سقوطِ ڈھاکہ


قومی زبان کے تنازعے، جغرافیائی فاصلے اور تحقیر آمیز روئیوں نے دلوں میں پہلے ہی قربت کم کر دی تھی مگر جب مشرقی پاکستان سے شکایت آئی ”اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی ہے تومغربی پاکستان سے جواب دیا گیا، اِدھر تُم اُدھر ہم، تو دو بھائیوں کی ناراضگی اور قائد اور اقبال جیسے ہمدرد اور سمجھدار بڑوں کی عدم موجودگی کا دشمن پڑوسی نے خوب فائدہ اٹھایا اور گورے سے سیکھا گیا“ ڈیوائیڈ اینڈ روول ”والا حربہ استعمال کیا گیا۔ یوں دونوں بھائیوں کا ایک گھر، گھر نہ رہا مکان بن گیا۔

صد افسوس کے بٹورا دونوں بھائیوں کے دلوں میں نفرت کا بیج بو گیا۔ میں نے پڑھا تھا کہ یہ کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد جنگی قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے ہتھیار ڈالنے کا سب سے بڑے، اور امت مسلمہ کی تاریخ میں سقوط بغداد اور سقوط غرناتا کے بعد بد ترین وآقعے نے جنم لیا۔ نہ صرف یہ بلکہ پاکستان بد قسمتی سے رقبے اور آبادی دونوں کے لحاظ سے بلاد اسلامیہ کی سب سے بڑی ریاست کے اعزاز کا تمغہ بھی اپنے سینے پر قائم نہ رکھ سکا۔

آپ نے رومانٹک فلموں میں محبوب کو پانے کے لیے ٹرائی اینگل اسٹوری تو دیکھی ہی ہے۔ اس وآقعے میں ہیروز تھے سیاستدان اور ان کی محبوبہ تھی اقتدار۔ محبوب کو پانے کے اس ٹرائی اینگل کھیل میں ہم نے بالکل بچوں کی طرح دانستہ یا نا دانستہ طور پر اپنے محبوب وطن پاکستان کو توڑ کر ہی رکھ دیا۔ سقوط ڈھاکہ کا غم اگر سمجھنا ہے تو ان بوڑھی آنکھوں میں دیکھا جا سکتا ہے جنہوں نے تقسیم ہند کے وقت اپنے پیاروں کے لاشے اٹھائے۔

کاش میں آپ کو وہ بوڑھی کانپتی، روتی، بین کرتی، پچھتاوے کے احساس سے لبریز آواز سنا سکتا جو مجھے ہماری اجتماعی بے حسی کی روداد سنا رہی تھی۔ جو اس دھرتی کو ماں سمجھتے ہیں اور سقوط ڈھاکہ کی شکل میں انھوں نے اپنی ماں کے ٹکڑے ہوتے دیکھا۔ پچھتاوا ان آنکھوں میں جم گیا ہے اور اپنے بھائیوں کے بچھڑنے کا غم ان کے دل میں بیٹھ گیا ہے۔

حق تلفی زیادہ دیر تک چُپ بیٹھ نہیں سکتی ایک حد کے بعد اس نے ری ایکٹ کرنا ردعمل دکھانا ہی ہوتا ہے یہ اس کی فطرت ہے اور پھر ایسے کاموں کا انجام سقوط ڈھاکہ سے سِوا نہیں ہوتا۔ خیر یہ تو قصہ پارینہ ہوا۔ رفیق دل فگاراں کی روداد ہوا، ماضی کے جھروکوں سے ایک کراہتی یاد کا بیاں ہوا۔ کبھی آپ نے سوچا ہم آج کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے سانحات سے کوئی سبق حاصل کیا؟ سبق تو دور کی بات کیا ہمارے کانوں پہ جوں رینگی؟

موجودہ حالات دیکھ کر تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ کہیں تاریخ خدا نخواستہ ایک بار پھر ہمیں اپنا پڑھایا ہوا سبق دوبارہ نہ پڑھا دے عزیر ہم وطنو، دشمن کی مکاری کا گلہ کیوں کرتے ہو؟ دشمن کا روئیہ عموما ایسا ہی ہوتا ہے، وہ تو ہے ہی دشمن اگر وہ آپ کی کمزوریوں کا فائدہ نہیں اٹھاتا تو میری دانست میں وہ بڑا ہی بے وقوف دشمن ہے ہمیں اپنے اندر سے ایسے عناصر کو ادھیڑپھینیکنے کی ضرورت ہے جو ہمارے مابین نفرت بن رہے ہیں۔

کسی دانشور نے کہا ہے کہ امن دو جنگوں کے درمیان وقفے کا نام ہے یاد رکھیے دشمنوں کے مابین امن کا وقت جنگ کی تیاری کا مرحلہ ہوتا ہے۔ اسے غفلت میں مت گنوائیے۔ جب ملک عین حالت جنگ میں تھا تو میں اس وقت کے صدر عزت مآب محترم جناب آغا محمد یحیی خان نے پاکستانی پائلٹوں کو روک کر ان کا مورال بلند کرتے ہوئے کچھ کلمات ادا کیے اور موصوف ڈگمگاتی اور مخمور اداوں کے ساتھ فضا ء میں مُکا لہراتے ہوئے خود زمیں پہ گر گئے۔ وہ کلمات تھے "میرے بچو بھارت پر ٹوٹ پڑو اور اسے تباہ کر دو ”۔

تو جناب گزارش ہے کہ لیڈر چنو لیڈر 10 کروڑ الیکشن میں لگا کر 100 ارب بنانے والے سیاستدان نہیں۔ ہمیں خود کو بیرونی تو یقینا مگر اندرونی طور پر بھی اتنا مضبوط کرنا ہے کہ دشمن کسی بھی ممکنہ جارحیت کے حوالے سے سوچ کر بس سوچتا ہی رہ جائے۔

آپ کو تو بھاشن دے دیا اب مجھے اپنا چورن بیچنے کے بعد ٹی وی پر دکھائے جانے والے اشتہار کے مطابق ذرا نہیں بلکہ بہت زیادہ سوچنا ہے کہ کیا مجھے یُوں ہی لفظوں کی الٹیاں کرنی ہیں یا پھر واقعی کوئی عملی اقدام بھی اٹھانا ہے۔

Facebook Comments HS