بابا بولا کی طاقت کا سرچشمہ اور فرعونوں کی سونے سے محبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ بخشے بابا بولا ایک حکیم تھا۔ اس کا نام برکت علی تھا۔ اپنی ہی کسی تیار کردہ معجون کے استعمال سے وہ سماعت سے محروم ہو گیا تھا اس لیے اب بابا بولا کے نام سے مشہور تھا۔ اس کے پاس بوسیدہ سے پھٹے پرانے کپڑے کی ایک گتھلی ہوتی۔ جس میں جڑی بوٹیاں، پھکیاں اور مارے ہوئے یا نیم مردہ کشتے ہوتے۔ سنکھیا مارنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا مگر وہ کبھی اس تجربے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ بابا بولا کہتا تھا، سونا رکھنا اگر فرعونوں کی صفت نہ ہوتا تو میں تو سونا بھی بنا سکتا ہوں۔ بس اللہ کے خوف سے میں سونا بنانے کا تجربہ نہیں کرتا۔ تاہم پوری زندگی کی جمع پونجی بابا بولا نے سونا بنانے کے تجربات میں ہی اجاڑی کی تھی۔ ہر بار اپنی سونا بنانے کی ناکام کوشش کے بعد خود کو تسلی دینے کے لیے فرعونوں کا سہارا لیتا۔ اکثر کشتے بھینس کے گوبر کی أگ پہ ہی بناتا۔ اس کا ماننا تھا کہ بھینس کے گوبر کی أگ طاقتور ہوتی ہے اوردنیا کے ہرمرد کو صرف ایک ہی چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے طاقت۔ طاقت سانڈے کے تیل سے ملے یا زیتون کے تیل سے بہرحال مرد کو طاقت کا سرچشمہ ہونا چاہیے۔

اب سانڈے کے تیل اور زیتون کے تیل میں کیا مماثلت ہے کاش بابا بولا زندہ ہوتا تو شاید أج وہ گتھی سلجھ سکتی۔ جب بابا بولا حکیم تھا اس وقت ہم چھٹی کلاس کے طالب علم تھے۔ ایک روپے کے عوض کئی تھیلے بھینس کے خشک گوبر کے ہم اسے اپنے گاٶں کی قریبی چراگاہ سے اکٹھے کر کے لا دیا کرتے تھے۔ اس وقت ہم اپنے گاٶں کے سکول کی کبڈی ٹیم کے کھلاڑی تھے اور طاقت کا حصول ہمارا بھی جنون تھا۔ مگر بابے بولے نے ہمیں ہمیشہ طاقت کے سہانے قصے ہی سنائے، کوئی کشتہ نہ دیا۔

ہربار اس نے ہمیں ایک ہی بات کہی ”پُتر تھوڑا وڈا ہو جا، ابھی تجھے لوڑ نئیں“۔ ہمارا بابے بولے کے پاس جانا اس سے میل جول رکھنا ایک مجبوری تھی۔ بابا بولا کہتا تھا جوانی میں میں سات دیہاتوں کا پالتو پہلوان تھا۔ اس لیے کبڈی کے داٶ پیچ سیکھنے کا ہمارا شوق ہمیں اس کے پاس لے جاتا۔ ہمیں أج یاد پڑتا ہے کہ بابا بولا شاید ایک دن بھی ہمیں کبڈی کے اکھاڑے میں لے کر نہ اترا بہرحال اس کی باتیں پہلوانوں والی ہی تھیں۔ بادام کشتے پھکیاں رگڑوانے کے لیے وہ ہمیں اپنا شاگرد کہتا اور ہمیں دو چار روپے بھی دیا کرتا۔

بابا بولا کی گتھلی سے بادام میوہ جات چرانا بھی ہمارا مشغلہ تھا۔ بارشوں کے موسم میں بابا بولا ہماری اجرت میں اضافہ کردیا کرتا کیوں کہ بارشوں میں ہمیں بابا بولا کی مطلوبہ چیز ڈھونڈنے گاٶں سے کوئی پانچ کلومیٹر دور صحرإ میں جانا پڑتا۔ بابا بولا ہمیں چھوٹی چھوٹی پلاسٹک یا شیشے کی خالی بوتلیں دے کر بھیجا کرتا اور ہم لال لال نرم و ملائم کیڑے پکڑ کر لایا کرتے۔ وہ کیڑے ریت کہ ٹیلوں پر صرف بارشوں کے موسم میں ہی نکلتے۔

انھیں ہم ”جیج ووہٹی“ کہا کرتے تھے۔ وہ کیڑے نرم خوبصورت، دیکھنے اور چھونے میں بہت بھلے لگتے اس لیے ہم کھیل کھیل میں ہی بوتلیں بھرلایا کرتے اور بابا بولا پھر خوش ہوکر ہمیں انعام میں مرونڈا مونگ پھلی اور کبھی کبھار پیسے بھی دیا کرتا۔ شکر ہے بابے بولے نے ہمیں کبھی سانڈے پکڑنے نہیں بھیجا ورنہ أج سڑک کناے بیٹھے سانڈے کا تیل بیچنے والوں سے نفرت کی بجائے ہمیں عقیدت ہوتی۔ بابا بولا کے اپنے دانت کم عمری میں ہی نزلہ اور کیرے کی نذر ہوگئے تھے اس لیے کیلے دلیا اور مکھن اس کی پسندیدہ ترین خوراک تھی۔

خوش قسمت سے اسی سال کی عمر میں بھی اس کے سرکے بال سلامت تھے اور ان بالوں کی سلامتی کی وجہ وہ اپنی حکمت اور قابلیت کو ہی گردانتا وہ کہتا تھا جلے ہوئے بھینس کے گوبر کی راکھ اور بھینس کی پرانی لسی سے نہانا بالوں کو دھونا بالوں کو تندرست رکھتا ہے۔ بابا بولا اسی سال کی عمر میں بھی اخبار پہ ماڈل لڑکیوں کی تصاویر دیکھ کر مچل جاتا۔ بابا بولا صرف حکیم ہی نہیں، ڈینٹل سرجن بھی تھا۔ اس نے ایک جمور رکھی تھی۔ بابا بولا کے نزدیک ہر تکلیف دینے والے دانت یا داڑھ کو نکال دینا ہی تکلیف کا بہترین حل ہوتا۔

موڑھے پر بیٹھ کر مریض یا مریضہ کے جبڑے اپنے دونوں گھٹنوں میں جکڑ لیتا اور مریض کے ساتھ أئے تیمار دار کو اس کے دونوں ہاتھ پکڑا لیتا اگر مریض کے ساتھ تیماردار نہ ہوتا تو اکثرمریض کے ہاتھ پکڑنے کی بھی ہمیں سعادت نصیب ہوتی اور پھر جمور سے دانت داڑیں نکال لیتا۔ بغیر کوئی ٹیکہ لگائے بنا بے ہوش کیے دانت داڑھیں نکالنا بھی بابا بولا کا فن تھا۔ ہاں دانت یاداڑھ نکل جانے کے بعد بہت سے خواتین وحضرات کو ہم نے بے ہوش ہوتے دیکھا۔

متعدد کیس ایسے بھی سامنے أئے کہ درد داڑھ میں تھا اور نکال دانت دیا گیا۔ وہ تو کچھ دن گزرنے کے بعد پتہ چلتا کہ بابا بولا کا نشانہ خطإ گزرا اور مریض کو ایک بار پھر جکڑ لیا جاتا۔ عمر کا تقاضا تھا بابا بولا اس جمور سے اور بھی بہت سارے کام لیتا۔ مثلاً أگ جلاتے وقت جب ہاتھ سے خشک گوبر نہ توڑ پاتا تو اپنے جمور کا استعمال کرتا۔ ۔ ہزاروں خوبیوں کا سرچشمہ بابا بولا جراح بھی تھا گندے پھوڑے پھنسیاں چھیلنا ان کی مرہم پٹی کرنا بابا بولا کا من پسند مشغلہ تھا۔

اس پھوڑے چھیلنے والے کار علاج کے لیے بابا بولا قینچی استرے اور نیہرنے کا استعمال کرتا وہ تو بھلا ہو ہماری اماں کا جنھیں ہمارا بابا بولا کے پاس جانا پسند نہیں تھا ورنہ أج ہم بھی پرانے گڑ، نیم کے پتوں، پیاز کے پانی اور گوبر کی راکھ سے سے خراب پھوڑے ٹھیک کر رہے ہوتے، دھو رہے ہوتے۔ گاٶں کے دوسرے بچوں کی طرح بابا بولا کی خشک تمے، اجوائن اور کالا نمک کی پھکی ہم نے بھی متعدد بار کھائی۔ گاٶں کا ہر وہ مرد اور عورت جو گھٹنوں میں درد، کمر میں درد، پیٹ درد، دانت یا داڑھ درد اور کسی پھوڑے پھنسی کا شکار ہوتا بابا بولا کی خدمات لیتا۔ حالانکہ عام حالات میں ہم نے لوگوں کو ہر مجلس میں بابا بولا کے طریقہ علاج کا مذاق اڑاتے ہی دیکھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •