نوترے دیم کا کبڑا اور خواب کی تتلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمارتیں، میوزیم، مصوری، کتابیں،موسیقی، فلمیں! محفل گرم ہو تو گفتگو ان کےاردگرد ہی گھومتی ہے ہمارے یہاں۔

” اماں! معلوم ہے نا آپ کو، اس برس نوترے دیم کلیسا میں آگ لگی تھی۔ کیا خوبصورت عمارت ہے!

مجھے یاد ہے آگ سے کچھ ہی ہفتے پہلے تو ہم وہاں گئے تھے۔ ہم نے سامنے بیٹھ کے کافی پی تھی اور بہت دیر تک نوترے دیم کی گلاب کھڑکیوِ ں کی خوبصورتی کو سراہا تھا “

بیٹی افسرده تھی کہ صدیوں پرانے گوتھک آرٹ کے نمونے کو آگ سے نقصان پہنچا تھا۔

میں بھی اداس تھی!

دل چاہا کہ کہو ں یہ تو عمارت تھی، اپنے ہاں تو جل رہی ہیں اپنی اقدار، روایات، رواداری، محبت، اخلاص۔ غم یہ ہے کہ کسی کو غم بھی نہیں۔

ہم نوترے دیم کے سامنے لمبی لائن میں تھے، ہمیں اندر جانا تھا۔ ہمارا بیٹا حیدر بہت چلبلا تھا اور رینگتی ہوئی قطار اس کو بے چین کیے دیتی تھی۔

“اماں ہم اندر کیوں جا رہے ہیں، چلیں بوٹ میں بیٹھتے ہیں “

اس کا اشارہ دریائے سین میں چلنے والے سٹیمرز کی طرف تھا ۔

اب اس کو کیسے بتاتی کہ یہ وہ عمارت ہے جس کو اب تک میں نے وکٹر ہیوگو کی نظر سے دیکھا ہے۔ میں نے وکٹر کی طرح اس سے محبت کی ہے، کتاب اورتخیل ساتھ ساتھ چلا ہے۔ میں بڑی مدت سے اس معبد کو دیکھنا چاہتی تھی جہاں کبڑا عاشق چلتا تھا۔

یہ سال 2008 کا موسم گرما تھا۔

بہت بچپن سے ہی ہم کتابوں اور فلموں کےاسیر ہو چکے تھے۔ جب سارے بہن بھائی کھیل رہے ہوتے، ہم کسی کتاب میں گم ہوتے۔ نہیں معلوم، رنگیلا کی فلم کبڑا عاشق پہلے دیکھی یا ہنچ بیک آف نوترے دیم پہلے پڑھی، لیکن دو چیزیں ضرور دماغ میں نقش ہو گئیں، نوترے دیم کلیسا اور اس کا کبڑا رکھوالا۔

2008 میں ہم اپنے خوابوں کی تتلیوں کا تعاقب کرتے پیرس جا پہنچے۔ آرزو ہمارے بچپن کی تھی لیکن تعبیر میں ہمارے بچوں کا بچپن تھا۔

 نوترے دیم، ایک کلیسا، گوتھک آرکیٹیکچر کا شاہکار جس کا حسن دل کو مسحور کرتا تھا۔ سامنے مور پنکھی کھڑکیاں، ان دیکھے گلابوں کی خوشبو سی مہکتی تھیں اور ہم مسحور ہوئے جاتے تھے۔ گھنٹیوں والا مینار سامنے تھا اور ہماری نظریں قواسیموڈو کو ڈھونڈتی تھیں ۔

قواسیموڈو، جسے وکٹر ہیوگو نے بد صورتی کا استعارہ بنا دیا۔ جسے جیتی جاگتی زندگی نے جب دھتکار دیا تو اس نے کلیسا میں پناہ لی اور پھر وہ اور کلیسا کی گھنٹیاں لازم و ملزوم ٹھہرے۔

ہم کلیسا میں داخل ہو رہے تھے۔ ٹھنڈک نما خنکی، سکون بھرا سناٹا ، نیم تاریکی، روشن شمعیں، اُونچی محرابیں، چھت پہ بنے مسحور کن نقش ونگار، دیواروں پر کندہ مجسمہ سازی کے شاہکار، یہ تھا کلیسا کا مرکزی ہال۔

سروس ہو رہی تھی، سفید لبادہ اوڑھے پادری، بنچوں پہ جھکے ہوئے عقیدت مند، مگر وہ کہاں تھا ؟

قواسیموڈو کا کردار وکٹر ہیوگو نے اپنے مشہور عالم ناول ہنچ بیک آف نوترے دیم کے لئے لکھا۔ بنیادی طور پہ یہ ناول گوتھک آرکیٹیکچر کی محبت میں لکھا گیا کہ یہ کلیسا اس کی ایک اعلیٰ مثال تھا۔ عمارت کی عظمت کو اجاگر کرنے کے لئے وکٹر نے قواسیموڈو کی تخلیق کی اور پھر رنگ بدلتے موسم گواہ ہوئے کہ عمارت کا حسن، قواسیموڈو کی بدصورتی اور محبت بھرا دل رہتے زمانوں کے لیے امر ہو گئے۔

گھنٹیاں بج رہی تھیں اور ہم متلاشی تھے اس کبڑے کے جس سے اہل پیرس خوف کھاتے تھے۔ ان کے لئے وہ وہاں کے حسن پہ لگا ہوا ایک دھبہ تھا اوراس کے نصیب میں نفرت و ترحم کی نگاہیں تھیں۔ قواسیموڈو کی بدصورتی اسکے دل میں اتر آنے والی محبت کو نہ روک سکی، احساس کا جادو چلا اورقواسیموڈو اسمیرلڈا کا اسیر ہو گیا۔ اہل پیرس کے لئے یہ مر مٹنے کا مقام تھا، وہ بدصورتی کا استعارہ سمجھا جانے والا، زندگی کی دوڑ میں ہارا ہوا محبت کی امر داستان لکھ رہا تھا۔

ہم نے نوترے دیم کلیسا میں چشم تخیل سے قواسیموڈو کو ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر اس کردار کے خالق وکٹر ہیوگو سے ملاقات “پھر کبھی سہی” والےخانے میں چلی گئی کہ تنگئ وقت دامن سے لپٹی تھی۔

گیارہ سال گزر گئے۔ 2019 میں پیرس کی گلیوں میں تین مسافر پھر سے جا پہنچے۔ اب کے کلیسا کو باہر سے دیکھ کے گزرے لمحوں کی یاد کو محبت کے چھینٹوں سے تازہ کیا گیا جب حیدر کو سین میں چلتا سٹیمر بے چین کرتا تھا اور کلیسا کے باہر سیاحوں کی لمبی قطار میں کھڑے ہونا اسے گراں گزرتا تھا۔

لیکن اس دفعہ کی پیرس یاترا میں ہمیں ان جگہوں پہ جانا تھا جو پچھلے گیارہ سال سے خواہشات کی اس ٹوکری میں پڑی تھیں جسے ہم راہ میں چھوڑ گئے تھے۔ کلیسا سے محبت کرنے والے وکڑ ہیوگو کا گھر جسے میوزیم کا درجہ دے دیا گیا ہے، ہماری اولین ترجیح تھا۔

وکٹر ہیوگو (1885-1802) فرانس کا نامور ڈرامہ نگار, ناول نگار اور شاعر جو رومانوی تحریک کے بانیوں میں سے تھا۔ وکٹر کو ابتدائی شہرت شاعری سے ملی لیکن ناول نوترے دیم کا کبڑا اسے بقائے دوام بخش گیا۔ یوں تو وکٹر ہیوگو کا ناول Les Misérables (دکھیارے) دنیا کے دس بہتریہن ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن اسے ابتدائی شہرت نوترے دیم کے کبڑے ہی سے ملی۔

وکٹر کی تخلیقات میں موسیقی کے نمایاں عنصر نے بہت سے موسیقاروں کے لئے اپنی دھنیں ترتیب دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ وکٹر ہیوگو کی سیاسی مزاحمت بھی تاریخ کا حصہ بنی اور پھانسی کی سزا کے خلاف جدوجہد میں ان کا نام نمایاں ٹھہرا۔ اس موضوع پر ان کے ناول کا ترجمہ سعادت حسن منٹو نے سرگزشت اسیر کے نام سے کیا تھا۔

وکٹر کا گھر دوسری منزل پہ ایک بڑے کمروں والا فلیٹ تھا، جسے اس کی اصلی حالت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ نچلی منزل پہ سکیورٹی، ٹکٹ کاؤنٹر اور سووئنیر دوکان تھی۔

ہم جب بھی کسی تاریخی جگہ کو دیکھنے جاتے ہیں ہماری ایک آنکھ تو وہ دیکھتی ہے جو موجود ہے اور دوسری کا رابطہ تخیل سے جڑ جاتا ہے جو ہمیں زمانۂ قدیم کے گزرے ہوئے لمحات کو تصور کرنے میں مدد دیتی ہے۔ سو وکٹر کے گھر میں گھومتے اور اس کے زیر استعمال فرنیچر کو دیکھتے ہوئے ہم سوچتے تھے کہ یہیں کہیں بیٹھ کے وہ سوچتا ہو گا، لکھنے کے لئے کافی کا بھاپ اڑاتا مگ شاید اسی میز پہ رکھا جاتا ہو گا۔ اس کونے والی کرسی پہ بیٹھ کے کھڑکی سے خزاں کے ٹنڈ منڈ درخت اور پیلے پتوں کے ڈھیر کا نظارا کیا اسے اداس کرتا ہو گا۔ موسم کی پہلی بارش اور پہلی برفباری کیا موسیقی کے نئے در کھولتی ہوگی جنہیں وہ اپنی تحریروں میں بنتا تھا۔ ۔ قواسمیڈو اور اسمیرلڈا کے کردار یہیں بیٹھ کے تراشے گئے ہوں گے۔ اور وہ دکھیارے کا مرکزی کردار Jean Valjean  جسے وکٹر ہیوگو نے سترہ برس تک اپنے دماغ میں تراشا تھا۔ ایسے تو کوئی ماں اپنے بچے کے خدوخال نہیں سوچتی، مائیکل انیجلو بھی اپنی ہتھوڑی اور چھینی سمیت دوبارہ زمیں پر اتر آتا تو اسے افلاس اور نکبت  کا Jean Valjean  ایسا مجسمہ تراشنے میں بہت مشکل پیش آتی۔

دیواروں پہ سجی پینٹنگز اور طغروں میں وکٹر ہیوگو کے ذوق کی جھلک ملتی تھی۔ گھر کی ہر چیز پرانی تو تھی لیکن بوسیدہ نہیں۔ اعلیٰ فرنیچر، قالین، مجسمے، اور لیمپ مصنف کی مالی آسودگی کی کہانی سناتے تھے۔

مختلف کمروں سے ہوتے ہوئے ہم آخری کمرے تک آن پہنچے جہاں وکٹر کا چھپرکھٹ نما بستر اس کی زندگی کے آخری چند برسوں کا ساتھی رہا اور اس نے زندگی کو خداحافظ کہہ کے موت کا ہاتھ اسی بستر پہ تھاما۔ بہت سے سیاحوں کی موجودگی کے باوجود کمرے میں خاموشی تھی۔ ایک خوبصورت اور کامیاب زندگی کا اختتام سب کو یہ حقیقت یاد دلاتا تھا۔

گیارہ برس پہلے ادھوری رہ جانے والی کہانی، کلیسا اور قواسمیڈو کی محبت کےخالق کی یادگار دیکھنے کے بعد مکمل ہونے کو تھی۔ تاریخ دنیا کا ایک اور باب ہم پڑھ چکے تھے۔

ہماری صاحب زادیوں کے پاس اگلا پروگرام تیار تھا مع کافی کے۔ سو دیکھیے اگلا پڑاؤ کہاں ہو؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •