سانحہ آرمی پبلک سکول


یہ عجب مناظر تھے۔ یہ درسگاہ تھی جہاں بچے علم حاصل کرنے آتے تھے۔ نرم شاخیں، وہ کلیاں جو پھول بنتی ہیں۔ ماؤں باپوں کے خواب، بہنوں اور بھائیوں کی محبتیں، دادا دادی اور نانا نانی کے لاڈ، کِھلتی ہوئی ہنسیاں۔ یہ بچے نہ تھے، رب کا بنایا عالم تھا، ہر بغض و کینہ سے پاک، رب کا رنگ لیے۔ ان کو دیکھو تو مایوسی بھی جی اُٹھے، یہ نغمے تھے سرشاری کے، اُمنگ کے۔

یہ ماؤں کے سہارے تھے۔ وہ ماں جو سردیوں کی تاریک راتوں میں اُس وقت اُٹھتی جب سورج بھی اپنے بستر سے نہ نکلا ہوتا۔ کہیں لکڑیاں جلاتی، پھونکیں مارتی آنکھوں میں آنسو بھرل اتی۔ کہیں کم ہوتی گیس میں دعا کرتی کہ ایک لمحے کو گیس جل اُٹھے تو بچوں کا ناشتہ وقت پر تیار کر دوں کہ کہیں سکول سے لیٹ نہ ہو جائیں۔ باورچی خانے سے پھر بچے کے بستر کو لپکتی، اُس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتی، پیار سے اُٹھاتی، ماتھا چومتی کہ اُٹھ کر نماز پڑھ لے اور سکول کے لیے تیار ہو۔

کوئی بچہ آرام سے اُٹھ جاتا، کوئی بستر پر ہی کروٹیں بدلتا رہتا، کوئی آدھی بند آنکھوں سے مزید سونے کا اصرار کرتا۔ ماں کا ایک قدم باورچی خانے کی جانب جاتا کہ ناشتہ اب تک تیار نہ ہوا ہوتا اور دوسرا قدم بچے کو جگانے کو اُٹھتا۔ کبھی پیار سے، کبھی ڈانٹ کر ؛ اُٹھو، سکول کو چلو۔ یہ مائیں عجب ہیں، خدا کا روپ ہیں۔ ماں، کبھی ٹھٹرتی سردی میں خود کانپتی بچوں کو گرمائش دیتی، کبھی سخت گرمی میں خود جلتے بچوں کو سایہ فراہم کرتی۔ بچے کے پاوں پرایک ننھا کانٹا لگنے پر ساری ساری رات بے حال رہتی، خود بھوکی رہتی بچے کے ایک ایک لقمے کا خیال کرتی، اپنے ارمانوں کی قربانی دیتی بچوں کی خواہشات پوری کرتی، اپنے دکھوں کو اولاد سے چھپاتی، آبدیدہ بھی ہو تو اپنے آنسو آنکھوں کے کونوں پر سہار دیتی۔

ان بچوں کو سکول چھوڑتے اُن کے باپ تھے، اپنی آنکھوں میں ان گنت خواب بسائے، صبح سے شام تک اپنی بساط سے بڑھ کرمحنت اورجدوجہد میں مصروف۔ شام کو جب تھکے ہارے گھر آتے تو بچوں کو دیکھ کراُن کی تھکن دور ہو جاتی۔ چھوٹے بچوں کو ہوا میں اُچھالتے، کبھی بستر پر کشتی میں اُن سے جان بوجھ کر ہارتے، کرکٹ میں اُنہیں گیندیں کراتے اور آوٹ ہونے کی صورت میں خود ہی نو بال کی آواز لگا کر ایک اورباری دیتے۔ جمعہ پڑھ کر گھر آتے تو گھر کے دروازے تک کی دوڑ میں جان بوجھ کر ہار جاتے۔ آج جب یہ پودے جوانی کی طرف بڑھ رہے تھے تو باپ اپنے کئی دکھ بھول جاتے۔

یہ بچے مختلف خاندانوں سے آئے تھے۔ اِن میں شہر کی ہر آبادی کا رنگ تھا۔ امراء کے بچے تھے توغرباء کے گھروں کے چراغ بھی، فوجی افسروں کے بیٹے تھے تو سپاہیوں اور صوبیداروں کے لختِ جگر بھی۔ گورے پٹھان طالبعلم تھے تو پنجاب سے تعلق رکھنے والے گندمی رنگ بھی۔ انہیں میں میرے دوست ڈاکٹر گلزار کا بیٹا بہرام تھا، محبت آمیز، ملنسار، گرم جوش۔ ان میں باورچی زاھد کا بیٹا ابرار بھی تھا۔ کک زاھد جس کے جسم کی رنگت سردی گرمی میں آگ کے سامنے مسلسل کام کرکے بدل گئی تھی۔

مگراس ایذا پہنچاتی آگ کے سامنے جب اُسے اپنے بیٹے کا خیال آتا تو یکایک ایک ٹھنڈک اُسے تقویت دیتی، اُس وقت زاھد کواپنا پیٹ کاٹ کرابرار کی فیسیں ادا کرنا بالکل بھی بھاری نہ لگتا۔ ان میں میرے شاگرد حفیظ الرحمان کا چھوٹا بھائی عاطف الرحمان تھا، گول چہرہ، معصوم آ نکھیں، جذبات ایسے کہ آسمان کو چھو لے۔ یہ اوراُن کے تمام ساتھی سبز رنگ کے کوٹ پہنے تھے۔ ان سب کی آنکھوں میں چمک تھی اوردنیا تسخیر کرنے کا جذبہ۔ ان میں ابھرتے مقرر تھے، کرکٹ اورفٹبال کے شیدائی، بالوں کے مختلف سٹائل بناتے شرارتی لڑکے، بہنوں کے بال کھینچتے، استادوں کی نقلیں اتارتے، محبتیں بانٹتے۔

یہ سفر پہ نکلے صحرا نورد تھے، ایسے مسافر تھے جن کے کپڑے مختلف علاقوں کی گرد سے چمکتے اورجن کے ذہن مختلف علاقوں کی کہانیوں سے مزین ہوتے۔ مگر اُس دن اُن کے کپڑے لہو رنگ تھے، سبزرنگ اُس دن ان کے خون کی لالی سے بھر گیا۔ اُس دن کتابوں کے اوراق پرالفاظ سیاھی سے نہیں بلکہ جواں خون سے لکھے تھے۔ اُس دن کئی سرپھرے سامنے آتی موت سے جا ٹکرائے۔ بڑے بھائی اپنے چھوٹے بھائیوں کو بچاتے مارے گئے، وہ بھائی جو اُن کے ماں جائے نہ تھے۔ سکول میں بڑی جماعت میں ہوتے بھائی جان ہونے کا حق انہوں نے اپنے خون سے ادا کیا۔

یہ عجب منظرتھا، سکول کا مین ہال ایک قربان گاہ بنی، جہاں قطع نظر رنگ و نسل، عمر و  قد صرف آرمی پبلک سکول کا یونیفارم ہی وجہِ قربانی بنا۔ اس قیامت میں عجب منظرتھا، ان درندوں کے سامنے ایک ماں کھڑی تھی، موت کے بالمقابل، بربریت اور درندگی کے روبرو، گولیوں کی بوچھاڑ کے سامنے، تن تنہا، نہتی۔ استاد کے لیے شاگرد اولاد کی مانند ہوتے ہیں۔ یہ للکارتھی اُن بزدلوں کے لیے کہ اس ماں کی لاش سے گزرکرہی تم اولاد تک پہنچ پاؤ گے۔ میری بہن، اس فانی دنیا میں تو نے عمل سے کر دکھلایا کہ بہادری کیا ہوتی ہے۔ بہادری ہتھیار، صحت، کمزوری، مرد، عورت کی تفریق سے کہیں اوپر ہے اور تو بہادر ہے، بہادر۔ سامنے آتی موت کی آنکھوں میں ایسے آنکھیں ڈالے کھڑی تھی کہ موت آنکھیں چرانے لگی۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان توآنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

یہ عجب مناظر تھے۔ دیواریں گولیوں سے چھلنی، چھتیں آگ سے سیاہ رنگ، جا بجا بکھرے ہوئے بستے، سینے گولیوں سے فگار، جلے ہوئے دروازے اورکرسیاں، فرش جلی ہوئی کاپیوں، کتابوں اورخون سے اٹا ہوا۔ مگرپھرایک جانب نگاہ پڑتی ہے تو سکول کا قول دیوار پر کندہ نظر آتا ہے۔

I shall rise and shine۔

آئیے ہم سب مل کر اٹھیں اوراکٹھے ہو کر ان درندوں کے مقابلے پرکھڑے ہوں جن کی خباثت کا اس سے بڑھ کرکیا ثبوت ہو کہ پیغمبرِاسلام سے اپنی بربریت کا جواز لے رہے ہیں۔

یہ عجب مناظرتھے۔ لکڑی کے تابوتوں کی قطار، گریہ کرتے عزیزواقارب، رنج و ملال وبرداشت وانتقام کے تاثرات لیے چہرے۔ اشک آلودہ مائیں جن کو چپ کرانے کو کوئی الفاظ نہیں، کم عمربچوں کی بے تاثر آنکھیں جو کہ اس ظلمِ عظیم کا احاطہ کرنے سے قاصرہیں اور چپ چاپ اپنے بڑے بھائیوں کے کفن اُٹھتے دیکھ رہے ہیں۔

یہ عجب منظرتھا۔ ایک ماں ہے کہ وارسک روڈ پرایک جانب سے دوسری جانب دوڑتی پھرتی ہے، ننگے پاوں، ننگے سر، دوپٹے چادر سے عاری۔ کبھی ایک طرف کو بھاگتی ہے، رکتی ہے، پلٹتی ہے، دوسری طرف کو دوڑتی ہے۔ وہ پردہ شعار جس کے بالوں کو فلک نے نہ کبھی دیکھا تھا، آج سڑک پر بغیرخیالِ چادربھاگ رہی ہے۔ آج اُس کا بچہ تنہا ہے اور درندوں کا خوف ہے۔ ایک جانب بھاگتی ہے، پھرخیال آتا ہے کہ بچہ دوسری جانب ہے، کوئی درندہ اُس کو نقصان نہ پہنچا دے، دوسری طرف بھاگتی ہے، سراسیمہ، آواز حلق میں بند، آنکھیں پھٹی پھٹی، یکایک خیال آتا ہے تو پہلی طرف کو بھاگتی ہے۔

آسمان نے یہ منظرکئی صدیاں قبل بھی دیکھا تھا، جب مکے کے بے آباد، بنجر پہاڑوں پر ایک ماں اپنے بچے کی حفاظت کے لیے تن تنہا بھاگ رہی تھی۔ درندوں کا خوف اور پانی کی تلاش اُسے ایک جانب سے دوسری جانب لے جاتی تھی۔ اے میرے رب، تونے اُس ماں کے ایثار کو اتنا محبوب پایا کہ حج کا حصہ بنا دیا۔ اے میرے رب، آج میری اِس بہن کی سعی کو بھی قبول کر، اوراس کے ہمراہ جو کئی خاندانوں نے اپنے لختِ جگر اسماعیل کی تقلید میں قربان کر دیے، اس کے بدلے اس شہرِ پشاور اور ملکِ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

اور جس طرح مکہ کو تو نے خوف اور بھوک سے محفوظ کر دیا، اسی طرح ہمارے ملک کو بھی سکھ، چین اور فراوانی عطا کر۔ اے میرے مالک ہم سے بچھڑنے والے تمام طالبعلموں، اساتذہ اورسکول کے عملے کو اپنے جوارِرحمت میں جگہ دے اور اُن کے لواحقین کو صبرِجمیل عطا کر، ان کی اپنے غیب سے مدد کر، آمین۔ بے شک جو تو جانتا ہے وہ ہم نہیں جانتے۔

Facebook Comments HS

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینئرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینئرنگ میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور فلاحی کاموں میں دلچسپی ہے۔ آس پاس بکھری کہانیوں کو تحیر کی آنکھ سے دیکھتے اور پھر لکھتےہیں، اس بنا پر کہانیوں کی ایک کتاب "اوراقِ منتشر" کے نام سے شائع کی ہے۔ اپنے چھوٹے بھائی لیفٹیننٹ ضرار شہید کے نام پر قائم ضرار شہید ہسپتال، برکی روڈ لاہور کے ذریعے سے فلاحی کاموں سے وابستہ ہیں۔

atif-mansoor has 82 posts and counting.See all posts by atif-mansoor