جعفرآباد میں ہفت روزہ حقل کے چیف ایڈیٹر جہانگیر خان پر قاتلانہ حملے کے ملزم گرفتار نہیں ہو سکے


رواں ماہ کی تین تاریخ کو جعفرآباد کے معروف ہفت روزہ اخبار حقل (للکار) کے دفتر پہ حملہ کیا گیا۔ نامعلوم ملزمان نے رات گیارہ بجے کے قریب اس وقت حملہ کیا جب اخبار کے چیف ایڈیٹر جہانگیر خان المعروف جاوید دھرپالی اخبار مرتب کرنے میں مصروف تھے۔

چھ سے سات ملزمان مین کوئٹہ روڈ پہ واقع حقل کے دفتر میں داخل ہوئے۔ کلاشنکوف اور پستول سے مسلح دو ملزمان نے حقل اخبار کے چیف ایڈیٹر کے بھائی الطاف حسین اور صحافی دلشاد احمد کھوسہ کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنایا جب کہ دیگر ڈنڈا بردار ملزمان نے حقل کے چیف ایڈیٹر جاوید دھرپالی کو بے رحمانہ طریقے سے مارنا شروع کیا اور اس وقت تک مارتے رہے جب تک حقل کے چیف ایڈیٹر خون میں لت پت ہو کر بے ہوش نہ ہوگئے۔ ملزمان نے جاتے ہوئے آفس کو باہر سے کنڈی لگا کر بند کر دیا۔

قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے والے اخبار کے چیف ایڈیٹر جاوید دھرپالی کے بھائی الطاف حسین اور صحافی دلشاد احمد کھوسہ نے موبائل فون کے ذریعے پولیس سے رابطہ کر کے واقعہ کی اطلاع دی۔ اطلاع کے دس منٹ بعد مقامی پولیس، اخبار کے دفتر پہنچی اور دفتر کے باہر لگی کنڈی کھول کر دفتر میں داخل ہوئی۔ پولیس نے زخموں سے چور و بے ہوش پڑے اخبار کے چیف ایڈیٹر کو مقامی اسپتال پہنچایا۔ جہاں طبی امداد کے بعد انھیں سول اسپتال جیکب آباد (سندھ) ریفر کر دیا گیا۔

پولیس نے اخبار کے چیف ایڈیٹر کی مدعیت میں نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تاہم تاحال ملزمان گرفتار نہیں ہوئے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پیر 16 دسمبر کو ایس ایس پی جعفرآباد کے دفتر کے سامنے صحافتی و سماجی حلقوں کی جانب سے ایک دھرنا دیا گیا۔ شرکا نے ملزمان کے خلاف نعرے بازی کی۔ مقررین نے دھرنے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود ملزمان کی عدم گرفتاری ثابت کرتی ہے کہ حملے کے پس پشت کتنے بااثر لوگوں کا ہاتھ ہے۔ اس سے انتظامیہ کی نااہلی بھی ثابت ہوتی ہے۔ صحافیوں نے خبردار کیا کہ اگر جلد انصاف نہ ملا تو بلوچستان سمیت ملک بھر کی صحافتی تنظیموں سے رابطہ کر کے ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

مقررین نے کہا کہ ہم پاکستان بھر کی سیاسی وصحافتی تنظیموں نیز مرکزی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہفت روزہ حقل جعفرآباد کے چیف ایڈیٹر جاوید دھرپالی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزمان کو فوری گرفتار کرنے میں تعاون کریں۔  نیز ہم آئی جی پولیس بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پولیس تھانہ ڈیرہ اللہ یار کے انچارج گل حسن بہرانی اور ایس ایس پی علی آصف شاہ کو ہٹا کر غیرجانبدار فرض شناس اور بہادر افسران کو تعینات کیا جائے تاکہ اخبار کے چیف ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کرنے والے بااثر ملزمان گرفتار ہو سکیں۔

بشکریہ: حال احوال، کوئٹہ

Facebook Comments HS