انگریزوں کا انسانی بچے بطور خوراک استعمال کرنے کا منصوبہ


معصوم بچے جن کو کھانے کا گھناؤنا منصوبہ بنایا گیا تھا

میں نے حساب لگایا ہے کہ ایک نوزائیدہ بچے کا وزن تقریباً بارہ پاؤنڈ ہوتا ہے۔ اس کی اگر مناسب افزائش کی جائے تو ایک سال بعد یہ بڑھ کر اٹھائیس پاؤنڈ تک ہو جاتا ہے۔

میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ خوراک کچھ مہنگی ہو گی۔ کیونکہ جاگیردار طبقات بیشتر بچوں کے والدین کا خون پہلے ہی چوس چکے ہوں گے، اس لئے یہ خوراک خاص طور پر ان جاگیرداروں کے لئے مناسب ہو گی اور انہی کا پہلا حق بنتا ہے۔

بچوں کا گوشت سارا سال دستیاب ہو گا لیکن خاص طور پر مارچ کے مہینے کے آس پاس یہ خوب افراط سے دستیاب ہو گا۔ ہمیں ایک اہم مصنف نے، جو کہ ایک فرانسیسی ڈاکٹر ہے، یہ بتایا ہے کہ لینٹ کے تہوار (ایسٹر سے پہلے روزوں کا موقعہ) پر مچھلی خوب کھائی جاتی ہے اور اس وجہ سے کسی بھی دوسرے مہینے کے مقابلے میں رومی کیتھولک ملکوں میں اس تہوار کے نو ماہ بعد بچوں کی بہت زیادہ پیدائش ہوتی ہے۔ رومی کیتھولک بچوں کی شرح ویسے بھی تین کے مقابلے میں ایک ہوتی ہے۔ اس طرح اس کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہو گا کہ اس سے رومی کیتھولک افراد کی آبادی کم ہو جائے گی۔

میں نے ایک بھکاری کے بچے کی پرورش کا تخمینہ لگایا ہے۔ بھکاریوں کی اس لسٹ میں میں نے جھونپڑ واسیوں، کچی آبادیوں، محنت کشوں اور کسانوں کو شامل کیا ہے۔ یہ تقریباً دو شلنگ کا خرچہ ہو گا اور اس میں بچے کو پہنائے جانے والے چیتھڑوں کا تخمینہ بھی شامل ہے۔ کوئی بھی کھاتا پیتا شخص ایک سالم موٹے تازے بچے کے گوشت کے لئے دس شلنگ سے کم تو نہیں دے گا۔ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ اس گوشت سے بہترین کوالٹی کے صحت بخش گوشت کی چار ڈشیں تیار ہو جائیں گے۔ اس طرح ایک نمبردار ایک اچھا جاگیردار بننا سیکھے گا اور اپنے مزارعوں میں خوب مقبول ہو جائے گا۔ بچے کی ماں کو سیدھا سیدھا آٹھ شلنگ کا منافع ہو گا اور وہ اگلے بچے کی پیدائش تک کام کاج کرنے کے قابل بھی رہے گی۔

سگھڑ افراد (ان سخت حالت میں تو ہر ایک کو ہی ہونا پڑے گا) اس لاش کی کھال اتار سکتے ہیں۔ کھال کو رنگ کر خواتین کے لئے بہترین دستانے اور مردوں کے لئے اعلی درجے کے جوتے تیار کیے جا سکتے ہیں۔

ہمارے شہر ڈبلن میں اس کام کے لئے شہر کے موزوں مقامات پر بوچڑ خانے قائم کیے جا سکتے ہیں۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ قصابوں کی کمی نہیں ہو گی۔ گو کہ میں زندہ بچے خریدنے کا مشورہ دیتا ہوں اور ان کا گوشت ویسے ہی بنانے کی صلاح دیتا ہوں جیسے ہم خنزیروں کا بناتے ہیں۔

ایک بہت قابل شخص، جو کہ ایک سچا محب وطن ہے اور جس کے عادات و اطوار میرے لئے بہت قابل عزت ہیں، ان معاملات پر مجھ سے بات کر کے بہت خوش ہوا تھا اور اس نے میری سکیم کی بہتری کے لئے بھی کچھ مشورے دیے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کے بہت سے امرا اب ہرن کا خاتمہ کر چکے ہیں۔ ہرن کے گوشت کی کمی اب بارہ سے چودہ سال کے بچے اور بچیوں کے گوشت سے پوری کی جا سکتی ہے جو کہ ہر ملک میں کام کی کمی کی وجہ سے بھوکے مر رہے ہیں۔ ان بچوں کو ان کے والدین یا یتیم ہونے کی صورت میں ان کے قریبی اعزا فراہم کریں گے۔

بھوکے بچوں کو خیرات میں کھانا دیا جا رہا ہے

لیکن میں بہت ادب سے اپنے اس بہترین دوست اور ایک بہترین محب وطن شخص سے اختلاف کی جسارت کرتا ہوں۔ میرے امریکی واقف نے مجھے اپنے وسیع تجربات کی روشنی میں آگاہ کیا ہے کہ مسلسل کسرت و مشقت کے باعث اس عمر کے لڑکوں کا گوشت عام طور پر سخت اور خشک ہوتا ہے، اور ان کا ذائقہ بھی اچھا نہیں ہوتا۔ ان کو موٹا تازہ کرنے پر غیر مناسب حد تک زیادہ پیسا لگے گا۔ جہاں تک لڑکیوں کا تعلق ہے، تو بہت جلد وہ خود افزائش نسل کے قابل ہو جائیں گی۔ ویسے بھی بعض وہمی لوگ (بلاشبہ بالکل غلط طور پر) اس سکیم کے خلاف ہوں گے اور کہیں گے کہ یہ ظلم ہے۔ میں مانتا ہوں کہ ایسا اعتراض میرے ہر بہترین منصوبے پر ہی جڑ دیا جاتا ہے خواہ اس کی نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہوں۔

لیکن میرے دوست کو درست تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ اس نے تسلیم کیا کہ یہ مصلحت اس کے ذہن میں فارموسا کے رہنے والے مشہور عالم سالمانذر نے ڈالی جو کہ بیس برس قبل لندن آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کے ملک میں جب بھی کسی نوجوان شخص کو جلاد مارتا تھا تو اس کی لاش کو جلاد اہل ثروت کو بطور ایک خاص اور لذیذ سوغات کے طور پر بیچ دیتا تھا۔ اس کے دور میں ایک پندرہ سالہ موٹی تازی لڑکی کی تازہ لاش، جو کہ بادشاہ کو زہر دینے کی کوشش کرنے کے جرم میں مصلوب کر دی گئی تھی، بادشاہ کے وزیراعظم اور دوسرے درباریوں کو چار سو اشرفیوں کے بدلے بیچی گئی تھی۔ میں اس سے انکار نہیں کرتا کہ اس شہر کی کئی موٹی تازی لڑکیوں کا یہ استعمال کیا جا سکتا ہے جن کی ویسے ایک ٹکے کی بھی حیثیت نہیں ہے۔

کچھ مایوس قسم کی طبیعت رکھنے والے افراد کو ان غربا کی بہت بڑی تعداد کے بارے میں شدید تشویش ہے جو کہ بڈھے ہیں، بیماری میں مبتلا ہیں یا کسی جسمانی نقص کا شکار ہیں۔ مجھے کہا گیا ہے کہ ان لوگوں سے نجات دلانے کے بارے میں بھِی غور کروں جو کہ ہماری قوم کے لئے اتنا بڑا بوجھ ہیں۔ لیکن مجھے ان کی اتنی فکر نہیں ہے کیونکہ یہ عام علم ہے کہ ایسے لوگ تیزی سے ہر روز بھوک، سردی، گندگی اور چوہوں وغیرہ کے کاٹنے سے مر رہے ہیں۔ جہاں تک نوجوان محنت کشوں کا تعلق ہے، تو اس نازک دور میں ان کو اتنا کام نہیں مل رہا ہے کہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا سکیں، اور جب بھی ان کو حادثاتی طور پر کوئی کام ملے گا تو کمزوری کی وجہ سے وہ خود ہی حادثے کا شکار ہو کر ملک کو اپنے بیکار وجود سے نجات دلا دیں گے۔

میں اصل موضوع سے بھٹک گیا ہوں اور اس پر واپس آتا ہوں۔ میری رائے ہے کہ میرے منصوبے سے بہت فوائد حاصل ہوں گے جو کہ میں نے بہت واضح کر دیے ہیں اور یہ بہت اہم منصوبہ ہے۔

شہر کی بے تحاشا آبادی

سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہو گا کہ اس کی وجہ سے کیتھولک افراد کی تعداد کم ہو جائے گی جو ہر سال سیلاب کی مانند بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور ہماری قوم اس میں ڈوب رہی ہے۔ وہ سب سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں اور ہمارے سب سے خطرناک دشمن بھی ہیں۔ وہ اپنے مذموم مقاصد کے لئے ان اچھے پروٹیسٹن افراد کی ملک سے غیر حاضری کا فائدہ اٹھانے کی خاطر وطن میں ہی قیام پذیر رہتے ہیں جو کہ ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کی خاطر ملک سے باہر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ اس طرح غریب کرائے داروں اور مزارعوں کے پاس اپنی بھی کچھ قیمتی چیز ہو گی۔ قانونی طور پر انہیں پابند کیا جا سکتا ہے کہ اپنے اس مال کے ذریعے وہ مالک کو کرایہ ادا کریں کیونکہ ان کی فصلیں اور مویشی تو پہلے ہی ضبط کیے جا چکے ہیں اور کوئی پیسا دھیلا ان کے پاس ہوتا نہیں ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ دو سال اور زیادہ عمر کے ایک لاکھ بچوں کا سالانہ خرچ دس شلنگ فی بچہ سے کم تو نہیں ہو گا۔ اس طرح قوم کے خزانے میں ہر سال پچاس ہزار پاؤنڈ کا اضافہ ہو گا۔ جبکہ دوسری طرف خوش خوراک امیر لوگوں کے لئے کھانے میں ایک نئی ڈش کا شامل ہون ایک اضافی فائدہ ہے۔ اس سے معاشرے میں پیسا بھِی حرکت میں رہے گا کیونکہ یہ قابل فروخت مال غریب افراد اپنے گھر میں خود ہی بنا رہے ہوں گے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ مستقل افزائش نسل کرنے والے افراد کو ہر سال اپنا بچہ بیچ کر آٹھ شلنگ کے منافعے کے علاوہ ان کو پہلے سال کے بعد بچوں پر ہونے والے خرچے سے نجات بھی مل جائے گی۔

مزید پڑھنے کے لئے "اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

4 thoughts on “انگریزوں کا انسانی بچے بطور خوراک استعمال کرنے کا منصوبہ

  • 20/10/2016 at 12:34 شام
    Permalink

    Its a satirical essay by Jonathan swift it was written to highlight the poverty of Irish people in 18th century

  • 20/10/2016 at 9:41 شام
    Permalink

    اس قدر کامیاب ترجمے کی جس قدر تعریف کی جائے بجا ہوگی۔ اصل تحریر طنزیہ ادب کی اعلی ترین تحریروں میں شمار کی جاتی ہے۔ اسکو اردو میں مہیا کرکے آپ نے ایک احسان کیا ہے۔ خود اردو میں بھرپورطنز کی مثالیں بہت کم ہونگی ۔ اس وقت جو یاد آرہی ہیں ان پر غور کرتا ہوں تو وہ مذاح تک ہی محدود نظر آتی ہیں۔ ہم لوگ زیادہ تر فقرہ کسنے کو ہی طنز سمجھ لیتے ہیں۔

  • 21/10/2016 at 4:57 شام
    Permalink

    Jonathan Swift’s essay, ‘a modest proposal’ has been misperceived. In this essay, Swift makes a blunt criticism to the then new moral theory, utilitarianism. Utilitarianism is a consequential theory that claims that morality depends upon the consequences of an action, so whatever promotes the public good is moral. However, this theory may justify even immoral acts for the public good. Thus, Swift wrote this essay to make fun of utilitarianism. Although cannibalism was practicing in the past but getting inference from this essay that Swift proposed to eat infants is wrong. Swift criticised the theory through his satirical art with using the example of infants. This link can help to understand Swift’s intentions to write the essay (I can email the full article if someone wants to read): http://cje.oxfordjournals.org/content/39/1/281.abstract

  • 21/10/2016 at 9:25 شام
    Permalink

    کیا یہ ممکن ہے کہ جو لوگ اس تحریر کی اشاعت کو ادب اور تہذیب پر ایک حملہ سمجھتے ہیں وہ ہمیں ان اردو تحریروں کی نشاندہی بھی کردیں جو انکے نزدیک طنز کی مثالی شاہکار ہیں۔ (مذاح کی نہیں، طنز کی)۔

Comments are closed.