اب ریاست ڈٹ کر آگے بڑھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس د لدوز کہانی کا آغاز تقریبًا ایک عشرہ پہلے اس وقت ہوا جب اس مملکت خداداد کے سادہ لوح عوام حسب معمول ایک بار پھر دھوکہ کھا گئے اور افتخار چوہدری کو بھی اپنا مسیحا اور اپنے دکھوں کا مداوا سمجھ کر وکلاء کے ساتھ سڑکوں اور شاھراہوں پر نکل آئے اور یہی وہ وقت تھا جب اس تحریک کے بطن سے عدل اور انصاف کی بجائے ایک سیہ پوش مافیا برآمد ہوا۔

پھر کون سا قانون اور کون سا انصاف؟

فقط اتنا ہوا کہ افتخار چودھری اپنے منصب جلیلہ پر واپس آئے اور بقول علی احمد کُرد ایک فرعون بن بیٹھے جبکہ وکلاء نے آئین اور قانون کی سر بلندی کی بجائے جبر و استحصال کا رُخ کیا کیونکہ جس ریاست کے ہم باسی ہیں وھاں طاقت کا سر چشمہ افرادی قوت اور زور بازو کو ہی مانا جاتا ہے اور پھر وکلاء کو تو افرادی قوت بھی حاصل ہے اور زور بازو بھی۔

سو اس میں کیا کلام کہ ایک بے رحم جبر اور سفاک رویّہ ریاست کے دروازے پر دستک دے چکا ہے۔

گویا ایک دریا کے پار اتر کر ایک اور دریا کا سامنا ہے۔

اس وقت ہم کمزور ریاست اور طاقتور مافیاز کے بیچوں بیچ پھنسی ہوئی قوم ہیں تبھی تو پچھلے دن لاھور کی سڑکوں پر ایل ایل بی ڈگری ہولڈروں کا جھتہ للکارتا ہوا برآمد ہوا اور ”دشمنوں کے ٹھکانے“ ہسپتال پر حملہ کردیا۔

آخری اطلاعات تک اس حملے میں آدھ درجن کے قریب ”دشمن“ مریض مارے جا چکے ہیں جبکہ صوبائی وزیر سمیت ڈاکٹروں، پولیس اہلکاروں اور مریضوں کو بھی سبق سکھایا جا چکا ہے۔

یہ بات ہرگز اہم نہیں کہ اس جھتے کے ”قائدین“ میں وزیراعظم عمران خان کا بھانجا حسان نیازی بھی شامل تھا کیونکہ وزیراعظم کسی دوسرے شخص کے کردار کے حوالے سے جوابدہ ہرگز نہیں لیکن حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے یہ ذمہ داری بہرحال انھی پر عائد ہوتی ہے کہ ریاستی بیانیہ اتنا کمزور کیوں ہے کہ ایک جھتہ دن دھاڑے اپنی غنڈہ گردی کے بل بوتے پر جب اور جہاں چاہے ریاستی رٹ کو پامال کرتا پھرے حتٰی کہ ہسپتال اور مریضوں پر بھی دھاوا بول دے لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اس جھتہ بازی اور غنڈہ گردی میں صرف وہی لوگ شامل ہیں جن کے گلشن کا کاروبار اس طرح کی وارداتوں سے چلتا رہتا ہے نہ کہ پیشہ ورانہ محنت اور دیانت سے بلکہ پروفیشنل اور سنجیدہ وکلاء ایک مدت سے اپنے آپ کو اس ”دھارے“ سے الگ کر چکے ہیں اور جب بھی ان سے اس حوالے سے بات ہوتی ہے تو وہ اس طرح کی حرکتوں پر رنجیدگی اور آزردگی کا اظہار کرتے ہیں۔

گویا اس مافیا کو نہ تو کبھی عوام نے حمایت فراہم کی نہ ہی میڈیا نے سراہا بلکہ اندرونی طور پر بھی اتفاق رائے سے محروم ہیں کیونکہ وکلاء کا سنجیدہ طبقہ ہمیشہ ان سے ایک فاصلے پر نظر آیا۔

سو یہی وہ وقت ہے کہ تنہائی کے شکار اور ہمدردی سے محروم اس طبقے کے ساتھ انتہائی سختی سے نپٹا جائے جن کی درندگی نے مریضوں اور ہسپتالوں کو بھی نہیں بخشا لیکن اگر اس موقع پر ریاست نے کوئی کمزوری دکھائی تو پھر روز بروز نئے نئے مافیاز کی تشکیل اور اُٹھان کو کوئی نہیں روک پائے گا کیونکہ ان وکلاء کو احتساب اور سزا سے ماورا دیکھ کر وہ تمام طبقات بھی یہی وتیرہ اپنانے لگیں گے جو وکلا کی نسبت بھی زیادہ اور طاقتور افرادی قوت کے حامل ہیں مثلاً ٹیچرز، طالبعلم، واپڈہ ملازمین، کلرک حتیٰ کہ پراپرٹی ڈیلرز بھی۔

خدانخواستہ ایسی صورتحال بنی تو ریاستی رٹ اور قانون کہاں کھڑے ہوں گے؟

سو گزارش یہ ہے کہ ججز چیمبر سے ہسپتالوں تک آتی ہوئی اس سر کشی کو اب بے رحمی کے ساتھ ملیامیٹ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ رہا بھی نہیں کیونکہ جب ہسپتالوں اور مریضوں کے ساتھ بھی وہ کچھ ہونے لگے جسے کوئی سفاک دشمن اور وحشت انگیز جنگ بھی گوارا نہ کرے تو پھر حکومت کو خالی خولی بیانات اور ریاست کو اپنے ڈرے سہمے تصور سے نہ صرف نکلنا ہوگا بلکہ انتہائی سخت اور عملی اقدامات کی طرف بڑھنا بھی ہوگا۔

لازم ہے کہ اس سلسلے میں حکومت پارلیمان اور مؤثر ادارے ایک پیج پر بھی ہوں اور یکسو بھی۔

تاہم اگر اس سلسلے میں حسب سابق سستی برتی گئی تو پھر سب کو اس صورتحال کے لئے خود کو تیار رکھنا چاہیے، جس کے تصور سے بھی رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کیونکہ جو لوگ شاہراہوں پر کھلے عام اعلانات کر کے ہسپتال کے دروازے اکھاڑ سکتے ہیں ہر چیز تہس نہس کر سکتے ہیں حتٰی کہ مریضوں کو بھی گرا سکتے ہیں تو ان سے کیا بعید کہ اگلی بار ان کا نشانہ کون سی عمارت اور کون سا دروازہ ہوں گے اور وھاں تہس نہس کرنے والی چیزیں کون سی ہوں گی اور کون لوگ ان کی مار پیٹ کی زد میں آئیں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •