جو کرن قتل ہوئی شعلہ خورشید بنی
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ایک سال سے سوشل میڈیا اور نیوز پیپر کی زینت بنی ہوئی ہے میرٹ کی پامالیوں کی وجہ سے اور اقربا پروری کی وجہ سے، یونیورسٹی کے انتظامی حالات انتہائی ناگفتہ ہیں ایچ سی سی سے لے کر ایجوکیشن منسٹری تک کے کان میں جوں تک نہیں رینگتی، کسی میں اتنی جرات اور ہمت نہیں کہ امپورٹڈ پریزیڈنٹ سے معاملات کے بارے استفسار کرے، پچھلے 10 دنوں تک اساتذہ کشمیر ہاؤے پہ دھرنا دیے بیٹھے رہے کسی حکومتی منسٹر نے اساتذہ سے اظہار ہمدردی تک کرنا گوارا نہ کیا وہ جن کی زبانیں مخالفین کے لیے دو گز ہمیشہ باہر نکلی ہوئی ہوتی ہیں۔
ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ حاصل کرنے والے اساتذہ کو انتظامیہ کی چوری پکرنے کی پاداش میں برطرف کر دیا گیا کسی میں ہمت نہیں ہوئی اساتذہ کو انصاف دلائے۔ معاملات عدالتوں میں زیر بحث آئے لیکن ہماری عدالتی نظام ایسا ہے کہ انصاف لینے کے لیے مرنا پڑتا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نام کی وجہ سے ہی سیکولر فاشسٹوں کی نظروں میں ہمیشہ سے کھٹکتی رہی ہے خودکش حملوں سے لے کر اساتذہ کی برطرفی نیز یونیورسٹی میں ہمیشہ سے اک گٹھن کا ماحول رہا ہے اور آج یہ اندوہناک دن دیکھنا پڑا کے تعلیم و تربیت کی غرض سے ملک کے دور افتادہ علاقے گلگت سے آئے ہوئے طالب علم سید طفیل ہاشمی انتظامیہ کی نا اہلی اور سیکولر فاشسٹوں کی نظر ہو گیا۔
اسلامی جمعیت مدر علمی میں مذہب اور دین بیزار سیکولر فاشسٹوں سے ہمیشہ نبرد آزما رہی ہے۔ جمیعت کا یہ خاصہ رہا ہے کہ یہ مادر علمی میں سالانہ بک فئیر کا انعقاد کرتی ہے جس میں جڑواں شہروں سے بہت سارے کتب فروش اپنا سٹال لگاتے ہیں اور طلباء کو معیاری اور سستی کتابیں فراہم کرتے ہیں اسی کے ساتھ ساتھ طلباء کے اندر کردار سازی کے حوالے سے بھی مختلف پروگراموں کا انعقاد کرتی ہے جو ایک صحت افزاء اور علم دوست عمل ہے، یہی وہ محرکات ہیں جو اسلامی جمعیت طلبہ کو دوسری مدمقابل تنظیموں سے ممتاز کرتی ہے۔
شہید طفیل بھی اپنے علمی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ دوسرے دوستوں کی کردار سازی کے عمل میں بھی پیش پیش تھے درس قرآن کے روح رواں تھے، اللہ تعالیٰ طفیل کی شہادت قبول فرمائے اسلام پسند ہمیشہ سے مشکلات میں رہے ہیں لیکن ان کے حوصلے کبھی پست نہیں ہوئے سید قطب شہید سے لے کر محمد مرسی تک اور سیدی مرشدی سید ابوالاعلی مودودی سے لے کر سید منور حسن تک ثابت قدمی کے لازوال داستانیں رقم ہیں اور آج اک نیا اضافہ سید طفیل شہید کی صورت میں ہمارے سامنے ہے اللہ بھائی کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین۔


