مہلت ختم ہورہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پہ وکلاء کی تصاویر گردش کررہی تھیں۔ جن میں یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ وکلاء پر لاہور کے ایک سرکاریہسپتال کے ڈاکٹرز اور ان کے عملہ کی طرف سے تشدد کیا گیا ہے۔ اس کے بعد کئی وکلاء دوستوں نے اپنے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمزسے ڈاکٹر حضرات کو باقاعدہ للکارنا شروع کردیا کہ آؤ ہم تمہارا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آئی جی آفس، پنجاب سیکریٹریٹ کے سامنے وکلاء کے احتجاج سے چلتے چلتے بات آج اسی ہسپتال یعنی پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی پر دھاوے تک پہنچ گئی۔ جس کی صورت میں وہ واقعہ رونما ہوگیا جس کی کوئی بھی توجیح نہیں مانی جا سکتی۔ اس بدنما اور باعثِ شرم واقعہ کا نتیجہ کئی بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں اور سرکاری و غیرسرکاری املاک کے نقصان کی صورت میں نکلا۔

یہ کہانی ان لوگوں کی ہے جو کہ ارضِ پاک کے ان خوش قسمت تین فیصد لوگوں میں شامل ہیں جو کہ بارہویں جماعت کے بعد کسی کالج یایونیورسٹی میں پہنچ کر اعلٰی تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ اس سے زیادہ اذیت ناک اور شرمناک تصویر شاید ہی کوئی اور ملک پیش کر سکے۔ اگرپڑھ لکھ کر ایک دوسرے کو نیچا ہی دکھانا ہے۔ یا اپنے اپنے گروہ و برادری کے اتحاد کے نعرے لگا کر اپنے حقوق کے تحفظ کے نام پردوسروں کو بے عزت کرنا ہی مقصد ہے تو پھر حکومت کو کوسنے کا کیا فائدہ بھائی۔

وطنِ عزیز کی بدقسمتی یہ کہ ہے یہاں ہر کوئی اپنی ذات اور اپنے گروہ کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔ چاہے وہ ہمارے وکلاء بھائی، ڈاکٹر صاحبان یا کاروباری برادری ہو جو سر عام یہ کہتے ہیں یا پھر اسٹیبلیشمنٹ، سول بیوروکریسی، صحافی اور سیاستدانوں سمیت ملک کی اشرافیہ ہو جو خاموشی سے یہی کام کرتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان سب میں سے کوئی بھی غیر تعلیم یافتہ نہیں ہوتا۔

ہاں یہ کہانی شروع سے ہی ایسے ہے۔ مگر اب تبدیلی یہ آگئی ہے کہ ہم میں برداشت نہیں رہی۔ ہمارے رویوں میں تشدد آگیا ہے۔ ہم نہ تو کسی کی بات سن کر راضی ہیں اور نہ ہی اپنا مدعا بیان کرنا آتا ہے۔ نہ کہنے کا حوصلہ ہے اور نہ ہی سننے کا۔ اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہم استاد صاحب کو بھی نہیں بخشتے۔ آج کل ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں چند نوجوان ایک باعزت آدمی کو مار رہے ہیں جبکہ وہ فریاد کررہا ہے کہ بھائی میں ایک استاد ہوں مجھے چھوڑ دو۔ لیکن کوئی شنوائی نہیں۔

آخر یہ کب تک چلے گا؟ شاید اب زیادہ دیر نہ چلے۔ مرضی ہماری اپنی ہے۔ باز آنا ہے یا صفحہ ہستی سے مٹنا ہے۔ عام آدمی پریشان حال ہے۔ وہ نا امید ہو چکا ہے اس نظام سے اور اس کے سب کرداروں سے۔ اب تو لوگوں نہ یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ اس ملک کو جتنانقصان پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا ہے شاید ان پڑھ نہ پہنچا سکتے۔

بھلا اس طرح کے ماحول میں کسی کو سازش کرنے یا ففتھ جنریشن وار وغیرہ شروع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہم خود اپنے خلاف سازش کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ ہم سے بیشتر اپنے کام کے علاوہ دنیا جہاں کے کاموں کے ماہر ہوچکے ہیں۔ اگر نہیں پتہ تو اپنے متعلقہ کام کا نہیں پتہ۔ یہی وجہ ہے ہر کوئی دوسرے پر چڑھ دوڑتا ہے۔ دوسروں کے کاموں میں دخل اندازی اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔ جس سے ہمارے حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔

دیکھتے ہیں کہ یہ غبارہ کب پھٹتا ہے ہاں مگر ایک بات طے ہے کہ مہلت ختم ہورہی ہے۔ اب یہ سب کچھ زیادہ دیر چلنے کا نہیں۔ اللہ پاک وطنِ عزیز کو اپنے کرم سے ہر قسم کی آفت سے محفوظ رکھے لیکن حالات کوئی اچھی نوید نہیں دے رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •