ریاستِ مدینہ میں انصاف کا امتحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان صاحب پچھلے چار پانچ سالوں سے ملک میں سیاسی عدم برداشت، مخالفین کے خلاف جارحانہ سیاسی رویوں، سیاسی اختلافات کو متشدد طریقوں سے نمٹنے، ملکی سیاست کو بے راہ رو، گالم گلوچ کی راہ پہ لے آئے۔ وہ اور ان کے سہولت کار ان کا عوامی تاثر بنانے کے چکر میں ملک میں سوشل میڈیا کو ان کے سیاسی مخالفین کی عزتیں اچھالنے ان کے خلاف چھوٹے چھوٹے سیاسی اختلافات کی بنا پر مغلظات بکنے، طوفان بدتمیزی برپا کرنے کے لئے استعمال کرتے رہے اور یہ بھول گئے کہ اس طرزِ عمل کے کتنے بھیانک و منفی نتائج برآمد ہوں گے۔

کل تک مخالفین کے خلاف سوشل میڈیا کی ننگی تلوار استعمال کرکے مسندِ اقتدار پہ فائز ہونے والے عمران خان یہ بھی بھول گئے کہ ریاست مدینہ کا قیام مخالفین کے خلاف اخلاق سے گری سیاسی مہم چلا کر، مخالفین کو مغلظات بک کر، جھوٹ، منافقت، دروغ گوئی، الزام تراشیاں کرکے عمل میں نہیں آیا تھا بلکہ ریاست مدینہ سراپا امن، محبت، انسانیت، اسلامی شعار، اللہ ربّ العزّت کے احکامات و نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ان کی سیرت کا روشن باب تھی۔

عمران خان صاحب نے پاکستان کی سیاست میں جن منفی، مکروہ سیاسی رویوں کی بنیاد رکھی آج ان کی سولہ ماہ کی حکومت اس کا آئینہ دار ہے، قانون و انصاف اس جعلی ریاست مدینہ میں ناپید ہے، انصاف صرف طاقتور کے لئے ہے یا پھر اس اشرافیہ کے لئے جو سرکاری بیانیے کا راگ الاپتے ہیں، یا پھر ان اپنوں کے لئے جو کل تک چور ڈاکو تھے آج اپنے بن کر فرشتے بن چکے۔

عمران خان صاحب کے سولہ ماہ کے دورِ اقتدار میں اگر کسی کو انصاف ملا ہے تو انہیں خود کو، ان کی اپنی بہن، اپنے قریبی دوستوں عزیزوں رفقاء کار، ساتھیوں اور ہم نواؤں کو جبکہ شہید ایس پی طاہر داوڑ، سانحہ ساہیوال کے شہداء، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء، نیب گردی کے شکار مظلومین، وکلاء گردی کے شکار معصومین، سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے شہداء، کوہاٹ میں پی ٹی آئی صدر کے بھتیجے کی درندگی کا نشانہ بننے والی شہید طالبہ عاصمہ رانی، مردان کے شہید طالب علم مشال خان سمیت نجانے کتنے معصوم و بے گناہ آج بھی انصاف سے محروم ہیں۔

خان صاحب کے دورِ اقتدار میں ملک میں عموماً اور پنجاب میں بلخصوص وکلاء کی غنڈہ گردی، دہشتگردی کے واقعات میں انتہائی تشویشناک حد تک اضافی ہوگیا ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ مرکز و پنجاب میں بدترین طرزِ حکمرانی اور قانون کا ناپید ہونا، حکمران طبقے خاص طور پر عمران خان صاحب اور ان کے وزراء اور رفقاء کار کے جارحانہ سیاسی رویے اور اپنے کارکنان خاص طور پر نوجوانان کو جارحانہ رویوں اور تشدد پہ اکسانا ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب چند روز قبل ہی اپنے کارکنان اور نوجوانوں کو کرپٹ لوگوں کے گھیراؤ اور سخت احتجاج کے نام پر اپنے مخالفین کے خلاف تشدد اور جارحانہ رویے اختیار کرنے پر اُکساتے نظر آئے، ان ہی جارحانہ، تحکمانہ سیاسی رویوں کا مظاہرہ کرتے ان کے وزراء اور عہدیداران اکثر نظر آتے ہیں اور جب حکمران طبقہ خود اس قسم کی سیاسی عدم برداشت اور جارحانہ انداز کا کھلا مظاہرہ کرتا نظر آئے تو یہ روش معاشرے میں بھی کثرت سے نظر آنے لگتی ہے جس کا مظاہرہ گزشتہ کچھ ماہ سے وکلاء برادری پنجاب میں کرتی نظر آ رہی ہے۔

اسی طرح کا رویہ وزیراعظم صاحب کے معتقد خاص جناب بابر اعوان بھی اختیار کر چکے ہیں جب وہ احتساب عدالت تشریف لے گئے تھے جہاں احتساب عدالت کے جج بھی ان کے غیر اخلاقی، غیر پیشہ ورانہ اور جارحانہ طرزِ عمل کا شکار ہوئے تھے۔ عمران خان صاحب کے سب سے باصلاحیت معتقدِ خاص ان کے وسیم اکرم پلس کے پنجاب میں وکلاء آئے دن غنڈہ گردی، ہنگامہ آرائی، یہاں تک کہ دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں کئی بار وکلاء اپنے سائلین سمیت سڑکوں بازاروں یہاں تک کہ عدالتوں بار رومز اور ججز کے ساتھ کمرۂ عدالت میں بھی انتہائی غیر مہذب اور شدت پسندانہ سلوک کا ارتکاب کرتے نظر آتے رہے، اس دوران ان کے خلاف کیسز بھی درج ہوئے مگر وکلاء برادری کے احتجاج اور پریشر کے آگے خان صاحب کے وسیم اکرم پلس کی کمزور طرزِ حکمرانی ہمیشہ گھٹنے ٹیکتے نظر آئی جس کا خمیازہ گزشتہ روز پی آئی سی لاہور پہ وکلاء کے دہشتگردانہ حملے کی صورت بھگتنا پڑا۔

وکلاء اور ینگ ڈاکٹرز کے اختلافات اور جھگڑے کا شاخسانہ پی آئی سی لاہور پر حملے کی صورت سامنے آیا۔ ملک کے انتہائی پڑھے لکھے باشعور قانون کا بول بالا کرنے والے طبقے کی جانب سے جو درندگی بربریت کا ننگا ناچ ناچا گیا اس سے نہ صرف انسانیت شرمندہ ہو گئی بلکہ قانون و انصاف کی دھجیاں بھی بکھر گئیں۔ وکلاء اپنے غصے انتقام اور نفرت کی آگ میں اتنے اندھے ہوگئے کہ امراضِ قلب کے ہسپتال پہ حملہ کرکے نہ صرف وہاں موجود ڈاکٹرز، عملے کو اپنی وحشت و بربریت کا نشانہ بناتے رہے بلکہ ہسپتال میں موجود دل کے مریضوں کی اموات کے ذمے دار بھی بن گئے۔

وکلاء ہسپتال میں داخلا مریضوں کے آکسیجن ماسک اتار اتار کر انہیں دیگر ہسپتالوں میں جانے کا کہہ کر ہسپتال سے نکالتے رہے جس کی وجہ سے کئی اموات واقع ہو گئیں۔ وکلاء نے ہسپتال کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، مگر وسیم اکرم پلس کی پولیس بے بس تماشائی بنی صرف تماشا ہی دیکھتی رہی۔ اس سارے ڈرامے میں ریاست مدینہ کے امیر جناب عمران خان صاحب کے بیرسٹر بھانجے حسان نیازی پیش پیش رہے اور جلتی پہ تیل ڈالنے کے سوا پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے علاؤہ بہت کچھ کرتے سی سی ٹی وی میں صاف نظر آتے رہے۔

اسی ہنگامے میں ریاست کے ایک وزیر باتدبیر فیاض الحسن چوہان بھی مشتعل وکلاء کے ہتھے چڑھے اور پھر پورے ملک سمیت دنیا نے دیکھا کہ شعلہ اگلتی زبان سے مخالفین پر آگ برسانے والے وزیر کی کس طرح درگت بنائی گئی۔ وزیراعظم صاحب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری اجلاس طلب کرکے ذمے دار وکلاء کے سخت ترین ایکشن لینے کے احکامات جاری کر دیے 46 وکلاء کو سی سی ٹی وی کی مدد سے پہچان کر گرفتار کیا گیا ایف آئی آر کاٹی گئی مگر یہ کیا؟

ریاست مدینہ کے امیر کا بھانجا حسان نیازی جو بلوائیوں کے ساتھ بلوے میں شاملِ تھا وہ ایف آئی آر سے غائب؟ کیا ریاست مدینہ میں ایسا ہوسکتا تھا کہ امیر المؤمنین کا قریبی رشتیدار بلوے میں شامل ہو جہاں بہت سی اموات ہو گئی ہوں جہاں ریاست کے قانون کو کھلے عام روندا گیا ہو، بیگناہوں کو مارا پیٹا گیا ہو، کارِ سرکار میں مداخلت کی گئی ہو، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہو وہ سارے ہنگامے توڑ پھوڑ اور نقصان سے بری الزمہ قرار پاکر مقدمے میں شامل ہی نہ کیا گیا ہو یا یوں کہیں کہ اسے جان بوجھ کر شامل ہی نہ کیا گیا ہو۔

یہ ریاست مدینہ کا ماڈل قائم کرنے کے دعووں کی کھلی نفی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ریاست مدینہ کا ماڈل قائم کرنے کے خواہشمند وزیراعظم عمران خان قانون و انصاف کی بالادستی پہ یقین رکھتے ہیں یا پھر اپنے بھانجے اور معاشرے میں بدترین خوف و دہشت کی علامت بنتے ان نوجوان وکلاء کو نشانِ عبرت بنانے کے بجائے معاملے کو دیگر سانحات کی طرح صرف بیانات کی حد تک ہی رہنے دیتے ہیں، یہ ریاست مدینہ کا ماڈل قائم کرنے کے خواہشمندوں کے لئے ایک اور کڑا امتحان ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •