ڈھاکا ”فال“ نہیں ہوا بلکہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا ہے
یادش بخیر؛زمین زاد کا تعلق اس بے چہرہ نسل سے ہے جو ”ضیابیطس“ میں لتھڑے عہد ناسپاس میں پیدا ہوئی۔ وہ نسل جس نے پاکستان کو بنتے اور ٹوٹتے تو نہیں دیکھا البتہ بگڑتے اور سسکتے ضرور دیکھا ہے۔ ہماری پیدائش کے وقت صدیق سالک کے ڈھاکا کو ”ڈوبے“ 13 سال بیت چکے تھے۔ ہم نے ڈھاکا ڈوبتے نہیں دیکھا البتہ خاک و خون میں ڈوبنے اور ڈوب کر ابھرنے کا قصہ اپنے والد گرامی سے کئی بار سنا۔ پاکستان آرمی میں صوبیدار کی حیثیت سے ان کی زندگی کا بیشتر حصہ مشرقی پاکستان میں گزرا تھا۔ جب وہ ناریل کے درختوں والی سانولی سرزمین، اپنے مشرقی پاکستان، ”شونار بنگلہ“ کا ذکر کرتے تو مرشد آباد، ڈھاکا، بوگرہ، فرید آباد اور کشور گنج کی یاد سے ان کی آنکھیں بھیگ بھیگ جاتیں۔
مشرقی بنگال کی سرزمین سے غائبانہ رومانس کا ایک سبب ہمارے سکول کے دور میں ”نوائے وقت“ کے سنڈے میگزین میں ”بارش، سماوار اور خوشبو“ کے مستقل عنوان سے شائع ہونے والے جناب اے حمید کے سفرنامے اور افسانے بھی تھے۔ جب وہ اپنے مخصوص انداز میں ناریل اور بانس کے جنگلوں میں سے گزر کر آنے والی جنوبی سمندروں کی ہوا، بارش میں بھیگتے جنگلوں اور ان جنگلوں کی جھیلوں میں رات کے اندھیرے میں کھلنے والے کنول کے پھولوں کی خوشبو، بنگال کے دریاؤں میں طلوع ہوتے سورج کے ساتھ کشتیاں کھینے والے ملاحوں کی لوک گیتوں کی دور سے آتی ہوئی اداس آوازوں، مولسری، موتیے اور جنگلی گلابوں کے پھولوں کی مہک، شور مچاتی تیز ہواؤں، پرسکون سبز وادیوں، دل پر ہیبت طاری کرنے والے مناظر، پہاڑوں سے گرتی آبشاروں اور رات کے پچھلے پہر چمکتے مشرقی آسمان کے ساتھ ساتھ چائے کی سورج بن کر طلوع ہوتی اور روشنی بن کر روح کی وادیوں، سمندروں، پہاڑوں اور دریاؤں میں پھیل جانے والی جادو آفریں باس کا ذکر کرتے تو ہم ان کے طلسم میں گرفتار سے ہو جاتے اور خود کو ان کے سفرنامے، افسانے کا ایک کردار سا سمجھ لیتے۔ سو مشرقی پاکستان کی سرزمین ہمیشہ ہی سے جگنو بن کر ہمارے چہار سو دمکتی اور خوشبو کی صورت مہکتی رہی ہے۔
مندرجہ بالا معروضات لکھنے کی مہیج متحدہ پاکستان کی کوکھ سے نکلنے والے سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے دو ٹکے کا سکے کو دیکھ کر پیدا ہوئی جو ہمارے پانچ روپے کے برابر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب من حیث القوم ہماری ٹکے کی اوقات بھی نہیں رہی۔
یہ وہی خطہ ہے جس کے لوگوں کا مذاق انہیں بھوکے بنگالی کا نام دے کر اڑایا جاتا تھا۔ پستہ قد، کالا، مچھلی کی باس والا اور نجانے کیا کیا نام دیے گئے لیکن اسی خطے کی خواتین کے لمبی زلفوں اور چست بدنوں پر ہمارے ارباب بست و کشاد کی ہوس بھری نظریں ہمیشہ مرکوز رہیں۔ حتیٰ کہ 16 دسمبر 1971 ء کو غیر منصفانہ اور عدم مساوات پر مبنی استحصالی نظام اور مغربی پاکستان کی سکھا شاہی نے سقوطِ مشرقی پاکستان کی کالک ہماری تاریخ اور چہروں پہ مل دی۔
آج ”شونار بنگلہ“ علم و ہنر اور معیشت و معاشرت کے لحاظ سے ایک ابھرتا ہوا ملک بن گیا ہے۔ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ ڈھاکا ”فال“ نہیں ہوا بلکہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا ہے۔ ان کی ترقی پسندانہ سوچ ان کے اس سکے سے ہی ظاہر ہو تی ہے، جس میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی کتاب پڑھ رہے ہیں۔ جبکہ ہمارا یہ حال ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 48 سال گزر جانے کے باوجود ”سقوط ڈھاکا“ جیسا تیز دھار اور زہریلا خنجر بھی ہماری مگر مچھ جیسی موٹی کھال پر خراش تک نہیں ڈال سکا۔ آئیے اپنی اجتماعی بے حسی کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان کا نوحہ پڑھتے ہوئے اداس رتوں کے لازوال شاعر ناصر کاظمی کی شاعری قرات کرتے ہیں۔
وہ ساحِلوں پہ گانے والے کیا ہُوئے
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہُوئے
وہ صُبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہُوئے
مَیں اُن کی راہ دیکھتا ہُوں رات بھر
وہ روشنی دِکھانے والے کیا ہُوئے
یہ کون لوگ ہیں مِرے اِدھر اُدھر
وہ دوستی نِبھانے والے کیا ہُوئے
وہ دِل میں کُھبنے والی آنکھیں کیا ہُوئیں
وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہُوئے
عِمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں
عِمارتیں بنانے والے کیا ہُوئے
اکیلے گھر سے پُوچھتی ہے بے کسی
تِرا دِیا جلانے والے کیا ہُوئے
یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اُٹھانے والے کیا ہوئے



