اسسٹنٹ کمشنر اٹک جنت حسین اور ”کل کے لونڈے“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لال لال لہرانے کی ابھی کو ئی امید نہیں جگائی گئی۔ مگر اس لالی نے اپنے رنگ دکھانے شروع کر دیے ہیں۔ طلبہ یو نین بننے سے پہلے طلباء نجانے کیا باور کروانا چاہ رہے ہیں۔

بات اتنی بڑی اور اہم نہیں تھی جتنا اس کو اچھا ل دیا گیا ہے۔ اور افسوس ناک صورت حال تب سامنے آتی ہے۔ جب ”کل کے لو نڈے“ یہ مستقبل کے وکیل، ڈاکٹر، سائندان، اینکر ایک خا تون اسسٹنٹ کمشنر سے معافی طلب کر رہے ہیں۔ اور سب کے سب اعلی حکام خاموش بت بنے ہو ئے ہیں۔ یونیورسٹی یا کالج کی انتظامیہ بھی ان کے جنون کے سامنے بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ جب کہ جنت حسین کی خطاب والی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس نے ایک سرسری بات کی تھی۔

مگر بیمار ذہنیت والوں نے اس کو زندگی و موت اور انا و غیرت کا مسئلہ بنا لیا ہے۔

کسی بھی دین کو خطرہ اس کے دشمن سے نہیں ہو تا۔ اس دین دار سے ہوتا ہے جو اس کے زیر سایہ ہو تا ہے۔

یہ واقعہ نہیں ہے۔ یہ اس بیمار ذہین معاشرے کا عکس ہے۔ جس کو ایک کے بعد ایک جنون تقویت دے رہا ہے۔ اور جس کو وقت کا گرم خون، اپنا جنونی لہو دے رہا ہے۔ اس کی اہمیت بس جوانی جتنی ہی ہو تی ہے۔ جو پل بھر میں گزر جاتی ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر کی عزت پہ حملہ ہوا ہے۔ اور یہ کیس ان طلبا ء پہ بنتا ہے۔ جو اس کو اپنی عدالت میں لے آئے ہیں۔

یو ں سوچ لیتے ہیں کہ جنت قصور وار ہے۔ مگر یو ں کیو ں نہیں سوچتے کہ ایک عورت کی بے عزتی بھی تو کی گئی ہے۔ وہ سرکاری افسر بعد میں ہے۔ پہلے ماں ہے۔ کیا ماں کو ہم یہی عزت دیتے ہیں۔ جو یہ بچے دے رہے ہیں۔

ان لڑ کوں کا لب ولہجہ کیا ہے؟ کسی نے یہ غور کیو ں نہیں کیا؟ ہم قو م کے بچوں کو براہ راست یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر مل کر کسی پہ حملہ کر دیا جائے تووہ جیت سکتے ہیں۔ کسی پہ چڑھائی کی جائے تو جھوٹ سچ میں بدل سکتا ہے۔ آج کل یہی نیا رواج ہے۔ جس پہ ہم کافی پابندی سے عمل کر رہے ہیں۔ اور اگر یو نہی کرتے رہے تو وہ وقت دورنہیں جب ہم انسان کو یہا ں سے نکال دیں گے اور ملک جنگل بنا دیں گے۔

لیکن جنت کی عزت نفس کو جو دھچکا لگا ہے۔ اس کا ذمہ دار کو ن ہو گا۔ اور اس کا خمیازہ کس کو اٹھا نا پڑے گا؟ اس کے ساتھ کی گئی بد تمیزی کی ایف آئی آر کو ن درج کرے گا؟

اور خبر کی غلط تشہیر کرنے والے اپنے پلیٹ فارم تو چمکا لیں گے۔ مگر نفر ت کے زہر کو پھیلانے والوں کی نسلیں اس میں بھی بھسم ہو جاتی ہیں۔ یہ کیسے سمجھ آئے گا۔ جذباتیت کا کھیل جب طاقت کے ساتھ کھیلا جائے گا تو ظاہر ہے طاقت زخمی ہو گی۔ جب طاقت زخمی ہوتی ہے تو اس کی گرفت سے یہ ظالم مظلو م بن کر روتے پھرتے ہیں۔ تب ہم عاجزی اور انکساری کی بھیک کے طالب بن جاتے ہیں۔ طاقت معافی نامے طلب نہیں کرتی۔ وہ سفاکی سے کا م لیتی ہے۔ یہ فطرت خاکی ہے۔

اس لئے اپنی نسلوں کو، اپنے بچوں کو کھوکھلی جذباتیت کے سبق نہ پڑھائیے۔ ورنہ سب کو پچھتانا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •