فلسطین: اب ابابیل ہی بھیج یا رب

گزشتہ دو تین دنوں سے اسرائیل کی نہتے فلسطینی بھائیوں پر تازہ دہشت گردی کی ویڈیوز سوشل میڈیا کے توسط سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ دیکھ کر دل خون کے آنسوؤں روتا ہے کہ مسلمانوں پر قبلہ اول میں تراویح پڑھتے ہوئے یلغار کی گئی۔ اللہ پاک فلسطینی بھائیوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے، آمین۔ کہ ہم فقط دعا ہی کر سکتے ہیں یا سوشل میڈیا پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔ ہم اپنی احتجاجی اور اسرائیل کے لیے بد دعاؤں سے لبریز تحریریں سوشل میڈیا کے سپرد کرتے ہوئے شاید یہ نہیں سوچتے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمان ممالک اپنی عددی برتری کے باوجود آج تک اسرائیل سے قبلہ اول کو واگزار نہیں کروا سکے؟ وجہ کیا ہے؟ باہمی ناچاقی اور خلفشار؟ سرمایہ و وسائل کی کمی؟ اخلاقیات کا فقدان؟ یا جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی میں پستی؟ میرا خیال ہے کہ یہ سب عناصر ہماری موجودہ حالت کے ذمہ دار ہیں۔

Read more

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

ہم اپنی روزمرہ کی زندگی کا مشاہدہ کرتے ہیں، ہمارا واسطہ ہر قسم کے لوگوں سے پڑتا ہے۔ جب بھی ایسے کسی شخص سے واسطہ پڑے جو ہمارے ساتھ انتہائی غیر مناسب رویہ رکھے تو وہ ہمیں بھولتا نہیں۔ ہم نہ تو اس کے رویے کو بھلانا چاہتے ہیں اور نہ ہی اس شخص کو۔ وجہ اس کی شاید یہ ہوتی ہے کہ ہم موقع ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں کہ کب بدلہ چکا سکیں۔ نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ ہم ایسے ہی لوگوں اور ان کے نامناسب سلوک کو اپنی یادداشت میں اس قدر جگہ دے دیتے ہیں کہ نہ تو اچھے لوگوں کے لیے جگہ باقی بچتی ہے اور نہ ہی کسی اچھی بات کے لیے۔

Read more

سرکاری ملازمین، تنخواہ اور بجٹ

ہر سال بجٹ کے موقع پر پاکستان کے اکثر سفید پوش اور کم آمدن والے گھرانوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ سے متعلق بحث شروع ہو جاتی ہے۔ قیاس آرائیاں ہوتی ہیں۔ لوگ امیدیں باندھتے ہیں۔ جو بجٹ کے اعلان کے ساتھ ہی ٹوٹ جاتی ہیں۔ ملازمین جو تھوڑا بہت تنخواہوں میں اضافہ ہوتا ہے اس پر صبر شکر کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور اگلے سال کے بجٹ تک اپنی امنگوں کو لگام ڈالتے ہیں۔

اس سال پچھلے سالوں سے مختلف یہ ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے تنخواہوں و پینشن میں رتی برابر بھی اضافہ نہیں کیا۔ ظاہر ہے حکومت نے یہ فیصلہ اپنے پاس موجود وسائل کو سامنے رکھ کر کیا ہے۔ اس پر وفاقی سرکاری ملازمین کی آہ و بکا ایک قدرتی بات ہے جو کہ اس ناچیز سمیت سب سرکاری ملازمین کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اب اس پر ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا ہے۔

Read more

کورونا ویکسین اور مغربی سازشیں

”سر، سنا ہے کہ بل گیٹس نے کرونا سے متعلق کوئی ویکسین بنوائی ہے۔ اس ویکسین کے ذریعے وہ انسانوں میں کوئی چپ ڈال دے گا جس سے انسان کی ٹریکنگ ممکن ہوگی۔ مزید اس چپ کے ذریعے انسانوں کی سوچ بھی تبدیل کی جاسکے گی۔ اس سے تو لگتا ہے کہ کرونا فقط مسلمانوں کو تباہ کرنے کی ایک یہودی سازش ہے“ ۔ یہ وہ خدشات ہیں جن کا اظہار دفتر کے ایک ساتھی نے میرے سامنے اس عنوان پر میری رائے جاننے کے لیے کیا۔ اس طرح کے خدشات آپ سب تک یقیناً سوشل میڈیا کے توسط سے پہنچ رہے ہوں گے۔

اس کے حوالے سے میں یہاں بھی وہی کہوں گا جو میں نے ان محترم کے سامنے کہا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنا موبائل فون کھولیں۔ اس میں گوگل میپ کی ایپ کھول کر اپنے پروفائل سے ٹائم لائن دیکھیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور حیران رہ گئے۔ گوگل کے پاس پورا نقشہ موجود تھا کہ وہ کب گھر سے نکلے اور کس رستے سے کب دفتر پہنچے۔ تو بھائی جہاں تک ٹریکنگ کا تعلق ہے وہ ہم سب کی پہلے سے ہو رہی ہے۔ جب آپ کسی بھی فون میں سم استعمال کرتے ہیں تو آپ کا پتہ معلوم کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔

Read more

مہلت ختم ہورہی ہے

گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پہ وکلاء کی تصاویر گردش کررہی تھیں۔ جن میں یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ وکلاء پر لاہور کے ایک سرکاریہسپتال کے ڈاکٹرز اور ان کے عملہ کی طرف سے تشدد کیا گیا ہے۔ اس کے بعد کئی وکلاء دوستوں نے اپنے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمزسے ڈاکٹر حضرات کو باقاعدہ للکارنا شروع کردیا کہ آؤ ہم تمہارا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آئی جی آفس، پنجاب سیکریٹریٹ کے سامنے وکلاء کے احتجاج

Read more

اخلاقی اصلاح اور ویلینٹائن ڈے کی سسٹرز ڈے میں تبدیلی

آج کل میری مادرِ علمی جامعہ زرعیہ (یونیورسٹی آف ایگریکلچر) فیصل آباد کی انتظامیہ کے 14 فروری کو ”ویلینٹائن ڈے“ کو ”یومِ ہمشیرہ یعنی سسٹرز ڈے“ کے طور پر منانے کے فیصلے کی گونج ہر سو سنائی دے رہی ہے۔ کہا یہ گیا ہے کہ اس اقدام کا فیصلہ معاشرے اور جامعہ میں اسلامی اقدار کے تحفظ و ترویج کو پیشِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ اس اعلان کو لے کر ہر کوئی اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا ہے خواہ مقامی میڈیا ہو یا عالمی میڈیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یار لوگ سوشل میڈیا پہ اس کے حق اور مخالفت میں تاویلیں دے رہے ہیں۔ جامعہ کے ایک سابق طالب علم ہونے کے ناتے سوچا کہ ہم بھی اس بحث میں اپنا مافی الضمیربیان کردیں۔

اس فیصلے پہ رائے زنی کرنے سے بیشتر خیال آیا کہ ”ویلینٹائن ڈے“ کی تاریخ تو جانی جائے۔ مطالعہ کرنے پہ معلوم ہوا کہ یہ دن روم کے ایک عیسائی پادری ویلینٹائن کے نام سے منسوب ہے۔ قصہ یوں ہے کہ بادشاہِ وقت نے شادی کرنے پہ پابندی لگائی ہوئی تھی۔ توجیہ اس کی یہ دی گئی کہ اس طرح سے مرد حضرات کی حربی صلاحیتوں کو گزند نہیں پہنچے گی۔ لگتا ہے کہ بادشاہ کے مشیران یا تو ناکام و نامراد عاشق تھے یا پھر بیویوں سے کچھ زیادہ ہی تنگ آئے خاوند تھے۔

Read more