ادب اور انعامات کی عالمی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سوچنے سمجھنے والے اذہان، خاص طور پر ان نادرہ روزگار افراد میں جو تہذیبی اور تمدنی مسائل پر سنجیدگی سے غور و فکر کرتے ہیں، محترم ڈاکٹر آصف فرخی کا اسم گرامی بہت اوپر آتا ہے۔ ذیل میں ڈاکٹر فرخی کا ایک گراں قدر خطبہ پیش کیا جا رہا ہے جو انہوں نے رواں مہینے کراچی میں منعقد ہونے والی عالمی اردو کانفرنس میں ارزاں کیا۔ 1945 میں احمد شاہ پطرس بخاری نے PEN کی عالمی کانفرنس منعقدہ جے پور میں ”ہمارے عہد کے اردو ادیب“ کے عنوان سے ایک خطبہ دیا تھا۔ ڈاکٹر آصف فرخی کے اس ترشے ترشائے خطاب سے پطرس کے تاریخی خطبے کی یاد تازہ ہو گئی۔ پڑھیے اور سر دھنیے کہ اس عہد زوال میں بھی ہماری زمین کیسے کیسے لعل و گہر اگلتی ہے۔ (و۔ مسعود)

٭٭٭   ٭٭٭

اردو کے ساتھ عالمی اردو کانفرنس کے اس اجلاس میں اس وقت میرے لیے جتنی مُہلت ہے میں یہی ذکر چھیڑوں گا کہ اردو میں / اردو سے انعامات کی عالمی سیاست کا معاملہ۔ اردو کے ساتھ عالمی کا لفظ محض رتبہ و اعتبار میں اضافے کے لیے نہیں بلکہ اردو بھی اس رنگ بدلتے ہوئے بیانیے سے وابستہ ہے جو اس وقت ادبی حیثیت کے تعیّن اور ادبی انعامات کے بین الاقوامی اعلانات کے ذریعے سامنے آرہا ہے اور اتفاق یا اختلاف کے ذریعے مختلف زبانوں کے ادب پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ادیبوں اور پڑھنے والوں کے اس باوقار اجتماع کے سامنے یہ مسائل بھی اٹھائے جانے چاہئیں کہ دائرے کے باہر کیا کچھ ہو رہا ہے اور اس کا ہم پر کیا اثر پڑتا ہے۔ بعض مرتبہ ہم اردو ادب کی بات کرتے ہوئے اس کو سحرانگیز مگر اندر سے بند دائرہ متصّور کر لیتے ہیں کہ پھر اس کے آس پاس، چاروں طرف نظر دوڑانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ ادبی انعامات کے ذریعے پوری دنیا کے سامنے جو صورت حال سامنے آتی ہے، اس کے بارے میں اکثر ہمارا روّیہ کچھ اس قسم کا ہوجاتا ہے کہ۔ خیر ہمیں کیا اس سے!

دنیا کی کسی زبان کا شعر و ادب اس مجموعی صورت حال سے لاتعلق یا بے خبر نہیں رہ سکتا۔ اس کے علاوہ، صورت حال سے بے خبر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ براہ راست یا بالواسطہ وہ اثر انداز نہیں ہوگی۔ جس اثر و نفوذ سے آپ آگاہ نہ ہوں اور وہ آپ کے خدوخال کو اپنے رنگ میں رنگتا چلا جائے، وہ ہلاکت خیز بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ معاملہ جتنا پیچیدہ ہے اسی قدر فوری توجّہ کے لائق اور اپنے اثرات میں مسموم۔ اس پر توجّہ ضروری ہے لیکن اس وقت میں اس معاملے کی اہمیت کی نشان دہی کرنے کے علاوہ اس مقالے کو حالیہ نوبیل انعام پر مرکوز رکھوں گا جو اپنی مالی نوعیت اور اہمیت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے توجہ طلب ادبی انعام ہے مگر اس کے معیارات اور اس کے اثرات متعیّن ہونے کے باوجود اب اس بری طرح متزلزل ہوگئے ہیں کہ اس جیسے ادبی اجتماع میں ان کی بابت سوال اٹھانا لازمی ہوگیا ہے۔

اسی سے وابستہ و پیوستہ معاملہ مجھے ادبی انعامات کے غیر ادبی معیار کا بھی معلوم ہوتا ہے جو ابھی چند دن ہوئے بڑی شدومد سے اٹھا۔ ان دونوں معاملات کی بازگشت ہمارے مروّجہ ادبی و قومی بیانیے کے لیے محض دور کی آواز رہی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ بات اب دُہرانے کی ضرورت نہیں کہ عالمی منظر میں جس قسم کے ثقافتی واقعات رونما ہو رہے ہیں، ان پر توجہ کی کمی ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔ جذباتی شدّت کے ساتھ نہیں بلکہ فہم و شعور کے ساتھ جاننے، سمجھنے کی ضرورت۔ ہم عالمی سطح کے بیانیے کو نظر انداز کر سکتے ہیں مگر اپنے آپ کو اس کو لپیٹ میں آنے سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔

ان دونوں معاملات کا کسی قدر تذکرہ کرنے سے پہلے میں اس بات کی طرف اشارہ ضرور کرنا چاہوں گا کہ اس کانفرنس میں ہر سال نظر آنے والے جوش اور ولولے کے باوجود یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ اردو کا دائرہ اثر سکڑتا جارہا ہے اور اس پر توجّہ دینے کی ضرورت ہے۔ زبان سے واقفیت ہرچند کہ اعداد کے مطابق بڑھ رہی ہے مگر اس کا اثر ادب کے فروغ و نمود کی صورت میں کیوں ظاہر نہیں ہو رہا؟

اس سوال کے بھی متعدّد پہلو ہو سکتے ہیں لیکن میں اس وقت محض اسی رُخ کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا کہ ہمارے ذرائع ابلاغ پر ادب کی جو شکل نظر آرہی ہے وہ اپنے اصل خدوخال سے محروم ہوکر تکلیف دہ بلکہ مکروہ معلوم ہونے لگی ہے۔ یعنی ادبی معیار و اسناد سے ہماری موجودہ ثقافتی یا ثقافت کے نام پر پیش کی جانے والی پروڈکشن اس درجے سے بھی نیچے کس طرح گر گئی ہے جس کو میری عمر کے لوگوں میں سے بیش تر نے اپنی آنکھوں سے جاری و ساری دیکھا تھا اور اپنے دل دماغ سے سراہا تھا۔

زبان و ادب کا دائرہ کس طرح سکڑتا ہے اس کی ایک اورشکل پچھلے دنوں سامنے آئی ہے جب ایک دوسرے سے مُنھ موڑے ہوئے دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کتابوں کی ترسیل پابندی کا شکار ہو گئی۔ ایک طرف پوری دنیا میں اطلاعات اور خبر رسانی میں سرعت کا وہ عالم ہے کہ پل بھر کی خبر لمحوں میں پوری دنیا میں گردش کرنے لگتی ہے مگر نہیں آ سکتی تو ہندوستان سے اردو کی کتاب یا رسالہ۔ کہیں سے اشاعت کی خبر مل جائے تو دل مسوس کر، ہاتھ ملتے ہوئے رہ جایئے گا۔ اس کا ذمہ دار ایک ملک ہے یا دونوں مگر غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ادب کی وقعت پر غور کیجیے کہ پان چھالیہ اور مصالحوں سے لے کر فلموں کے کیسیٹ سبھی کچھ نامعلوم طریقے سے سرحد پار کر لیتے ہیں۔ ہندوستان کے خام مواد کے بغیر پاکستان میں بعض دوائیں نہیں بن سکتی ہیں۔ یہ بین الاقوامی تجارت کا نہیں انسانی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔ کتابوں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے، وہ تجارتی ترجیح میں نہیں آتی ہیں۔ یہاں میری مراد اردو کی کتابوں سے ہے کیونکہ انگریزی کی کتابیں گھوم پھر کے کہیں نہ کہیں سے پہنچ جاتی ہیں یا پہنچا دی جاتی ہیں۔ اردو کی کتاب غالب بھی نہیں، میر کے زمانے کے معشوق کا خط ہوگیا کہ سرحد امکان سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔

kamila shamsie

اس ذکر گوں صورت حال میں ”عالمی“ کا لفظ ہمیں زیب نہیں دیتا لیکن میں پھر بھی اپنی ضد پر اڑا رہوں گا اور عالمی ادبی انعامات کی بات کروں گا۔ چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ کی جانب سے شاعرہ نیلی ساخش کے نام پر دیا جانے والا ادبی انعام پاکستانی نژاد ادیبہ کاملہ شمسی کو تفویض کیا گیا پھر تھوڑے ہی عرصے میں انعام کی منسوخی کا اعلان بھی سامنے آگیا۔ کاملہ شمسی کو انعام کی مستحق ایسی لکھنے والی کے طور پر کیا گیا تھا جو انعام کے اعلامیے کے مطابق مختلف معاشروں کے درمیان پل تعمیر کرتی ہیں، رواداری اور مفاہمت اور مختلف معاشروں کے درمیان ثقافتی تعلقات استوار کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہیں۔ اس انعام کی منسوخی کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ کاملہ شمسی نے 2014 میں اسرائیل کی فلسطین دشمن پالیسی کی مذمّت کرنے والی تحریک BDS یعنی Boycott، Divertment Sanctions تحریک کی حمایت کی تھی لہٰذا انعام کی محرک اقدار کی نفی ہوگئی ہے۔

بہت پُر اعتماد اور مدلّل لہجے میں کاملہ شمسی نے اپنے موقف کا دفاع کیا اور انعام کی جیوری پر الٹا اعتراض کر دیا کہ ایک غیر تشدد تحریک کی حمایت پر ان کو سزا دی گئی۔ کاملہ شمسی کی حمایت میں لندن ریویو آف بکس نے باقاعدہ ایک کُھلا خط شائع کیا جس میں عہد حاصر کے بڑے مُعتبر ادیبوں کے دستخط تھے۔ ان کے مطابق ایک ادیب کے انفرادی حقوق بھی ہوتے ہیں اور کاملہ شمسی کو اس طرح سزا دے کر ان حقوق کو پامال کیا گیا۔

پاکستانی نژاد ادیبہ کاملہ شمسی انگریزی میں لکھتی ہیں، اردو کی ادیبہ نہیں ہیں۔ مگر ان کے خلاف چلائی جانے والی یہ مہم ہمارے لیے معنی سے عاری نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح اپنی شخصی رائے رکھنے پر کسی ادیب کو مطعون کیا جاسکتا ہے؟ کیا ہمارا معاشرہ بھی دنیا کے د وسرے آزاد معاشروں کی طرح اس کو یہ حق دینے کے لیے تیار ہے۔ سعادت حسن منٹو پر فحاشی کے الزام میں مقدمہ چلانے والے معاشرے میں اور ایسے بے سروپا الزامات میں کئی لکھنے والوں پر دباؤ ڈالنے والے معاشرے میں یہ سوال زندگی اور موت کے بنیادی حق کی طرح ہے۔ لکھنے والے کی موت اور زندگی جو لکھتے رہنے کی صورت میں زندگی ہے اور پابندی کی صورت میں موت۔ ڈورٹمنڈ شہر کا انعام کی منسوخی کی فیصلہ آزاد ئی اظہار پر حملہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ سوال رہ رہ کر مجھے تنگ کرتا ہے کہ کتنے ہی لکھنے والوں کو ہم یہ سزا دے چکے ہیں۔

ادیب کے کام کی استقامت، اس کی تخلیقی و فکری آزادی۔ یہ سب معاملات ہمیں دور کی باتیں اور اپنے ادبی کلچر سے جس قدر غیر متعلق نظر آتے ہیں، اتنے کسی بھی طرح نہیں ہیں۔ ادیب کی سالمیت دراصل پورے ادبی کلچر کی استقامت کا معاملہ ہے۔ یہ کلچر ادیب کے بل بوتے پر قائم ہے، ادیب اس کا پابند اور اسیر نہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •