عالمی غربت کا مسئلہ: پور اکنامکس (poor economics) کیا کہتا ہے؟

عالمی غربت معاشیات، سیاسیات اور پالیسی سازی کے سائنسدانوں کے لئے عرصہ دراز سے اہم موضوع رہا ہے۔ اس موضوع پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں، مقالے چھاپے گئے کانفرنسیں ہوئیں، بحث و مباحثہ چلا مگر عالمی غربت کا یہ موضوع ہمیشہ کی طرح آج بھی اہم ہے۔ سوشل سائنٹسٹ آج اس مسئلے پر پہلے سے زیادہ پریشان ہیں اور حل ڈھونڈنے کی کوششوں میں ہیں کہ آخر کیا کیا جا سکتا ہے۔ اس مسئلے کی کھوج میں بیرونی امداد

Read more

کووڈ 19 کے ترقی پذیر ممالک پر معاشی اثرات – ہارورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر کی نظر میں

(ریما حَنا ہارورڈ کینیڈی اسکول میں ساؤتھ ایسٹ ایشیاء سٹڈیز کی جیفری چیہ (Jeffery Cheah) پروفیسر اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایریا کی چیئرپرسن بھی ہیں۔ وہ ہارورڈ یونیورسٹی کے سنٹر فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کی زیرنگرانی ایویڈنس فار پالیسی ڈیزائن (EPoD) کے فیکلٹی ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دےرہی ہیں۔ اُن کی تحقیق نہایت پسماندہ اور غریب ممالک، ترقی پذیرممالک اور معاشی لحاظ سے اُبھرتے ممالک میں عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے گرد گھومتی ہے ۔ ماہرِ ڈویلپمنٹ

Read more

یو این ڈی پی کی انسانی ترقی رپورٹ: آمدنی سے آگے، اوسط سے پَرے اور آج سے آگے

ستر کی دہائی میں ہیومن ڈویلپمنٹ کا آئیڈیا دینے والے نوبیل انعام یافتہ پروفیسر آمرتیا سین نے لوگوں سے ایک سادہ سوال پوچھا کہ ہم برابری کی بات کرتے ہیں مگر کن چیزوں یا پہلوؤں کی برابری اس میں شامل ہے؟ پھر انہوں نے خود ہی اس سوال کا ایک مختصر اور سادہ جواب دیا کہ ہم جن چیزوں یا پہلوؤں کی پروا کرتے ہوئے اور اُن کے ذریعے اپنے مستقبل کی خواہش رکھتے ہیں، اُن تمام چیزوں کی برابری

Read more

میرے ماموں لالک جان شہید (نشان حیدر)

1999 بالعموم پاکستان اور بالخصوص گلگت بلتستان کے لئے ایک ناخوشگوار سال تھا۔ اس سال گلگت بلتستان میں موسم بہار، خزاں کا منظر پیش کر رہا تھا ۔ کارگل کی جنگ چھڑ گئی تھی اور دھرتی ماں کے بچے اپنی ذمہ داری سرانجام دیتے ہوۓ شہادت کا رتبہ پا رہے تھے. مئی سے لے کر اگست تک کا عرصہ سخت گراں گزرا۔ علاقے میں غمگین سماں تھا ۔ مائیں اپنے جگر گوشوں کی خیریت کی خبر سںنے کے لئے دیوانہ

Read more

آؤ وادئ یاسین کی سیر کو چلیں

مشہور شاعر ساحر لدھیانوی کو کالج کے دنوں میں عشق ہوا اور اُنہیں شاعری کرنے کی پاداش میں کالج سے نکالا گیا۔ بہت عرصے بعد اُنہوں نے اپنے کالج کی شان میں ایک نظم لکھی جس کا عنوان ہے ”نذرِ کالج“۔ ہم نے بھی بچپن میں اپنے علاقے وادئی یاسین سے محبت کی اور سکول میں پڑھائی میں دل لگایا اور نسبتاً بہتر کارگردگی دکھائی تو ہمیں بھی گاؤں سے شہر کی طرف بھیجا گیا اور پھر کالج اور یونیورسٹی

Read more