حاضر حاضر، لہو ہمارا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شام کا وقت تھا، کلاس ہو رہی تھی ـ لیکن اسی دوران بار بار نعروں کی آوازیں بھی آرہی تھیں ـ جن میں ایک یہ بھی تھا

 “حاضر حاضر لہو ہمارا”

خیر کلاس ختم ہوئی ـ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلباء کے زیرِ اہتمام ایجوکیشنل ایکسپو کا بھی آخری دن تھاـ بکس سٹال والے کتابیں سمیٹ رہے تھےـ فیمیل ڈے تھا لیکن شام کے بعد ایکسپو ختم ہو چکا تھاـ

میں کتابیں دیکھنے گیاـ کچھ کتابوں والے ابھی ادھر ہی تھےـ ایک طالب علم قریب آکر بولا بھائی ناراض نہ ہوں تو یہاں سے چلے جائیں ـ سوچا اب تو ایکسپو ختم هو گیا ہے ـ تو پھر کیوں جانے کا کہہ رہے ہیں؟ پھر سمجھا شائد ان کو سامان سمیٹنا ہے کیونکہ جمعیت والے ہر پروگرام کے بعد انتہائی نظم و ضبط کے بعد پروگرام کی جگہ کی صفائی کرتے ہیں ـ لیکن بک سٹال والے نے بتایا کہ طلباء کی آپس میں کشیدگی چل رہی ہے اس لیے آپ کو جانے کا کہہ رہے ہیں ـ

میں ہاسٹل کی طرف چل نکلا ـ لیکن لمحوں میں ہی منظر بدل گیاـ شور اور چیخیں، فائرنگ کی آوازیںـ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھا ایک دم سے کیا ہو گیاـ کچھ طلباء ڈنڈے اٹھائے ٹولیوں کی شکل میں پھر رہے تھےـ کبھی ایک طرف شور بلند ہوتا کبھی دوسری طرف ـ ایک طالب علم کو پارکنگ کے پاس پانچ طلباء نے پکڑا ہوا تھا اور وہ جان بچانے کی منتیں کر رہا تھا ـ کچھ ہاسٹلز کی تلاشی لے رہے تھے اور کچھ میری طرح نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا تماشہ کر رہے تھے ـ

ایمبولینس آ اور جا رہی تھیں ـ باہر پولیس اور رینجر موجود تھی اور کسی کو آنے جانے نہیں دے رہے تھےـ اندر موجود طلباء ایک دوسرے کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھےـ اب سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب یہاں رکیں یا باہر جائیں؟ بالکل جیسے گجرات او احمد آباد کے فسادات کا سنا تھا ویسا ہی منظر دیکھنے کو مل رہا تھاـ رات جاگتے گزاری ـ بعد میں رینجر والے آئے اور پکڑ دھکڑ شروع کی اور ہاسٹلرز خالی کروا لیے گئےـ

ممکن ہے کئی طلباء کی زندگی میں یہ معمول ہو لیکن میرے لیے یونیورسٹی لائف کے بدترین لمحے تھےـ اعلی تعلیمی ادارے میں ہم یہ کیسی اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں کہ اپنے ساتھ پڑھنے والوں پر ڈنڈا اٹھائیں یا گولی چلائیں؟ گھر سے والدین سہانے مستقبل کی امیدیں لگا کر اپنے بچوں کو یہاں بھیجتے ہیں لیکن یہاں اکر طلباء کیا گل کھلاتے ہیں؟ والدین کے زیرِ سایہ پلنے والے پنچھی جب آزاد ہوتے ہیں تو کیسے بے رحم لوگوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ـ

بے شک اعلی تعلیمی ادارے ہماری کردار سازی کرتے ہیں اور اس کے بعد ہمیں عملی میدان میں آنا ہوتا ہے وہیں غیر نصابی مثبت سرگرمیاں بھی طلباء کی کردار سازی میں بہترین کردار ادا کرتی ہیں ـ اور پھر جمیعت کو مجھے نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملا ہے ـ بلکہ ایک جعیت کے رکن نے مجھ پر احسان کیا تھا کہ میٹرک کے بعد مجھ سے زبرستی ایف اے کا داخلہ بھجوایا کیونکہ میں آگے کاروبار کا سوچ رہا تھاـ جو بھی ان کے ساتھ کچھ وقت گذار لے اگر جمیعت سے نکل بھی جائے تو پوری زندگی جمیعت کے اثرات اس سے نہیں نکلتے ـ لٹریچر پڑھانا، شب بیداری، درس قرآن، نئے سٹوڈنٹس کی رہنمائی اور بہترین نظم و وضبط کے پروگرامز اسلامی جمعیت کی وہ خاصتیں ہیں جو دوسری تنظیموں میں کم دیکھنے کو ملتی ہیں ـ

لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ کوئی بھی تنظیم چاہے مذہبی ہو،قومی ہو، یا لسانی، طلباء کی سطح تک انہیں طلباء کو اپنے مقاصد کیلئے نہیں استعمال کرنا چاہیئےـ غیر نصابی مثبت سرگرمیاں طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہیں ـ لیکن کاش طلباء کو انہیں سرگرمیوں تک محدود رکھا جاتا ـ اپنی سیاسی رنجشوں کا بدلہ تعلیمی مراکز میں آکر نہ لیا جاتا ـ طلباء سے ہڑتالوں میں جلاؤ گھیراؤ اور جلسوں میں زندہ اور مردہ باد کے نعرے نہ لگوائے جائیں ـ ایک تو جوان خون اور پھر نادانی کی عمر ہوتی ہے انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ ہمارے والدین کا پیسہ ہم کن مقاصد میں ضائع کر رہے ہیں ـ ہمارے جھگڑوں سے ہمارے زخمی ہونے تک اور پھر جنازوں پر لوگ سیاست کرتے ہیں ـ کاش ان طلباء کو اتنا جلدی “لہو کو حاضر” کرنے کا نہ کہا جاتاـ بلکہ انہیں پسینہ بہا کر علم اور کامیاب زندگی حاصل کرنے کہا جاتاـ انہیں یہ بتایا جاتا کہ آپ ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہو، سیاسی اختلاف کو تشدد میں نہ بدلو بلکہ جو بھی وقت یہاں گذرتا ہے ایسی حسیں یادوں کے ساتھ گذارو کہ عمر بھر یاد رہےـ

بہت سے طلباء کو جانتا ہوں جو طلباء کی سیاسی تنظیموں کے ساتھ کام کررہے ہیں ان کی ڈگری دو کے بجائے تین یا چار سال میں ایسے نتیجے کے ساتھ مکمل ہوتی ہے جو دیکھنے کے قابل نہیں ہوتاـ تو پھر یہاں کی گئی سیاست نہ ان کے اپنے علاقوں میں ان کے کام آتی ہے نہ ان کی ڈگری کسی قابل ہوتی ہےـ

لڑائی میں جاں بحق ہوئے سید طفیل الرحمن کی تصویریں دیکھ کر افسوس ہوتا ہے ـ خصوصاً وہ تصویر جب اس کی میت ایمبولینس میں رکھی تھی اور ایمبولینس یونیورسٹی کے مین گیٹ سے باہر جا رہی تھی اور گیٹ پر “الله حافظ” لکھا ہوا تھاـ طفیل نے مادر علمی کو غم ناک انداز میں الوداع کہاـ اس کے گھر والوں نے اسے کن امیدوں کے ساتھ بھیجا تھا اور اس کا کیسے انداز میں انتظار کر رہے تھے اور وہ کس انداز میں گھر پلٹے گاـ

کاش طفیل اتنا جلدی اپنا لہو حاضر نہ کرتاـ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نصیب خان کی دیگر تحریریں