مریم نسیم ملکیت جہانزیب احمد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابا کا نام نسیم احمد ہے، بچپن سے یہ نام مجھے کچھ ایسا خاص پسند نہ تھا۔ دادا نے بتایا کہ پردادا جان نے پہلے تو ابا کا نام ضیا الحق رکھا مگر پھر بدل کر نسیم احمد کر دیا۔ خیر جب بڑے ہو کرملک کی تاریخ پڑھی تو اندازا ہوا کہ پہلے نام سے یہ نام تو بہرحال بہتر ہی تھا۔ تمام عمر لوگ اس نام کو میرے نام کا ہی ایک دوسرا حصہ سمجھتے رہے۔ استانیاں بھی بجائے مریم پکارنے کے نسیم ہی کہتیں۔ بعد میں بارہا خیال آیا کہ نام مریم احمد ہوتا تو شاید زیادہ بہتر رہتا۔ مگر خیر آہستہ آہستہ مجھے اس نام سے انس ہو ہی گیا۔ آخر یہ میرا مکمل نام ہے۔

شادی ہوئی تو کسی نے بتایا کہ شادی ہوتے ہی شناختی کارڈ پر والد کا نام کی جگہ شوہر کا نام لکھا جائے گا۔ کیا تم اپنا نام بدل کر اب مریم احمد کرنا چاہو گی؟ شوہر نے پوچھا، مگر پھر اتنی جگہوں پر نام کون بدلے؟ سارے کلائینٹس کو کیا بولوں؟ بینک اکاونٹس کیسے بدلوں؟ اسے مریم نسیم ہی رہنے دیں۔ مگر مریم نسیم والد کا نام نسیم احمد کی جگہ شناختی کارڈ پر مریم نسیم شوہر کا نام جہانزیب احمد آ گیا۔ ویسے میں نے اس کے بارے میں کچھ زیادہ سوچا نہیں۔

دادا کے پاس ایک گھوڑی تھی، جسے سب چوہدری صاحب کی گھوڑی کے نام سے جانتے تھے۔ کالی سیاہ اور بے حد خوبصورت، چمکیلی جلد والی اور برق رفتار۔ میں نے دیکھی تو نہیں مگر وہ جب بھی اس کا قصہ سناتے تو مجھے بلیک بیوٹی کی کہانی کا خیال آتا۔ ماضی کے ایسے قصے مجھے ویسے بھی جادوئی لگتے ہیں۔ گھوڑی جب اتنی چاق و چوبند نہ رہی تو انہوں نے بابا رحما کے حوالے کر دی۔ اب آدھے لوگ اسے چوہدری صاحب کی گھوڑی کہتے اور آدھے بابا رحما کی۔ کچھ یہ بھی کہتے کہ ارے یہ وہی گھوڑی ہے ناں جو پہلے چوہدری صاحب کے پاس تھی؟

کل ایک دوست سے ملاقات ہوئی جن کی ایک شادی ایک برے موڑ سے گزر کر اختتام پذیر ہوگئی مگر پھر ان کو ایک بہت اچھا جیون ساتھی مل گیا تو پھر سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔ وہ خاتون نوکری کرتی ہیں، مالی طور پر خوب مستحکم ہیں۔ جب پہلی شادی میں تھیں تو کچھ جائیداد اپنی ذاتی آمدنی سے بنائی اب اتنے برسوں بعد اسے بیچنے کا ارادہ کیا۔ جب اس کالونی کے دفتر میں فروخت کے لئے گئیں تو کلرک کی کرسی پر براجمان شخص نے اسے شناختی کارڈ پر موجود شوہر کے خانے میں دو وقتوں میں موجود دو مختلف ناموں کے بارے میں استفسار کرنا شروع کیا۔

پہلے تو انہوں نے تحمل سے تبدیلی کہ وجہ بتائی مگر پھر اس شخص نے ان پر شوہر کے نام کی تبدیلی کے بارے میں ذاتی نوعیت کے سوالات شروع کر دیے۔ یہاں تک کے طلاق کی وجوہات کے بارے میں کاغذ پر لکھ کر جمع کروانے کو کہا تو ان خاتون کا تحمل جواب دے گیا۔ اس شخص کا اپنے عہدے کی حدود سے تجاوز یا ذاتیات پر حملوں کو آپ جہالت سے تعبیر کر سکتے ہیں مگر اس تمام قصے کو سن کر میرے ذہن میں بہت سے سوالات نے جنم لیا۔

جب ایک خاتون کما سکتی ہے، اپنی جائیداد خرید سکتی ہے، اپنے دستخط اور نشان انگوٹھا سے اسے فروخت کر سکتی ہے تو اسے اپنے شناختی کارڈ پر اپنے نشاندہی کے لئے ایک مرد کے نام کی ضرورت آخر پڑے ہی کیوں؟ اور اگر مردوں کے کارڈ پر ان کے والد کا نام ہی درج رہتا ہے اور چاہے وہ چھے شادیاں کریں یا آٹھ کوئی بھی نام ایک دم کی طرح ان کے تمام کاغذات میں ان کے ساتھ نہیں چلتا تو خواتین کے پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور ہر اور قانونی جگہ پر ایک ایسا مرد جس کے ساتھ ان کا ایک کاغذی معاہدہ ہوتا ہے، جو کہ فسخ بھی ہو سکتا ہے، اس کے نام کا ساتھ اندراج کیوں؟

میں نے اپنی گوری دوستوں سے پوچھا کہ تمہارے ہاں شناختی کارڈ کیسے کام کرتے ہیں تو کہنے لگیں کہ بس ہمارے لائسنس پر ہمارا نام اور شہریت کا نمبر درج ہوتا ہے۔ باپ کا نام برتھ سرٹیفیکیٹ میں اور شوہر کا نام شادی کی دستاویز کی حد تک محدود ہے۔ ہاں ہم اپنے مرضی سے اپنے نام کے ساتھ شوہر کے خاندان کا نام لگا لیں تو اور بات مگر ہم اپنی جگہ مکمل انسان ہی تصور ہوتی ہیں اور ہمیں اپنے نام کے ساتھ کسی اور کا نام لگانے کی چنداں ضرورت نہیں۔

کچھ عرصہ قبل بنت پاکستان نے بھی دستاویزات میں اپنے والد کے نام کو نہ لکھنے کی درخواست دی تھی جس پر اس کی کوئی خاص شنوائی نہ ہوئی۔ چلو مگر یہاں یہ مان لیتے ہیں کہ والد کا نام تو مردوں کے شناختی کارڈ میں بھی درج ہوتا ہے، حالانکہ واقعی اگر وہ محض برتھ سرٹیفیکیٹ میں بھی ہو تو کافی ہے۔ مگر ایک خاتون کے لئے شادی کے بعد اپنے شوہر کا نام ساتھ لگانا آخر کیوں ضروری ہے؟ کیا وہ ایک ذمین ہے، جائیداد ہے یا ایک گاڑی؟ جس کے بنیادی شناخت کے کاغذات میں تمام نام درج ہوں؟

یہاں تک کہ ہر معاملے میں مذہب کو گھسیٹ کر لانے والے لوگ بھی اس کی کوئی مذہبی توجیہہ پیش نہیں کر سکتے۔ ماضی کی کنیتیں بھی باپ کے نام کے ساتھ ہی پڑھیں میں نے کتابوں میں۔

خیر یہاں مجھے تمام پڑھنے والے مریم نسیم کے نام سے جانتے ہیں، پڑھ لکھ کر سو طرح کے مشغلے اپنا کر اپنی ذات کی تکمیل کرنے میں میں ہر وقت کوشاں رہتی ہوں۔

مگر اپنی تمام شناخت بنا لینے کے باوجود، کاغذات میں مجھے یہی لکھنا پڑتا ہے، مریم نسیم ملکیت جہانزیب احمد یا پھر دوسرے لفظوں میں یہ اب بابا رحما کی گھوڑی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم نسیم

مریم نسیم ایک خاتون خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانس خاکہ نگار اور اینیمیٹر ہیں۔ مریم سے رابطہ اس ای میل ایڈریس پر کیا جا سکتا ہے [email protected]

maryam-nasim has 63 posts and counting.See all posts by maryam-nasim