چمپئین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ دنوں یوایس ایڈ کے ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں پاکستان کے چند ہونہار نابینا لوگوں سے ملاقات کا اتفاق ہوا۔ ان کے کارنامے سن کر مسرت بھی ہوئی اور حیرت بھی۔ اس سماج میں جہاں بینا افراد کے لئے تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے وہاں یہ باکمال نابینا افراد کیسے ایسے ہنر مند ہوئے؟ اس پر حیرت گم ہے۔ نہ ان کو بریل میں کتاب دستیاب ہوتی ہے نہ تربیت یافتہ اساتذہ موجود ہیں نہ موبلٹی کی ٹریننگ ہے۔ اس سب کے باوجود یہ لوگ اتنے بڑے بڑے کارنامے کر چکے ہیں کہ ان پر صرف فخر کیا جا سکتا ہے۔ ان کی ہمت کی داد دیجئے۔ ان کے جذبے کو سلام پیش کیجئے۔ اس لئے کہ یہ اس احترام کے مستحق ہیں۔ ان آٹھ نادر زندگیوں کی مختصر داستان کچھ یوں ہے۔

سلمان ارشد کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ چھٹی جماعت میں بصارت سے محروم ہوئے تو سب اندھیر ہوگیا۔ سکول، فٹ بال، کتابیں، استاتذہ اور کلاس فیلوز سب نظر سے اوجھل ہو گئے۔ بینائی سے نابینائی کو تسلیم کرنے میں بہت عرصہ لگا۔ میڑک سپیشل سکول سے کیا اور اسلام آباد کالج فار بوائزسے ایف اے کرنے کے بعد زندگی کا ایک بڑا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنا شہر چھوڑ دیا۔ اگر کچھ کرنا تھا تو خود کو انڈپینڈنٹ بنا کر کرنا تھا۔ لاہور میں، پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس منیجمنٹ سائنسز میں کیا۔ اس دوران بہت سی انٹرنیشل اور نیشنل ٹریننگیز کیں۔ 2016 میں کامن ویلتھ ورکر ایوارڈ جیتا۔ پاکستان میں ڈس ایبلٹی پالیسی بنانے میں مدد کی۔ اب دو ادارے پاکستان پیرا کلائمبنگ کلب اور سکول آف انکلوژن کے نام سے چلا رہے ہیں۔

سلمان خالد کا تعلق لاہور سے ہے ان کی بینائی تیرہ سال کی عمر میں گئی وہ بتاتے ہیں کہ پہلے میری زندگی بہت مختلف تھی۔ پھر سب کچھ بدل گیا۔ ہر چیز چیلنج بن گئی۔ لیکن اپنے والدین، دوستوں اور اساتذہ کی مدد سے تعلیم جاری رکھی۔ بریل سیکھنے کے بعد میڑک فرسٹ ڈویژن میں کیا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے انٹر کیا اور کمپیوٹر میں انٹر کرنے والا پہلا طالب بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایم اے کے بعد جی سی یونیورسٹی میں سپیشل طلباء کے انچارج کے طور پر سات سال ملازمت کی۔ رفاہ یونیورسٹی سے ایم فل میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کی۔ گذشتہ تین سال سے سپیشل ایجوکیشن پنجاب میں انگلش کے لیکچرار ہیں۔ میوزک میں خاص دلچسپی ہے اور نابینا افراد کی بہت سی تنظیموں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹڑ راجہ عامر حنیف کا تعلق راولپنڈی سے ہے وہ بتاتے ہیں بینائی کی نعمت مجھے کبھی بھی میسر نہیں تھی۔ والدین نے ہمیشہ بتایا کہ تعلیم ہی اصل روشنی ہے۔ ساری عمر علم کی روشنی کے تعاقب میں گزر گئی۔ بے شمار مشکلات کے باوجود پی ایچ ڈی کی۔ اعلی تعلیمی کارکردگی پر ایچ ای سی کی جانب سے پی ایچ ڈی کے لئے سکالر شپ کا اعزاز ملا۔ اپنی پی ایچ ڈی کی ریسرچ بیرون ملک مکمل کی۔ آج گورنمنٹ کالج میں انیسویں گریڈ کے ایسو سی ایٹ پروفیسر ہیں۔ تعلیمی قابلیت کی وجہ سے انیسویں گریڈ میں ترقی اس برق رفتاری سے ہوئی کہ اب اپنے اساتذہ سے بھی سنیئرہیں۔ شاعری اور تقریر بھی میدان سخن رہے اس میں بھی پورے پاکستان میں اعزازات حاصل کیے۔ ان کوپاکستان کے ٹاپ ہنڈرڈ لوگوں میں شامل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

