یو این ڈی پی کی انسانی ترقی رپورٹ: آمدنی سے آگے، اوسط سے پَرے اور آج سے آگے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستر کی دہائی میں ہیومن ڈویلپمنٹ کا آئیڈیا دینے والے نوبیل انعام یافتہ پروفیسر آمرتیا سین نے لوگوں سے ایک سادہ سوال پوچھا کہ ہم برابری کی بات کرتے ہیں مگر کن چیزوں یا پہلوؤں کی برابری اس میں شامل ہے؟ پھر انہوں نے خود ہی اس سوال کا ایک مختصر اور سادہ جواب دیا کہ ہم جن چیزوں یا پہلوؤں کی پروا کرتے ہوئے اور اُن کے ذریعے اپنے مستقبل کی خواہش رکھتے ہیں، اُن تمام چیزوں کی برابری اس میں شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام کے ایڈمینسٹریٹر عاچم سیٹینر نے ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ 2019 کے ابتدائیہ کلمات میں کیا ہے۔

اُن کے مطابق مختلف ممالک میں مظاہروں کی پھیلنے والی لہر اس بات کی واضح علامت ہے کہ اس عالمگیر معاشرے میں کچھ ایسے پوشیدہ اور غیر پوشیدہ مسائل ہیں جن پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

”آمدنی سے آگے، اوسط سے پرے اور آج سے آگے“ کے پیغام کے ساتھ شائع ہونے والے اس رپورٹ کے مطابق نئی نسل کی ایک خاص تعداد عدم مساوات کا شکار ہے۔ یہی عدم برابری لوگوں کو سڑکوں پر لاکھڑا کرنے، مظاہرے کرنے اور مایوسی کے گرداب میں پھنسانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق بنیادی زندگی کے معیار میں فرق کم ہوتا جارہا ہے۔ دنیا میں بہت تعداد میں لوگ غربت، بھوک اور بیماریوں سے نجات پا رہے ہیں مگر اب ایک نیا خلا کھل گیا ہے کہ ثانوی تعلیم اور براڈ بینڈ تک رسائی جیسے مواقع جو کبھی عیش و عشرت کی چیزیں سمجھے جاتے تھے، اب ان سے تعلق رکھنا ضروری سمجھا جا رہا ہے، خاص کر اس نالج اکانومی میں بہت سے تعلیم یافتہ نوجوان مقابلے کی اس دوڑ میں ایسے پھنس گئے ہیں کہ اُنہیں آگے بڑھنے کی سمت تعین کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اسی طرح آب و ہوا کی تبدیلی، صنفی عدم مساوات اور پُرتشدد کشمکش اس عدم مساوات کو یکساں طور پر آگے بڑھا رہی ہیں۔ ان درپیش نظاماتی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں ناکامی عدم مساوات کو مزید تقویت پہنچائے گی اور چند لوگوں کی طاقت اور سیاسی غلبہ کو مستحکم اور مضبوط کرے گی۔

سیاسی لیڈران کی غلط پالیسیاں اور غلط فیصلے لوگوں کو مسائل سے دو چار کرنے جبکہ صحیح فیصلے اور پالیساں ان مسائل کی بیخ کنی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

اس رپورٹ میں آمدنی میں عدم مساوات، تعلیم اور صحت تک رسائی میں غیر برابری، صنفی عدم مساوات اور دیگر ایسے اہم مسائل پر سیر بحث گفتگو کی گئی ہے جو اس معاشرے میں عدم مساوات پیدا کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ عدم مساوات کو پائیدار ترقیاتی اہداف کی راہ میں ایک اہم روکاوٹ بھی سمجھا گیا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں تفریق اور ناہمواری پیدا کرنے والی تمام پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •