اور اس لئے سامنے رکھنا چاہیے کہ ہم نے اصالح کرنی ہے اور برائیوں کو روکنا ہے۔ معاشرے میں امن اور سلامتی کی فضا پیدا کرنی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا تعالی کو راضی کرنا ہے کیونکہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

Facebook Comments HS