طلاق کا حق اور معاشرتی بے حسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی معاشرے میں طلاق کا لفظ کسی گالی سے کم نہیں ہے۔ یہ لفظ ہمارے معاشرے میں کسی لڑکی کے خاندان اور متاثرہ لڑکی کے لئے وبال جان بن جاتا ہے کیونکہ ہمارے یہاں عموما عورت کو ہی طلاق کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ معاشرے کی سوالیہ نظریں اور بولتی زبانیں جس طرح اس کے کردار کو گھیرتی ہیں اس کا آپ اور میں تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ طلاق خاندانوں کے ٹوٹنے اور ان کی بدنامی کا سبب بنتی ہے تو اس سے بہت سے سماجی، نفسیاتی اور معاشی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں، جن کا زیادہ تر شکار خواتین اور ان کے گھر والے ہوتے ہیں۔

بات درست ہے کہ طلاق کو ہمارے معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ بہتر تو یہ ہے لڑائی جھگڑے اور غلط فہمیوں کو مل بیٹھ کر گفتگو کے ساتھ حل کیا جائے لیکن کوشش کے باوجود حالات بہتر نہ ہوں اور تعلق نہ بن پائے تو طلاق کے ذریعہ علیحدگی میں ہی بہتری ہے۔ اور یہ کوئی عیب نہیں۔ ، مگر معاشرتی رویوں کا شکار صرف عورت ہی کیوں؟

شادی ایک ایسا بندھن ہے جس کا آغاز خوشیوں بھرا ہوتا ہے۔ ایک عورت کے اپنے ازدواجی زنگی کو لے کر کئی خواب ہوتے ہیں اور انہی خوابوں کو وہ اپنے ساتھ لے کر پیا گھر سدھارتی ہے، مگر پھر ایسا کیا ہوتا ہے کہ خوشیوں اور محبت بھرا گھر کانچ کے شیشے کی طرح ٹوٹ جاتا ہے اور ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھانے والے ایک دوسرے کے وجود کو بھی برداشت نہیں کر پاتے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان جیسے معاشرے میں طلاق کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور زیادہ تر کیسز میں طلاق کی مانگ بھی خواتین کی طرف سے ہے؟

طلاق کی شرح میں اضافے کی ایک بڑی وجہ عدم برداشت ہے۔ میاں بیوی جیسے نازک رشتے میں تو برداشت کا مظاہرہ نہایت ضروری ہے۔ طلاق کے اسباب پر غور کیا جائے تو اکثر طلاق ان باتوں سے واقع ہوتی ہیں، جیسے میاں بیوی کا ایک دوسرے کے معیار پر پورا نہ اُترنا، ضرورت سے زیادہ جہیز کا مطالبہ کرنا، شکوک و شبہات، شوہر بیوی کے رشتہ کی اہمیت کا عدم احساس، اناپرستی، میکہ والوں کی بے جا مداخلت، حکومتی قوانین کا غیر متوازن ہونا، ذمہ داریوں سے فرار، فریقین کے رشتہ داروں کی بے جا مداخلت، کانسلنگ کی کمی، بیوی کا شوہر کے اختیارات میں مداخلت کرنا مثلاً کاروبار، معاش، وراثت یا شوہر کے رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی میں داخل اندازی کرنا، میکہ میں چھوٹی چھوٹی باتیں بتاتے رہنا، سسرالی رشتہ داروں سے عناد رکھنا اور آرام پسندی وغیرہ۔

ہمارے یہاں بچپن سے ہی لڑکی کو سمجھایا جاتا ہے کہ تم پرایا دھن ہو، ایک دن آئے گا جب تم اپنے باپ کا گھر چھوڑ کر اپنے شوہر کے گھر چلی جاؤ گی۔ اسی لئے لڑکی کی تربیت بھی اسی طرح کی جاتی ہے، اسے سسرال میں رہنے کے گن سکھائے جاتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ کس طرح اپنے شوہر اور اس کے گھر والوں کے ہر حکم پر ہاں کہنا ہے۔ اسی طرح لڑکوں کی تربیت کی جاتی ہے، انہیں اپنے خاندان میں افضل محسوس کرایا جاتا ہے، بہنوں کی نسبت انہیں زیادہ لاڈ اور نازوں میں پالا جاتا ہے، انہیں بتایا جاتا ہے کہ تم مرد ہو اور عورت سے زیادہ طاقتور ہو، تم نے گھر اور نسل کو چلانا ہے اس لئے اپنے آپ کو عورت سے بہتر جانو۔

اور پھر یہی ہوتا ہے مرد خود کو حاکم اور عورت کو اپنی رعایا سمجھتے ہیں، ان مردوں کو پورا حق ہے وہ اپنی رعایا کے ساتھ جیسا مرضی سلوک روا رکھیں، انہیں ماریں پیٹیں، گالم گلوچ کریں یا ان کی کردار کشی، آخر وہ مرد ہیں، عورت کا سرتاج ہیں اور عورت ان کے لئے کیا ہے؟ شاید پاؤں کی جوتی۔ کیونکہ عورت کو بھی یہی سکھایا جاتا ہے کہ وہ تمہارا شوہر ہے، اس کا حق ہے تم پر۔ اور رخصت ہونے کے بعد کبھی شوہر سے لڑ کر ماں باپ کے دروازے پر مت آنا، پاب کی عزت، بھائی کی عزت اور شوہر کی عزت یہ سب تو عورت کے ہاتھ میں ہی ہوتی ہے۔

نا جانے لوگ کب سمجھیں گے کہ عورت انسانیت کی معمار ہے۔ اسلام نے عورت کو ہر رشتہ میں معزز مقام عطا کیا ہے، چاہے وہ رشتہ ماں کی صور ت میں ہو یا بیٹی کی، بہن کی شکل میں ہو یا بیوی کی، کوئی بھی رشتہ ہو، مرد کا تحفظ عورت کو حاصل ہوتا ہے اور ہرحالت میں ہوتا ہے۔ کنواری ہو یا شادی شدہ، طلاق یافتہ ہویا بیوہ۔

اسلام نے انتہائی حالت میں طلاق کی اجازت دے کر گویا میاں بیوی کے لیے زندگی گزارنے کے لیے دوسری راہ اختیار کرنے کی گنجائش رکھی ہے۔ دوسرے مذاہب میں طلاق یا دوسری شادی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے طلاق شدہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اس کے باپ کی ذمہ داری ہے۔ اگر باپ حیات نہ ہوتو بھائی وہ بھی نہ ہوتو چاچا یا کوئی قریبی رشتہ دار اس کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایاکہ میں تم کو یہ نہ بتادوں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟ اس بیٹی پر صدقہ کرنا ہے جو تمہاری طرف مطلقہ یا بیوہ ہونے کے سبب واپس لوٹ آئی اور تمہارے سوا کوئی اس کا نہ ہو۔

اسلام نے عورت کو کسی حال میں بے یاد ومددگار نہیں چھوڑا ہے۔ اس پر معاش کی ذمہ داری نہیں ڈالی اور اس کی دیکھ بھال اور خبرگیری کرنے پر مرد کو اجر کا مستحق ٹھہرایا۔ اکثر طلاق کے بعد طلاق یافتہ عورت کے تعلق سے اس کے محرم رشتہ کوتاہی برتتے ہیں جس کی وجہ سے بات عدالتوں تک پہنچ جاتی ہے اور مخالفین کو انگلیاں اٹھانے کا موقع مل جاتا ہے۔

کوئی مرد کسی طلاق یافتہ عورت سے شادی نہیں کرنا چاہتا اور اگر وہ ثواب کی نیت سے بھی یہ نیکی کرنا چاہے تو معاشرے کا خوف آڑے آجاتا ہے۔ بعض اوقات مرد بیوہ یا مطلقہ سے نکاح کر بھی لیتے ہیں لیکن اس کو رشتہ داروں سے پوشیدہ رکھتے ہیں گویا کہ انہوں نے کوئی ناجائز فعل انجام دیا ہے۔ مسلم معاشرے کی یہی سوچ رہی تو مطلقہ و بیوہ خواتین دوبارہ ازدواجی زندگی کا سکون حاصل کرنے سے محروم رہیں گی۔ کیونکہ اس طرح کی خواتین سے کنوارے لڑکے تو نکاح کرنے سے رہے۔ اگر کیے بھی تو انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ عموماً لڑکوں کو کم سن اور حسین و جمیل لڑکی سے شادی کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔

بس ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم معاشرہ کی سوچ و تہذیب و طریقہ پوری طرح اسلامی ہو ایسی خواتین سے نکاح کرنے کا اجر ہمارے دین میں بھی ہے، اس طرح بہت سی بہنیں اپنی زندگی احساس کمتری اورکسمپرسی کے بغیر باوقار طریقے سے گزار سکیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •