قانون کے رکھوالے، دستورِپاکستان اور حیا کی ڈگری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی قوم ہو جو اس قدر جوش و خروش کے ساتھ اپنے قتل کا ساماں خود کر رہی ہو لیکن ہمیں اس کاوش پر فخر ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کا قاعدہ نمبر 28 کہتا ہے کہ

Medical units exclusively assigned to medical purposes must be respected and protected in all circumstances. They lose their protection if they are being used, outside their humanitarian function, to commit acts harmful to the enemy.

یعنی طبی مقاصد کے لئے قائم میڈیکل یونٹس کا احترام اور حفاظت ہر حال میں ضروری ہے۔ اس وقت تک جب تک وہ دشمن کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال نہ ہوں۔

اسی طرح بین الاقوامی انسانی حقوق کا قاعدہ نمبر 35 اس معاملے کو مزید واضح کرتے ہوئے اصرار کرتا ہے کہ

Directing an attack against a zone established to shelter the wounded, the sick and civilians from the effects of hostilities is prohibited.

یعنی بیمار اور زخمی شہریوں کو پناہ دینے کے لئے قائم زون ( یعنی ان کے علاج معالجے کے لئے قائم علاقے یا عمارت)پر حملہ یا حملے کی ہدایت دینا منع ہے۔

یاد رہے یہ حقوق وضع کرنے والوں کے پیش نظر جنگی حالات تھے لیکن دنیا بھرنے دیکھا کہ یہ فخر مملکت خداداد پاکستان کو حاصل ہوا کہ ہم نے زمانہ امن میں ہی یہ تمغہ اپنے سینے پر سجایا کہ دل کے مریض بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ شہریوں اور ان کے معالجوں پر ڈنڈوں اور اسلحے سے لیس ہو کر چڑھ دوڑے۔ وجہ کیا تھی؟ ڈاکٹر عرفان کی تقریر؟ میری دانست میں تو یہ جواب درست نہیں۔ اصل جواب تو یہ ہے کہ کہانی 23 نومبر کو ایک معزز وکیل کا قطار میں لگ کر اپنی باری پر دوا لینے کی بجائے پروٹوکول کے ساتھ سب سے پہلے دوا طلب کرنے سے شروع ہوئی۔ قصہ مختصر جو بھی ہوا معاملہ نبٹ گیا لیکن پھر ڈاکٹر عرفان نامی ایک موصوف کی تقریر کو بنیاد بنا کر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر ہلہ بولا گیا۔

چھ چھ فٹ اچھل کر وکلا کی ہجو کہتے، شعر پڑھتے ہوئے ان موصوف کی کہانی ایک دوست صحافی نے بیان فرمائی ہے کہ بہاولپورسے تعلق رکھتے ہیں اور والد کی وفات کے بعد ایک وکیل نے ہی ان کی تعلیم کا خرچ اٹھا کر انہیں اس مقام تک پہنچایا۔ کچھ تو اس سرپرست کی ہی لاج رکھی ہوتی۔

پولیس کی حالت تو پوچھئے ہی مت، کوئی عام شہری ہو تو اس کی درگت بنتے دیر نہیں لگتی۔ ایوان عدل میں اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے بعد قانون کے رکھوالے شیر جوان بائی پاس کرنے اور سٹنٹ ڈالنے کی للکار کے ساتھ ہائی کورٹ، پنجاب اسمبلی، ایوان وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤس کے سامنے سے گزرتے ہوئے تقریباَ سات کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ہسپتال تک پہنچے اور پولیس ان کے ہمراہ تھی لیکن مجال ہے کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ کوئی ایس پی، ایس ایس پی، سی پی او، ڈی پی او نظر نہیں آیا۔ ہسپتال تباہ ہوچکا، بے گناہ مریض مارے جا چکے تو ان کو ہوش آیا کہ آنسو گیس نام کی بھی کوئی چیز ان کے پاس موجود ہے۔ تیسرے دن ایک پولیس افسر کا بیان ٹی وی سکرین پر دیکھا جو قانون ہاتھ میں لے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ واللہ! اب سمجھے ابھی تک جو ہوا، قانون کے عین مطابق ہوا۔

اعتزاز احسن اور بیرسٹر بابر ستار جیسوں کی صدا بصحرا ہوئی۔ حامد خان اور لطیف کھوسہ تو بار الیکشن کے محتاج تھے لیکن اٹھارویں آئینی ترمیم کے موجد، جمہوریت کے علمبردار، ایوان بالا کے چیئرمین اور ریاست پاکستان کے سابق قائم مقام صدر عزت مآ ب رضا ربانی صاحب فرماتے ہیں وکلا کے ہسپتال پر حملے کا جواز موجود تھا۔ صد حیف، ہم اس دن کے لئے زندہ تھے۔ بڑے دعوے ہورہے ہیں کہ ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے لیکن لکھ لیجئے کچھ نہیں ہوگا۔ 14دسمبر کے اخبارات کی شہ سرخیوں میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے الفاظ نقل ہیں ”سینئر اور نوجوان وکیل گلدستے لے کر پی آئی سی جائیں اور ڈاکٹروں سے گلے مل کر معاملہ ختم کریں“۔ یہ ایک جملہ ہمارے سماج، نظام حکومت اور عدل کی بہترین، مختصر مگر جامع تشریح ہے۔ لیجئے بن گئے ذمہ داران نشان عبرت۔

یہ صدمے کیا کم تھے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرنے لگی جس میں اٹک کی خاتون اسسٹنٹ کمشنر کو کالج کے چند لونڈے دستور پاکستان کا سبق پڑھا رہے تھے۔ یاد رہے یہ اسسٹنٹ کمشنر اپنے بیج میں امتیازی پوزیشن کے ساتھ کامیاب ہوئی ہیں۔ سہمی ہوئی اسسٹنٹ کمشنر اپنے ہی ادارے کے سینئر اور جونئیر اہلکاروں کے سامنے سر تن سے جدا کی گردان کرتے ان لونڈوں سے اپنے ایمان کی سند حاصل کرنے کی سعی کر رہی ہیں۔ خیر گزری کہ ان کی صفائی کو شرف قبولیت بخشا گیا۔ ورنہ کیا بعید تھا کہ ہمیں ایک اورغازی نصیب ہوجاتے۔ ویسے یہ اسسٹنٹ کمشنر کس کھیت کی مولی ہے، یہاں تو بڑے بڑوں کو میلاد کرانے پڑجاتے ہیں۔

شکوہ ہمیں یہ ہے کہ دنیا ہمارے خلاف سازشیں کرتی ہے۔ کبھی ہم نے اس زاویے سے بھی سوچا ہے کہ دنیا کے پاس اتنا وقت ہی کیوں ہے کہ وہ ہمارے خلاف سازشیں کرتی پھرے اور سازشیں کرے بھی تو کیوں؟ تعلیمی اداروں میں کس قسم کی نسل ہم تیار کررہے ہیں۔ ابھی اس واقعے کا شور تھما نہیں کہ اسلام آباد کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی سے طلبا تصادم اور اس میں ایک طالب علم طفیل الرحمن کے جاں بحق ہونے کی خبر موصول ہوئی۔ اسلامی جمیعت طلبا اور سرائیکی سٹوڈنٹ کونسل کے کرتا دھرتا ایک دوسرے پر الزام دھر رہے ہیں۔ لیکن طفیل الرحمن کے والدین سے کوئی پوچھے کہ انہوں نے گھرسے کوسوں دوراپنی اولاد کو تعلیم کے حصول کے لئے بھیجا تھا یا طلباکی گروہی سیاست کے لئے؟

دارالحکومت میں قائم یہ جامعہ بھی اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ سعودی عرب سے درآمد کئے گئے ایک صاحب صدر جامعہ ہیں جن کو نہ اردو آتی ہے نہ انگلش اور پاکستانیوں کو عربی سے کچھ لینا دینا نہیں۔ یہ گتھی سلجھائے نہیں سلجھتی کہ ان کو کس کھاتے میں برسوں سے اس جامعہ کا کرتا دھرتا بنا چھوڑا ہے؟ خود سعودی عرب نیوم جیسے شہر بسا رہا ہے، سینما گھر کھول رہا ہے، خواتین پر عائد پابندیوں کو ختم کیا جا رہا ہے لیکن اس جامعہ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی لیول کی مخلوط کلاسز بھی گناہ کے زمرے میں آتی ہیں کہ اس سے بے حیائی پھیلتی ہے۔ پھر ایک مخصوص طبقے نے قوم کو اخلاق اور حیا سکھانے کا خود ساختہ ٹھیکہ لے رکھا ہے جسے پوچھنے والا کوئی نہیں۔

آج تک ایسا کوئی طالب علم نہیں دیکھا جو کسی تعلیمی ادارے میں حیا کی تعلیم کے لئے داخلہ لیتا ہو۔ دنیا میں کوئی تعلیمی ادارہ ایسا نہ ہوگا جو حیا کے مضمون میں ایم فل یا پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کرتا ہو۔ ہاں مگر پاکستانی تعلیمی اداروں میں یہ سہولت مفت اور اضافی ہی نہیں، لازم بھی۔ گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ پاکستانی سماج جس میں طلبا یونین اور طلبا تنظیم کا فرق تک کسی کو نہیں معلوم یہاں تعلیمی اداروں کو طلبا سیاست سے پاک رکھا جائے تو طلبا، ان کے والدین اور خود ریاست پر بھی بہت بڑا احسان ہوگا۔ لیکن ہماری پہلے کون سنتا ہے جو اب کوئی سنے گا۔

ڈھلوان کا سفر جاری ہے۔ جس کو موقع ملتا ہے اس گاڑی سے چھلانگ لگا رہا ہے۔ بائیس کروڑ کے اس ملک سے اشرافیہ کو نکال کر عوام نامی کیڑے مکوڑوں سے اگریہ سوال پوچھا جائے کہ انہیں یورپ کے کسی ملک یا امریکہ کینیڈا کی شہریت ملے تو کیا وہ پاکستان سے منتقل ہونا پسند کریں گے؟ میرا خیال ہے شاید ہی کسی کا جواب انکار میں ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •