ماؤں کی آنکھ بچوں کی آرزو پہچانتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن کی باتیں اور یادیں سہانی ہوتی ہیں۔ آج ایک دوست اپنے بیٹے کے بارے میں بتانے لگے، کہ ان کا چھوٹا بیٹا شادی ولیمے کی تقریب میں بہت شوق سے جاتا ہے۔ اور جس دن تقریب میں جانا ہوتا ہے۔ اس دن صبح سے اپنے کپڑوں اور جوتوں کی فکر میں لگ جاتا ہے، کہ آج کیا پہن کر جانا چاہیے۔ دوست کی بات سن کر اپنے بچپن کا واقعہ یاد آ گیا۔ جو بے اختیار شیئر کرنے کو دل چاہا۔

1975 یا اس کے آس پاس کا زمانہ تھا۔ سادگی کا دور تھا۔ میں چونکہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہوں اور مشترکہ خاندانی نظام میں پلا بڑھا ہوں۔ اس وجہ جب نئی جماعت میں ترقی پاتے تھے، تو اپنے سے بڑے بہن بھائیوں اور کزنز کی پرانی کتابیں مل جایا کرتی تھیں۔ پرانی کتابوں کی جلد سازی چھوٹی عمر میں سیکھ لی تھی۔ جلد سازی کر کے ان کتابوں کی تزئین و آرائش کر لیتے تھے۔ کپڑے عیدوں پر ہی بنتے تھے۔ جو سال بھر میں چھوٹے بھی ہو جاتے تھے۔ تو ہوتا یہ تھا، کہ امی بڑے بھائیوں کے کپڑے بھی کاٹ چھانٹ اور تراش کر میرے لیے پہننے لائق بنا دیتی تھیں۔

سچ پوچھیں، تو میری بھی بڑے بھائیوں کی پتلونوں پر نظر ہوتی تھی۔ اور انتظار میں رہتا تھا، کہ پہننے کو ملیں۔ قصہ مختصر، کہ گھر میں یکے بعد دیگرے دو چار شادی ولیمے کے دعوت نامے آ گئے۔ دعوت نامے دیکھ کر فوراً کپڑوں کی طرف دھیان گیا، کہ کس تقریب میں کون سے کپڑے پہنیں گے؟ کپڑے تو مرضی مطابق تھے نہیں۔ بڑے دل گرفتہ اور پریشان تھے، کہ کریں تو کیا کریں؟ والدین سے براہ راست فرمائش کپڑوں کے حوالے سے کبھی کی نہیں تھی۔

عمر یہی کوئی نو دس سال تھی۔ انہی سوچوں میں غلطاں تھے، کہ کیا کیا جائے؟ تو ایک تدبیر سوجھی، کہ نئے کپڑوں کے حوالے سے مطالبات بذریعہ خط والدین تک پہنچائے جائیں۔ سو ایک تحریر لکھی، کہ کس کس رنگ کی کتنی پتلونیں اور قیمضیں اور جوتے تقاریب میں پہننے کے لیے درکار ہیں۔ خط اپنے تئیں دھمکی آمیز لکھا۔ دھمکی کی مختصر تفصیل یہ ہے، کہ مطالبات اگر فی الفور پورے نہیں کیے گئے، تو قریبی عزیزوں کے شادی اور ولیمے کا پر زور بائیکاٹ کیا جائے گا۔

خط تو جیسے تیسے کر کے خوش نما لکھ لیا۔ اب مسئلہ تھا، کہ خط والدین کے حوالے کیسے کریں۔ براہ راست خط ہاتھ میں تھما دینے کی ہمت نہیں تھی۔ تو ایک اور ترکیب سوجھی، کہ خط کو باورچی خانے کے الیکٹرک سوئچ میں ایسے پھنسا کر لٹکا دیا جائے، کہ امی جب علی الصبح باورچی خانے جائیں اور بلب جلائیں، تو بلب جلانے سے قبل خط امی کے ہاتھ ہو۔ سو جب سب سو گئے، تو چپکے سے جا کر خط سوئچ میں پھنسا دیا۔

صبح اٹھے، معمول کے مطابق سکول جانے کے لیے تیار ہوئے، ناشتہ کیا اور سکول چلے گئے۔ پڑھائی اور ہم جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنے اور کھیل کود میں خط کا خیال ہی نہیں آیا، کہ کیا ہوا ہوگا، جب امی نے صبح سویرے بیٹے کا دھمکی آمیز خط پڑھا ہوگا؟ سکول سے گھر پہنچے تو امی نے کہا، کہ کھانا کھانے کے بعد تیار ہو جانا۔ چپ چاپ تیار ہو گئے۔ امی نے میرا اور مجھ سے بڑی اکلوتی بہن کا ہاتھ پکڑا اور بس سٹاپ کی طرف چل پڑیں۔

بس میں بیٹھ کر صدر پہنچے۔ تو امی نے کہا، ´´جہاں سے اور جیسے کپڑے خریدنے ہیں، خریدو۔“ ڈرتے ڈرتے جلال الدین اینڈ سنز کلاتھ مرچنٹ کی مشہور و معروف دکان پہنچے۔ مرضی مطابق کپڑے خریدے اور اسی دن درزی کو سلنے کو دے دیے۔ امی نے خوش دلی سے کپڑے دلائے اور درزی کی دکان پر بھی لے گئیں۔ کام تو سارے حسب منشا ہو گئے، لیکن ایک عجیب قسم کا خوف و ڈر تھا۔ چونکہ امی نے خط کے متعلق کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔

رات کو کھانے کے وقت سب جمع ہوئے، تو پاپا مرحوم نے مجھے بہت پیار کیا اور میرے خط لکھنے کے عمل اور منصوبے کو بہت سراہا۔ اور سب بہن بھائیوں کو بتایا کہ گڈو نے کیا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ یہ تحریر لکھتے وقت پاپا مرحوم کی شفقت و محبت کو یاد کر کے آنکھیں نم و تر ہیں۔ حقیقت ہے، کہ وقت بیت جاتا ہے۔ لیکن بچپن کی سہانی یادیں کبھی پیچھا نہیں چھوڑتیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •