انگریزوں کا انسانی بچے بطور خوراک استعمال کرنے کا منصوبہ


دوسری طرف امرا دعوتیں اڑا رہے ہیں

پانچویں بات یہ کہ اس سے ہوٹلوں اور ریستورانوں وغیرہ کے کاروبار میں بھی خوب اضافہ ہو گا اور ایک اچھا باورچی اپنے معزز اور اچھے ذائقے کے خوگر مہمانوں کے لئے اسے من چاہی قیمت پر فروخت کر سکے گا۔

چھٹی بات یہ ہے کہ اس سے شادیوں میں اضافہ ہو گا جو کہ دانشمند قومیں کسی انعام یا لازمی قانونی پابندی کے ذریعے بڑھاتی ہیں۔ اس سے ماؤں کو اپنے بچوں کا خوب خیال رکھنے کی ترغیب بھی ملے گی۔ شوہر بھی دوران حمل اپنی بیویوں کا بہت زیادہ خیال رکھیں گے کیونکہ وہ ان کی گائیوں کی طرح ہی ہوں گی اور وہ ان کو ٹھڈے مارنے اور پیٹنے سے احتراز کریں گے کہ مبادا حمل گر جائے اور خسارہ نہ ہو جائے۔

اس منصوبے پر کوئی خاص اعتراض میرے ذہن میں نہیں آ رہا ہے، سوائے اس کے کہ اس سے ملک کی آبادی کم ہو جائے گی۔ لیکن یہی تو میرا ایک بنیادی ہدف ہے۔ پڑھنے والے توجہ کریں کہ میں یہ حل آئرلینڈ کی مملکت کے لئے تجویز کر رہا ہوں اور روئے زمین پر کسی ماضی، حال یا مستقبل کے دوسرے ملک کے لئے نہیں۔

اس لئے کوئی شخص مجھے دوسرے مناسب حل مت بتائے۔ جیسا کہ ملک سے باہر رہنے والوں پر پانچ شلنگ فی پاؤنڈ ٹیکس، صرف ملک میں تیار کردہ کپڑے اور فرنیچر ہی استعمال کرنا، غیر ملکی اشیائے تعیش کو مسترد کر دینا، عورتوں میں فضول خرچی، دکھاوے اور سستی کو ختم کرنا، کفایت شعاری اختیار کرنا، اپنے ملک سے محبت کرنا، باہمی نفاق کو ختم کرنا، یہودیوں کی طرح رویہ اختیار نہ کرنا جو اس وقت ایک دوسرے کو مار رہے تھے جب ان کے شہر پر غنیم قبضہ کر رہا تھا۔ اپنے ضمیر اور ملک کو چند ٹکوں کی خاطر فروخت نہ کرنا، جاگیرداروں اور مالکان جائیداد کو اپنے مزارعین اور کرائے داروں پر رحم کھانے کی ترغیب دینا، وغیرہ وغیرہ۔ یا پھر تاجروں کو دیانت داری وغیرہ سکھانا جو کہ ایسا قانون منظور ہوتے ہی کہ صرف ملکی اشیا خریدی جائیں، اکٹھے ہو کر دھوکہ دہی کریں گے۔

میں کئی سال تک بیکار، خیالی، ناقابل عمل منصوبے بنانے کے بعد خوش قسمتی سے اس منصوبے کو بنانے میں کامیاب ہوا ہوں، جو کہ بالکل منفرد اور نیا ہے اور بہت مستحکم بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔ اس پر خرچہ بھی کوئی خاص نہیں آئے گا اور یہ ہماری دسترس میں بھی ہے۔ اس منصوبے میں ہمیں انگلینڈ سے بے مروتی کا خطرہ بھی نہیں ہو گا۔ شاید میرے ذہن میں ایک ایسے ملک کا نام بھی آ رہا ہے جو کہ ہماری پوری قوم کو کھا جانے پر خوشی محسوس کرے گا۔

میں کوئی اکھڑ شخص نہیں ہو جو کہ اپنی رائے پر لچک دکھانے کو قطعاً تیار نہ ہو اور دانشمندوں کی طرف سے پیش کردہ کسی متبادل منصوبے کو مسترد کر دے جو کہ اتنا ہی مفید، سستا، آسان اور کارگر ہو۔ لیکن میرے منصوبے کے برخلاف کوئی سکیم پیش کرنے سے پہلے دو نکات پر غور کیا جانا چاہیے۔ پہلی بات یہ کہ اگر حالات یہی رہے تو وہ دانشور ایک لاکھ بیکار قسم کے بھوکوں کے لئے کہاں سے خوراک اور لباس لائیں گے۔

سہمے ہوئے غریب بچے

دوسرا یہ کہ یہاں دس لاکھ افراد کی مسلسل موجودگی بیس لاکھ پاؤنڈ کے قرض کا باعث بنے گی۔ اس تعداد میں پیشہ ور بھکاریوں، کسانوں، محنت کشوں اور کچی آبادیوں میں رہنے والوں اور ان کے بیوی بچوں کو بھی شامل کیا جائے، جو کہ درحقیقت بھکاری ہیں۔ وہ سیاست دان جو میری تجویز کے مخالف ہیں، اور کوئی متبادل منصوبہ پیش کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، پہلے ان بچوں کے والدین سے جا کر پوچھیں کہ اگر وہ بچے ایک سال کی عمر میں بیچ دیے جاتے تو کیا آج وہ والدین خوش نہ ہوتے؟ اس طرح وہ جاگیرداروں کے ظلم و زیادتی سے بچ جاتے، سود پر پیسا لے کر کرایہ دینے کی مجبوری سے محفوظ ہوتے، ضروریات زندگی کی عدم فراہمی سے محروم نہ ہوتے، موسم سے بچاؤ کی خاطر چھت یا کپڑے نہ ہونے کا غم نہ سہتے، اور اپنی آنے والی نسلوں پر یہی سب مصائب کا امکان نہ دیکھتے۔

میں یہ یقین دلاتا ہوں کہ یہ منصوبہ پورے خلوص دل سے پیش کیا گیا ہے اور اس لازمی منصوبے میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ میرا مقصد محض وطن عزیز کے عوام کی خدمت کرنا، کاروبار میں اضافہ کرنا، بچوں کی فلاح، غریبوں کے لئے آسانی پیدا کرنا اور امیروں کو کچھ لطف دینا ہی ہے۔ حتی کہ میرا کوئی اپنا ایسا بچہ بھی نہیں ہے جس کے ذریعے مجھے ایک دھیلے کا بھی منافع ہو پائے۔ میرا سب سے چھوٹا بچہ نو سال کا ہے، اور میری بیوی کی عمر اب اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ وہ مزید بچوں کو جنم نہیں دے سکتی ہے۔

جوناتھن سوئفٹ

آپ نے یہ نام نہاد معتدل تجویز پڑھی۔ مغرب کے ذہنی غلام اس بربریت اور وحشت کا کسی دوسری طرح دفاع پیش کرنے میں ناکام رہے تو یہی کہیں گے کہ یہ ایک طنز ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ طنز ہمیشہ ہنساتا ہے۔ یہ مضمون طنز کیسے ہو سکتا ہے؟
یہ مضمون ہم سب پر 20 اکتوبر 2016 کے دن پبلش ہوا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

4 thoughts on “انگریزوں کا انسانی بچے بطور خوراک استعمال کرنے کا منصوبہ

  • 20/10/2016 at 12:34 شام
    Permalink

    Its a satirical essay by Jonathan swift it was written to highlight the poverty of Irish people in 18th century

  • 20/10/2016 at 9:41 شام
    Permalink

    اس قدر کامیاب ترجمے کی جس قدر تعریف کی جائے بجا ہوگی۔ اصل تحریر طنزیہ ادب کی اعلی ترین تحریروں میں شمار کی جاتی ہے۔ اسکو اردو میں مہیا کرکے آپ نے ایک احسان کیا ہے۔ خود اردو میں بھرپورطنز کی مثالیں بہت کم ہونگی ۔ اس وقت جو یاد آرہی ہیں ان پر غور کرتا ہوں تو وہ مذاح تک ہی محدود نظر آتی ہیں۔ ہم لوگ زیادہ تر فقرہ کسنے کو ہی طنز سمجھ لیتے ہیں۔

  • 21/10/2016 at 4:57 شام
    Permalink

    Jonathan Swift’s essay, ‘a modest proposal’ has been misperceived. In this essay, Swift makes a blunt criticism to the then new moral theory, utilitarianism. Utilitarianism is a consequential theory that claims that morality depends upon the consequences of an action, so whatever promotes the public good is moral. However, this theory may justify even immoral acts for the public good. Thus, Swift wrote this essay to make fun of utilitarianism. Although cannibalism was practicing in the past but getting inference from this essay that Swift proposed to eat infants is wrong. Swift criticised the theory through his satirical art with using the example of infants. This link can help to understand Swift’s intentions to write the essay (I can email the full article if someone wants to read): http://cje.oxfordjournals.org/content/39/1/281.abstract

  • 21/10/2016 at 9:25 شام
    Permalink

    کیا یہ ممکن ہے کہ جو لوگ اس تحریر کی اشاعت کو ادب اور تہذیب پر ایک حملہ سمجھتے ہیں وہ ہمیں ان اردو تحریروں کی نشاندہی بھی کردیں جو انکے نزدیک طنز کی مثالی شاہکار ہیں۔ (مذاح کی نہیں، طنز کی)۔

Comments are closed.