ادب اور انعامات کی عالمی سیاست

ادیب کی فکر آزادی کا ادّعا جتنا آسان معلوم ہوتا ہے، اس میں عملی دشواریاں اتنی ہی زیادہ اور گنجلک ہیں۔ معاملہ سیاست کی زد میں آکر کس طرح الجھتا ہے، وہ کاملہ شمسی کے اس معاملے میں سیاسی صف آرائی سے ظاہر ہے۔ پاکستانی نژاد خاتون ادیب کے خلاف محاذ آرائی میں اسرائیل کے حمایتی پورے جوش و جذبے سے کود پڑے اور مورچے سنبھال لے۔ یوروپ کے ذرائع ابلاغ کے بہت سے روّیے ہیں جن کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ وہ کیا نقطۂ نظر اختیار کریں گے۔ اور ان کے جواب میں مخالف سمت سے مگر ان سے بھی زیادہ شدّت کے ساتھ ہمارے میڈیا کا روّیہ کیا ہوگا، اس کا اندازہ بھی لگانا مشکل نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اس معاملے میں خود نہیں پڑے ورنہ سازش کی بو سونگھ کر چیخنا چلّانا اور منھ میں جھاگ لے آنا اس کے لیے دور ازکار نہیں۔
ادیب کی آزادی کا یہ سیدھا سادہ نعرہ بعض مرتبہ پانی کو کس قدر گدلا کر دیتا ہے، اس کا اندازہ نوبیل انعام کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے۔ اپنی گرتی ہوئی کارکردگی کی وجہ سے نوبیل انعام کی ادبی وقعت میری نظر میں برائے نام رہ گئی ہے لیکن برقی ذرائع کی چکاچوند میں یہ انعام اس قدر زور و شور سے سامنے آتا ہے کہ اس سے آنکھیں بند کر لینا یا راہ فرار اختیار کرنا ممکن نہیں۔ اب دنیا ہمارے ساتھ نہیں ہمارے اعصاب پر پوری طرح مسلّط ہے۔ اس انعام کا غلغلہ ہوا، خیالی گھوڑے دوڑے، امیدیں بندھیں اور پھر وہی بے مزہ یکسانیت جس کا پہلے سے اندازہ لگا لینا ممکن تھا۔
اس سے پہلے کہ میں اس بار کے نوبیل انعام کا ذکر آگے بڑھاؤں، یہ نشاندہی ضرور کرنا چاہوں گا کہ اس انعام کا تھوڑا بہت جتنا بھی تذکرہ ہمارے ہاں ہوتا ہے وہ مغربی میڈیا کی عطا ہے۔ انعام حاصل کرنے والے ناموں اور غیر مرئی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں سے ہماری براہ راست واقفیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہر دو اقسام کے ادیبوں کے تخلیقی سروکار، ان کے اختیار کردہ بیانیہ پیرائے اور ان کا فکری و فنّی سفر ہمارے لیے دور کے ڈھول ہیں جن کی گردان ہم اس وقت شروع کرتے ہیں جب مغربی میڈیا سے ان کے نام گھن گرج کے ساتھ گونجنا شروع ہوجاتے ہیں۔ کتابوں کی اشاعت اور ترجمے کے ذریعے تعارف اور پھر براہ راست واقفیت کے مرحلے ہمارے لیے ان جانے اور بن دیکھے رہ جاتے ہیں۔
کتابوں کی اشاعت کی خرابی اور کساد بازاری ایک مستقل کیفیت ہے جس کے بارے میں ہم گفتگو سے گریز کرتے ہیں گویا یہ مستقل اور اپنی جگہ قائم ہو۔ ادبی اداروں کی کارکردگی یا تخلیقی معاملات میں تجسّس بھی مشروط اور پابند ہیں۔ چند رسالوں کے مدیر اپنی استطاعت اور شوق کے مطابق ایسے تعارف کو حرزجاں بنائے رہتے ہیں۔ جن میں اجمل کمال صاحب کی زیر ادارت نکلنے والے آج کا ذکر میں ضرور کرنا چاہوں گا، پھر امید بندھی ہے کہ کاشف رضا کے زیر ادارت شائع ہونے والے ”کراچی ریویو“ سے یہ سلسلہ آگے بڑھے۔ لیکن یہ بہرحال دو ایک رسالے ہیں۔ اور چند با افراد کی ہمّت کے داد طلب۔ ترجمے اور ادبی آگہی کی کوئی کاوش ہمارے ہاں منضبط اور باقاعدہ کارروائی نہیں بننے پاتی۔ ہماری ترجیحات کا رُخ کسی اور سمت ہے۔
ہوا کے رُخ کا گلہ شکوہ کرنے کے بجائے میں نوبیل انعام کی طرف واپس آتا ہوں کہ اس میں بہرحال عافیت ہے۔ اس مرتبہ کا انعام دوگونہ تھا کہ خاموشی کے ایک وقفے کے بعد دیا گیا۔ پچھلے سال کی غیر حاضری کی وجہ بتائی گئی کہ سوئیڈن کی اکادمی ادبیات میں بدعنوانی اور جنسی ہراس کا معاملہ بہت بڑھ گیا تھا، اس حد تک کہ اسکینڈل کی شکل اختیار کر گیا۔ ضرور ایسا ہوا ہوگا، ذرائع ابلاغ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ ایسے معاملے ہمارے لیے اجنبی یا بے گانہ نہیں ہیں۔ میرے لیے اس سے بھی بڑا اسکینڈل یہ ہے کہ اکادمی بعض بڑے اور معتبر ناموں کو نظر انداز کرتی چلی آئی ہے اور یوروپ کو مرکز نگاہ بناتے ہوئے باقی پوری دنیا سے نگاہیں چراتی رہی ہے، اس کا پانی سر سے اونچا ہوا جارہا ہے اور اس بارے میں روّیے درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

سوئیڈن کی اکادمی نے، جیسا کہ اکادمیوں کا وطیرہ ہوتا ہے، بظاہر بڑے فراخ دلانہ انداز میں غلطیوں کا اعتراف کیا (عمومی طور پر) اور آئندہ ان کو نہ دہرانے کا وعدہ کیا۔ ہم ایسوں کی خوش گمانیاں دھری کی دھری رہ گئیں جب ایک نہیں، دو سال کے انعام کا اعلان ہوا۔ قیاس آرائی کا سلسلہ دراز تھا اور اس میں جاپان کے ہاروکی موراکامی، یوگنڈا کے نگوگی وا تھیونگ او، کینیڈا کی مارگریٹ ایٹ وڈ اور عربی زبان کے جلا وطن شاعر ادونیس نمایاں تھے۔ البانیہ کے اسماعیل کاوارے اور چیک جمہوریہ کے میلان کنڈیرا کا ذکر ہی نہیں کہ ان کو میرے حساب سے یہ انعام بہت پہلے مل جانا چاہیے تھا۔ مگرمعاملہ الٹا ثابت ہوا۔ اعلان ہوا کہ اس بار کے انعامات کا مستحق پولینڈ کی خاتون ناول نگار ادلگا توکار چک اور جرمنی کے پیٹر ہینڈکے کو قرار دیا گیا۔ بس پھر کیا تھا۔ تائید و تردید کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔
اس بحث میں تیزی و تندی اس لیے بھی آئی کہ دونوں ادیب انگریزی میں اس درجہ معروف نہیں تھے جس قدر کہ بعض ایسے ادیب جن کے نام لیے جارہے تھے۔ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ انگریزی کے نشر و اشاعت کے ذرائع، وہ انگلستان میں ہوں یا پھر امریکا میں، ترجمے شائع کرنے میں نسبتاً کم دل چسپی رکھتے ہیں۔ ہماری مصیبت یہ ہے کہ اس کے باوجود بین الاقوامی ادب کے لیے انحصار ہمیں زیادہ تر انگریزی پر ہی کرنا پڑتا ہے۔ باہر کی طرف کھلنے والے دریچے ہم نے بڑی حد تک بند کر رکھی ہیں۔ اور اس کے بعد اندر کے منظر کو اچھی طرح دیکھ سکے ہوں، ایسا بھی نہیں ہوا۔ کہیں درمیان میں لٹکے ہوئے ہیں۔
اس مرتبہ انعام کے سزاوار دو ادیبوں میں سے پولش ادیبہ اولگا توکارچک کا نام انگریزی حلقوں میں کسی قدر جانا پہچانا تھا۔ اس لیے کہ اس سے پہلے ان کے ایک ناول کو مین بوکر بین الاقوامی ادبی انعام کے لیے نام زد کیا گیا۔ یہ تعارف بھی انعام کی بدولت سہی، لیکن ایک کتاب عام دستیاب تھی۔ مشکل پیٹر ہینڈ کے ساتھ ہوئی کہ یہ جرمن ادیب اپنے نسل پرست روّیے کے لیے بدنام ہوچکا ہے۔ اس نے بوسنیا کی جنگ میں علی الاعلان ان لوگوں کی حمایت کی جو نسل کشی کے مرتکب قرار پا چکے ہیں۔ نہ صرف حمایت بلکہ اس وقت کے صدر کے جنازے میں شرکت کے ذریعے ان کی پالیسیوں کی توثیق۔ اس سے پہلے اپنے مختلف بیانات میں پیٹر ہینڈکے خود نوبیل انعام کو ختم کرنے کی تجویز پیش کر چکا ہے۔ اس کی باقی باتوں سے قطع نظر اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت آ چکا ہے۔
معاصر جرمن ادب میں ہینڈکے جس مقام کا مستحق ہے، ادبی معیارات کے علاوہ معاملہ زندگی کی اخلاقی اقدار کا بھی ہے۔ نسل کشی کی علی الاعلان حمایت کرنے والا ادیب بین الاقوامی انعام کا مستحق کس طرح قرار پا سکتا ہے؟ کیا جرمنی کے ناتسی ماضی کو اس عرصے میں نوبل انعام کے منصفین بھول گئے؟ کیا وہ توقع رکھتے ہیں کہ باقی ساری دنیا بھی بھول جائے؟ جب جنسی ہراس کے حالیہ معاملہ سے پہلے یہی لڑائی نوبیل انعام کی عارضی بندش کی وجہ بھی بن گئی تھی۔
پیٹر ہینڈ کے کے لیے ادیب کے انفرادی خیالات کی آزادی کا دفاع پیش کیا گیا، وہی آزادی کاملہ شمسی کے لیے قرار واقعی کیوں نہیں سمجھی گئی؟ دونوں معاملات میں اتنا واضح تضاد کیوں ہے۔ کیا اس لیے کہ کاملہ شمسی انگریزی میں لکھنے کے باوجود کسی طرح سے مختلف ہیں۔ کیا اس وجہ سے ان کو الگ معیارات سے جانچنا ہوگا۔ اس کا فیصلہ کون کرے؟
ہمیں سب سے پہلے نوبیل انعام اور دوسرے بین الاقوامی اداروں کو پوری طرح سے عالمی کرنا ہوگا۔ پوری نوع انسان کا، دنیا بھر کی زبانوں کے ادب کا نمائندہ۔ عالمی کے ساتھ جُڑ جانے یا جوڑ دیے جانے کے بعد ہمیں بھی اس جیسے ادبی و ثقافتی معاملات میں اپنی آواز اٹھانا ہوگی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عالمی کے معنی ہماری شمولیت کے بغیر متعیّن ہونے کے بعد مستحکم ہوجائیں۔ عالمی سطح کے اس ڈرامے میں خاموش تماشائی کا کوئی کردار نہیں ہے۔
(بارہویں عالمی اردو کانفرنس، دسمبر 2019 )

