کیا ‘آپ سب’ سوچتے ہیں’ ہم سب’ کے بارے میں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‘آپ سب’ پاکستان میں رہنے والے اور ‘ہم سب’ پردیس میں بسنے والے!

آپ سب کا خیال یہ ہے کہ ہم سب پاکستان سے باہر چین کی بنسی بجا رہے ہیں، ہر دن عید ہے اور ہر رات شب برات، سو ہمیں کسی کی فکر میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں۔

ہر کسی کی جنم بھومی اس کے لئے افتخار کا باعث ہوا کرتی ہے۔ دیس کی یاد دل کی دھڑکن ایسے بے ترتیب کرتی ہے جیسے محبوب کی یاد اور ہرا پرچم دیکھ کے آنکھ میں ایک طرف ستارے جگمگاتے ہیں تو دوسری طرف آنسو۔ لیکن کیا کیجیے کہ ہر گزرتا دن ہماری گردن جھکاتا چلا جاتا ہے، ہماری آنکھوں میں ندامت اترتی چلی جاتی ہے، ہمارے الفاظ ہوا میں ہی منجمد ہوئے جاتے ہیں۔

احباب کو ہماری مکالمہ بازی کی صلاحیت پہ کوئی شک نہیں۔ لیکن پچھلے کچھ برسوں میں کچھ مقامات ایسے آئے جب نہ صرف ہماری قوت گویائی سلب ہوئی بلکہ ندامت اور ذلت کے احساس سے بے اختیار زمین پھٹنے اور اس مقام سے اوجھل ہونے کی دعا کی۔

ہم سعودی عرب کے ایک بہت بڑے ہسپتال میں تعینات تھے۔ اقوام عالم سے تعلق رکھنے والے بھانت بھانت کے ڈاکٹر تھے۔ صبح کا آغاز ہر ڈیپارٹمنٹ اپنی میٹنگ سے کرتا۔ ایک صبح ہم میٹنگ کے کمرے میں داخل ہوئے تو گھمبیر خاموشی کے ساتھ چالیس لوگوں کی استفہامیہ نظروں کو اپنی طرف متوجہ دیکھا۔ اس خاموشی کو ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے توڑا اور کہا

 ” یہ لال مسجد کا کیا قصہ ہے؟”

ملک کا دارالحکومت، مذہبی انتہا پسندوں اور ریاست کا ٹکراؤ، اسلحہ، گولہ باری، اموات، لاشیں، محصورعورتیں اور لڑکیاں، ہتھیار نہ ڈالنے کی ضد، زہریلی گیس، برقعے میں ملبوس فرار ہوتا مولوی!

وہ سب، یہ شرمناک مناظر دیکھ چکے تھے۔ اب لبوں پہ رائے زنی تھی، آنکھوں میں حقارت تھی، الفاظ میں استہزائیہ کیفیت تھی۔

ہمارے لئے کچھ کہنے کو بچا ہی نہیں تھا شرمندگی سے سر نہوڑائے بیٹھے رہے۔

دوسرا دشوار مقام کچھ برسوں بعد سہنے کو ملا۔ یہی دسمبر کا قاتل مہینہ تھا۔ ہم ہسپتال کے کیفے ٹیریا میں داخل ہوئے جہاں عام حالات میں کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔لیکن اس دن اس بڑے ہال میں تقریباً سو ڈیڑھ سو لوگوں کی موجودگی میں ایسا سناٹا تھا کہ مانو سوئی گرنے کی آواز سنائی دے جائے۔ ہر چہرے کے تاثرات ایسے کہ کلیجہ کٹنے کو آئے، ہر آنکھ ڈبڈبائی ہوئی آنسوؤں کا سمندر لئے، دبی دبی سسکیاں فضا میں تیرتی ہوئیں اور ہم منظر نگاہ اور ہماری یہ کیفیت کہ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں۔

بڑی سکرین پہ قتل و غارت کی تصویر کشی تھی، لاچار ماں باپ کے بین تھے، ہمارے حواس ساتھ چھوڑ چکے تھے، دل تھا کہ ڈوبتا ہی چلا جاتا تھا۔ وطن عزیز کے سکول میں بچوں کے قتل عام نے پتھر دل لوگوں تک کو رلا دیا اور طالبان پاکستان نے ذمہ داری قبول کر کے ہم پاکستانیوں کے انسان ہونے کے مقام کو ہی چیلنج کر ڈالا۔ ایسا تو جنگلوں میں بھی نہیں ہوا کرتا۔

دسمبر 2014 میں ہم جس طرف بھی جاتے، کچھ نگاہیں ہماری طرف اٹھ جاتیں۔ بولتی نگاہیں، طنزیہ، دکھی، حیران، استہفامیہ، اور ہم نے سوائے سر جھکا کے آنکھیں چرانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ کہنے اور کرنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔

ابھی تک ہم دل کو بہلائے پھرتے تھے کہ وطن میں ہونے والے واقعات کی آگ جاہل مذہبی تنظیموں کے متشدد رحجانات نے بھڑکائی ہے ورنہ ہم ایسے عاقبت نااندیش نہیں۔ بہت سے غیر ملکی ساتھیوں کو یہ سمجھاتے ہوئے ان کی آنکھوں میں اکثر ناسمجھی کی کیفیت دیکھتے لیکن انجان بن جاتے۔ ہم کھمبیوں کی طرح اگ آنے والے مدرسوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بہت سے موقعوں پہ ہم اپنی تعلیم یافتہ پود کے مختلف ہونے کا راگ الاپتے۔

اور ہماری دفاعی حکمت عملی میں اس دن ایک بڑی دراڑ آئی جب یونیورسٹی کے طلباء نے مشال خان کے جیتے جاگتے وجود کو یونیورسٹی گراؤنڈ میں ریزہ ریزہ کر دیا، بنا کسی ثبوت، بنا کسی عدالت اور بنا کسی تحقیق۔ ہم سے سوال کرنے والوں کے چہروں پہ کچھ تھا جو ہمیں قعر مذلت میں دھکیلتا تھا۔ ہر چہرے پہ ایک ہی تحریر لکھی تھی، ” ہم کس طرح کی نسل کو پروان چڑھا رہے ہیں؟ ہم اعلیٰ ترین تعلیم پانے والوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ وہ بربریت کا کونسا عنصر ہے جو ہماری قوم کے جوانوں کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے، جو لہو پیے بغیر سیراب ہی نہیں ہو پاتا اور تعلیم اس لہو کی پیاس کو ٹھنڈا ہی نہیں کر پا رہی”

ہمارے پاس کسی تحریر اور کسی استفسار کا کوئی جواب نہیں تھا۔

اور جو مقام اب آیا ہے اس کے نتیجے میں پچھلے تین دن سے ہم سکتے میں ہیں۔ جی چاہتا ہے منہ چھپا کے کہیں پڑے رہیں۔

لاہور کی سڑکوں پہ جو مناظر ہم نے اور اقوام عالم نے دیکھے ہیں۔ چھاتی تان کے گری ہوئی زبان استعمال کرتے ہوئے، گاڑیوں کو آگ لگا کے ناچتے ہوئے، ہسپتال میں داخل ہو کے موت کی سرحد پہ کھڑے ہوؤں کو اس کے پار دھیکیلتے ہوئے، ڈاکٹروں کو بدمعاشوں کی زبان میں للکارتے ہوئے، لڑکیوں کی بس کو روک کے نعرہ بازی کرتے ہوئے۔

کیا واقعی یہ لاہور ہے؟ اور کیا یہ میرے تعلیم یافتہ لوگ ہیں ؟

کیا کہوں؟ کیسے بتاؤں پوچھنے والوں کو کہ میرے ملک میں انصاف فراہم کرنے والے کس مقام پہ کھڑے ہیں؟

اور کیا کہوں کہ شفا عطا کرنے والوں کی کس بدتمیزی نے جلتی پہ آگ لگائی ہے؟

کیا کہوں کہ میرے دیس میں وکیلوں اور ڈاکٹروں کے پاس اعلیٰ ڈگریاں تو ہیں لیکن انسانیت کے مقام تک پہنچنا نصیب میں نہیں۔ میری سرزمین پہ بسنے والے تعلیم یافتہ بھی اس لکیر سے نیچے گر چکے ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کی حدود کا تعین کرتی ہے۔ ہم نے ستر سال کا سفر الٹے پاؤں طے کیا ہے، جہاں منزل کی خبر ہونا تو دور کی بات، ہمارا انداز تو پاتال میں اترنے کی خبر دیتا ہے۔

مذہبی انتہاپسندی، جہاد کا تڑکا، اداروں کی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون، بنیادی تعلیم کی تدفین اور اعلی تعلیم میں میرٹ کی نظر اندازی، قومی اور تعلیمی اداروں کی تباہی نے یہی آتش فشاں اگلنا تھا۔ ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں نے نا اہلیت کو راج کرتے اور اہل کو مفلوج دیکھا ہے۔ جائز اور ناجائز کی دھندلی شناخت نے ان اداروں سے ایسے نابینا تعلیم یافتہ پیدا کیے ہیں جو اپنی شہ رگ اپنے ہاتھوں سے قطع کر رہے ہیں۔

اور ہمیں بھی یہ سب سہنا ہے کہ خمیر اسی مٹی سے اٹھا ہے۔ نیویارک ٹائمز کا کالم پڑھ کے (لنک) اور انٹرنیشنل میڈیا کی خبریں سن کے گردونواح کے لوگوں کی نگاہوں میں اجنبیت ہے ہمارے لئے، حقارت اگل رہی ہے ہمارے لئے، استہزا ہے ہماری ذہنی سطح کے لئے۔ ہماری ذات بہت سی اٹھی انگلیوں کا نشانہ ہے۔ اقوام عالم ہم سے بیزار ہو چکی ہیں، ہماری قوم کی بے وقوفیوں اور انگارے بھری حرکتوں سے دنیا عاجز ہے۔

 مان لیجیے کہ ہم دنیا میں بدنام ہو چکے، اور ہماری جائے پناہ کہیں نہیں کہ ہم نے اپنے گلستان کو خود آگ لگائی ہے۔

ہمیں بتا دیجیے کہ ہم کیا کریں؟

https://www.nytimes.com/2019/12/12/world/asia/pakistan-lahore-lawyers-attack.html

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •