ہمارا عذاب
گزشتہ دنوں ایک خبر نظر سے گزری کہ دادو کے گاؤں میں ایک کم عمر لڑکی کو جرگہ نے کاروکاری کے الزام میں سنگسار کر دیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس کے والدین نے اس کا رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ کسی نے یہ بھی کہا کہ یہ خبر درست نہیں لیکن پھر کل ٹی وی پر ایک تشدد زدہ لاش کی قبر کشائی کی خبر تھی اور بتایا گیا کہ پوسٹ مارٹم اور ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق ہوگی کہ یہ متعلقہ بچی کی لاش ہے۔
مجھے اس خبر سے پرائمری جماعت میں پڑھا ہوا سبق عرب میں اسلام کا ظہور یاد آ گیا کہ جس میں تحریر تھا کہ اسلام سے پہلے عرب میں ہر طرف جہالت کا دور دورہ تھا۔ بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے۔ عورتوں پر ظلم ان کے حقوق کی سرکوبی، شراب، جوا، لوٹ مار اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑے عام تھے۔ مگر اسلام آ یا اور سب کچھ بدل گیا۔ اسلام اور ہمارے نبی کی تعلیمات نے اس قوم کو جو برس ہا برس سے ان عادات میں ان فرسودہ رسم ورواج میں جکڑی ہوئی تھی سدھار دیا۔
لیکن آ ج ہمارے معاشرے میں ہونے والے واقعات اس بات کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ ہم اس زمانہ جاہلیت میں پھر داخل ہو چکے ہیں۔
آ ج ہمارے نبی کی سنت، قرآن اور علماء مشائخ کی تعلیمات ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہم خود کو مسلمان کہتے اور کہلواتے ہیں لیکن کیا ہمارے اعمال سے کہیں سے بھی یہ ثابت ہے کہ ہم ایک اسلامی معاشرے اور ریاست کے رہنے والے ہیں۔
آ ج کہیں عورتوں کی تذلیل، ان کے حقوق کی سرکوبی ہے تو کہیں معصوم بچے بجیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات، کہیں دن دہاڑے سڑکوں پر لوٹ مار اور قتل کی وارداتیں ہیں تو کہیں گھر میں گھس کر عورتوں کی عصمت دری اور ڈکیتیاں۔
اگر کوئی یہ کہے کہ جی سب طرف ایسا نہیں تو میں کہوں گی کہ آ پ غلط کہہ رہے ہیں۔ حقیقت کو مسترد کرنے سے وہ بدل نہیں جاتی یہ حال ہمارے پورے معاشرے کا ہے چاہے اس کا تعلق دیہات سے ہو یا شہر سے۔ ہاں نوعیت اور شدت میں کمی یا زیادتی موجود ہے۔ دیہات میں دیہی اور شہری طبقہ استحصال کا شکار ہے اور خود بھی اس کا حصہ اور ذمہ دار۔
کیا ہم دوبارہ جہالت کے ان اندھیروں میں نہیں چھپ رہے۔
ہم خود کو ایک طرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی گردانتے ہیں کہ جس کی شفاعت کا وعدہ ہوچکا، جس کے نبی راتوں کو اپنی امت کے لئے روتے تھے۔ جس پر کبھی عذاب نہیں آ ئے گا۔ لیکن سچ کہوں تو ہم مجموعی طور پر اخلاقی، مذہبی، معاشی اور معاشرتی پستی کی طرف گامزن ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں ہماری خام خیالی ہے کہ ہم پر عذاب نہیں آ رہے یہ بے وقت اور موسم کی بارشیں، ٹڈی دل، زلزلے، سیلاب، ظالم اور کرپٹ جاگیردا ر، مہنگائی، لوٹ مار، نفسانفسی وغیرہ وغیرہ۔
کیا یہ سب عذاب نہیں؟ کیا ہم اس عذاب کے انتظار میں ہیں جو ہماری آ بادیوں کو پلٹ کر ہمارا نام و نشان مٹادے یا ہمارے چہرے مسخ کر کے ہمیں عبرت کا نشان بنا دے۔ ذرا سوچئے۔