ارم شبیر کا تعلق گجرانوالہ سے ہے وہ بتاتی ہیں کہ میں نے بچپن سے آج تک کچھ نہیں دیکھا۔ نہ رنگ نہ روشنی نہ درخت نہ پھول۔ والدین جانتے تھے کہ اس معاشرے میں اگر کچھ بننا ہے تو تعلیم ہی سہارا بنے گی۔ پہلے بریل میں تعلیم حاصل کی پھر آڈیو کیسٹس سے پڑھا اوراب کمپوٹرسے تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ پہلا ایم اے وویمن سٹیڈیز میں کیا اور یونیورسٹی میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ دوسرا ماسٹرز انگریزی ادب میں پنجاب یونیورسٹی سے کیا اور ایم اے کی تیسری ڈگری سپیشل ایجوکیشن میں حاصل کی۔ اس کے علاوہ بے شمار کورسز بھی کیے۔ اس وقت اٹھارہویں گریڈ میں ایک گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں پرنسپل ہیں۔

کوہاٹ کے شیر بہادر آفریدی کہتے ہیں کہ آج سے بیس سال پہلے ایک آپریشن کے نتیجے میں بصارت سے محروم ہوگیا۔ ان کا خواب ایک صحافی بننے کا تھا۔ نابینا ہونے کے بعد بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور ایم ایس سی ماس کمیونیکیشنز میں کی۔ اب کوہاٹ کی سطح پر نہ صرف ایک صحافی ہیں بلکہ اٹھارہ سال سے ڈی سی آفس کوہاٹ میں اہم ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آل پاکستان یونین آف سپیشل جرنلسٹس اور رائٹرزکے صدرہیں۔ کوہاٹ میں سپیشل افراد کی ایک تنظیم دوستی کی بنیاد ڈالی۔ نابینا ہونے کے باوجود کوہ پیمائی کا شوق ہے اب تک پاکستان کی دو بلند چوٹیاں سر کر چکے ہیں۔

نارووال کی شمسہ کنول پیدائشی نابینا ہیں۔ اس لئے بینائی کا کچھ تجربہ نہیں ہے۔ جس علاقے سے انکاتعلق ہے وہاں معذوری مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ لوگوں کے رویے اور دیگرمشکلات کے باوجود تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور صوتی کتب کی مدد سے تعلیم حاصل کی۔ انکاشوق علم دیکھ کر حکومت جاپان کی جانب سے ڈسکن سکالر شپ ملا اور آج تک پاکستان کی پہلی واحد خاتون ہیں جسے یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس وقت سیالکوٹ میں تمام معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لئے اپنا ایک ادارہ چلا رہی ہیں۔

لاہور کی صا ئمہ ارشد بھی ابتداء سے ہی نابینا تھیں۔ بہت سے ناگوار سماجی رویوں کا ہمت سے مقابلہ کیا۔ معذور ہونا اور ایک ایسے علاقے میں ہونا جہاں سپیشل لوگوں سے تعصب برتا جاتا ہو اور پھر عورت ہونا بہت سی مشکلات کا سبب بنا۔ آگے بڑھنے کا واحد رستہ تعلیم تھا۔ پہلے پہل تعلیم صوتی کتب سے حاصل کی۔ کتابیں سن کر یاد کرتی اور امتحان دیتی۔ اللہ تعالی کی مدد والدین کی محبت اور دوستوں کی چاہت کے سبب سوشیالوجی میں ایم فل کیا۔ آج کل اپنے شوہر کے ساتھ مل کر نابینا طلباء کو کمپیوٹر کی تعلیم دیتی ہیں اور اب سپیشل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں اعلی عہدے پر کام کر رہی ہیں۔

اسلام آباد کی معروف شاعرہ روبینہ شاد بتاتی ہیں کہ میں پیدائشی نابینا ہوں۔ میری زندگی میں حرف، لفظ اور آوازیں بہت اہم ہیں۔ انہی حروف کے تعاقب میں میرا شوق سفر مجھے میدان علم و ادب کی جانب لے گیا۔ تعلیم حاصل کرنا ایک نابینا خاتون کے لئے اس سماج میں از حد مشکل ہے۔ نہ کتابیں ملتی ہیں نہ درست طریقے سے پڑھانے والے۔ اس کے باوجود ایم اے اردو ادب کیا اور پھر سپیشل ایجوکیشن میں بھی ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس وقت راولپنڈی ویمن یونیورسٹی میں لیکچرر ہیں۔ شعر کی دنیا کو اپنا شعار بنایا۔ لفظوں سے تتلیاں بنائیں اور شعروں کے رنگین پھولوں پر انہیں بٹھایا۔ شاعری میں نام پیدا کیا اور نابینا لوگوں کے لئے رضا کارانہ طور پر بھی کام کرتی ہیں۔

پاکستان کے یہ آٹھ قابل تحسین لوگ ہمارے لئے باعث فخر بھی ہیں اور اس سارے سماج کاسرمایہ افتخار بھی۔ یہ لوگ اس دور کے حقیقی چیمپٗین ہیں۔ لیکن یاد رکھیئے اسی دور میں بہت سے نابینا بچے سپیشل سکولوں میں مناسب سہولیات نہ ہونے کے سبب اندھیروں میں زندگی گزار رہے ہیں ان کے سامنے صرف ایک تاریک مستقبل ہے۔ ان پر فخر کرنے کے لئے ان کو چمپیئن بنانے کے لئے ہم سب کو ان کی ہمت بڑھانی ہے ان کو حوصلہ دینا ہے، ان کا احترام کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 198 posts and counting.See all posts by ammar