کراچی کے ڈاکٹروں کو بھی نہیں چھوڑیں گے: وکلا کی دھمکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہرِ قائد کے وکلاء کی جانب سے ڈاکٹروں کو دی جانے والی دھمکی کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کراچی کے ڈاکٹروں کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔

چند روز قبل پنجاب میں شروع ہونے والی وکلاء اور ڈاکٹروں کی لڑائی کراچی پہنچ گئی، آج کراچی بار کے الیکشن ہو رہے ہیں، اس موقع پر کراچی کے وکلاء کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ ڈاکٹروں کو دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں۔

ویڈیو میں چند کالے کوٹ پہنے افراد جو اپنے آپ کو وکیل ظاہر کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ لاہور میں وکلاء کی جانب سے ڈاکٹروں کو جواب دینے کا عمل بہت اچھا تھا۔ اس ویڈیو میں ایک کالے کوٹ میں ملبوس نوجوان کا کہنا ہے کہ پہلے ڈاکٹروں نے حملہ کیا تھا اور انہیں ہماری طرف سے جواب دیا گیا ہے، کہیں کا بھی اسپتال ہو، سرکاری ہو یا غیر سرکاری، ہم ڈاکٹروں کو نہیں چھوڑیں گے، یہ ملک وکلاء نے بنایا ہے ڈاکٹروں نے نہیں۔

ان وکلاء کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں، پولیس اور کسی بھی ایجنسی نے وکلاء کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھایا تو پاکستان کے کسی بھی اسپتال میں گھس کر ڈاکٹروں کو ماریں گے، وکلاء پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔

اسی ویڈیو میں ایک اور کالے کوٹ میں ملبوس نوجوان کا کہنا تھا کہ ہم ان وکلاء کو خوش آمدید کہتے ہیں جنہوں نے ڈاکٹروں اور پولیس والوں کو مارا ہے، انہوں نے بہت اچھا کیا ہے۔

ویڈیو میں ایک اور وکیل نے کہا کہ جن وکلاء نے ڈاکٹروں کو مارا ہے ہم ان کی سپورٹ میں کراچی سے نکل رہے ہیں اور کل لاہور کا کوئی ڈاکٹر اور کوئی اسپتال نہیں بچے گا۔

ویڈیو بنانے والے نوجوان وکیل نے یہ بھی کہا کہ ہم کراچی میں ڈاکٹروں کو نہیں چھوڑیں گے اور اگر یہ ڈاکٹر اور پولیس پروٹیکشن چاہتے ہیں تو ہم سے معافی مانگیں، ہم کراچی بار کے الیکشن میں مصروف ہیں اور زیادہ ضرورت ہوئی تو ڈاکٹروں کو جواب دیں گے۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل 12 دسمبر کو لاہور میں سیکڑوں وکلاء امراضِ قلب کے اسپتال پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر چڑھ دوڑے۔ بڑی تعداد میں مشتعل وکلاء آپریشن تھیٹر، آئی سی یو اور وارڈز میں گھس گئے، جنہوں نے اسپتال کی قیمتی مشینیں اور دیگر آلات توڑ دیئے، عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا، مریضوں کے آکسیجن ماسک اتار دیئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •