کیا آپ علمی، فکری اور مذہبی بنیادوں پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا متوازی بیانیہ جاننا چاہتے ہیں؟
بیسویں صدی میں اسلامی انقلاب اور اسلام کو نظام کے طور پر نافذ کرنے کے لئے ایک ایسے متشدد اور عسکری بیانیہ کی تشکیل ہوئی جس نے پورے معاشرے کی اقدار کو شدید متاثر تو کیا ہی ساتھ ساتھ اس کے متشدد، انتہاپسندانہ حتیٰ کہ وحشیانہ اثرات اسلامی معاشرے پر کچھ اس طرح مرتب ہوئے کہ اکیسویں صدی میں بھی اس کے اثرات زائل ہونے کا نام نہیں لے رہے۔
بیسویں اور اکیسویں صدی میں اس بیانیہ کو دنیا پر مسلط کرنے کے لئے داعش، حزب الدعوہ اور بوکو حرام سمیت ایسے انسانیت دشمن گروہوں نے جنم لیا جس نے مسلم معاشرے پر مہلک اثرات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں مسلم معاشرے کی ساکھ کو لا متناہی نقصان پہنچایا۔
ہماری فکری و شعوری نشوونما اکیسویں کی ابتدائی عشرے میں ہوئی اور تربیت بھی ان تعلیم گاہوں میں ہوئی جہاں یہ بیانیہ پروان چڑھا۔
کچھ مخلص اور باشعور حضرات کا فیض نصیب نہ ہوتا تو معلوم نہیں ہمارا کیا ہوتا۔ البتہ ہم نے بہت سارے نوجوانوں کو اس متشدد بیانیہ کے بھینٹ چڑھتے اور بہت سے معاشروں کو اس بیانیہ کے مہلک اثرات سے متأثر ہوتے دیکھا اور اب بھی لاچاری کی حالت میں اس بیانیہ کی ہلاکت خیزیوں کے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
اب سرے سے یہ بیانیہ ہی غلط تھا؟ اس کو تشکیل اور مسلط کرنے کا متشدد رویہ غلط تھا؟ جو یہ اتنا ہلاکت خیز ثابت ہوا
یہ ہمیں معلوم نہیں کیونکہ اس بیانیہ کو تشکیل دینے میں جہاں متشدد رویوں کے حامل افراد اور گروہ کار فرما تھے وہی مودودی مرحوم اور غلام احمد پرویز مرحوم جیسے معتدل افراد نے بھی اس بیانیہ کو تشکیل دینے میں اپنا اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔
البتہ ہمیں یہ ضرور معلوم ہے کہ اس متشدد اور انتہا پسندانہ بیانیہ کے مقابلے کوئی معتدل اور جوابی بیانیہ تشکیل ہوا اور نہ ہی کوئی مرتب کام ہوا۔ وجوہات جو بھی ہوں! اور اس ہلاکت خیزی کا سب سے بڑا سبب ہی یہی ہے۔ حالانکہ حکومت پاکستان 2010 سے با قاعدہ طور پر علماء کرام اسلامی نظریاتی کونسل اور مختلف علمی اداروں سے مذہبی انتہا پسندی کا جوابی بیانیہ مرتب کرنے کی گزارشات کر رہی ہے۔
لیکن ہماری بدنصیبی یا کچھ اور کہ اب تک اس جوابی بیانیہ پر کوئی مرتب کام نہ ہوسکا سوائے سلیم صافی صاحب، وجاہت مسعود صاحب اور چند مزید دانشوروں کے تحاریر کے۔ حالانکہ وہ بھی ہم اطفال مکتب کے لئے مشعل راہ اور سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
لیکن اب یہ بات انتہائی خوشی سے کہی جاسکتی ہے کہ پہلی بار ہمارے انتہائی علمی نوجوان دوست محترم شمس الدین حسن شگری صاحب نے اس جوابی بیانیہ پر انتہائی علمی، فکری، مخلصانہ اور مرتب کام کیا ہے۔
اور شاید ان کی یہ کتاب مسلم معاشرے میں پھیلے اس اندھیرے میں روشنی کا ایک دیا ثابت ہو۔
کتاب میں مصنف نے بھرپور علمی انداز میں ان آیات قرآنی پر بحث کی ہے جن سے قائلین اسلامی انقلاب استدلال کرتے ہیں۔
کتاب اہم ترین خصوصیات میں سے چند یہ ہے کہ مصنف نے جہاں ایک جانب متشدد اور عسکری گروہوں کے استدلالات پر بحث کی ہے وہی نظام اسلام کے معتدل قائلین مودودی و پرویز جیسے مفکرین کے استدلالات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔
ہمارے اکثر مذہبی مفکرین کی خامی رہی ہے کہ وہ علمی بحثوں میں اپنے مکتبہ فکر کو ترجیح دیتے ہیں لیکن مصنف نے یہاں اہل السنہ اور اہل التشیع دونوں مکاتب فکر کے قائلین اسلامی انقلاب کے استدلالات کا بھرپور جوابی بیانیہ پیش کیا ہے۔ مصنف کا اپنا جھکاؤ کسی بھی مسلک کی طرف نظر نہیں آتا۔
کتاب کی مندرجات انتہائی دلچسپ ہیں مزید علمی پیاس تو کتاب پڑھنے کے بعد ہی بجھے گی اور امید ہے کہ اس علمی شاہکار کی وجہ سے آپ کی علمی پیاس بڑھے گی بھی۔
آخر میں میری وجاہت مسعود، حامد میر، سلیم صافی، وسعت اللہ خان، حاشر ابن ارشاد، عدنان خان کاکڑ، یاسر پیرزادہ، سہیل وڑائچ جیسے دانشوروں سے درخواست ہے کہ یہ صاحبان ذی وقار نوجوان اسکالر شمس الدین حسن شگری کی اس علمی کاوش کو نظر شفقت سے نوازیں اور بھرپور حوصلہ افزائی کریں کیونکہ یہ یہی وہ عظیم ہستیاں ہیں جو ہمیں زندگی کا سبق پڑھاتی ہیں۔
کتاب ”مذہبی انتہا پسندی اسلامی انقلاب و حکومت اور جوابی بیانیہ“ کے عنوان سے ممتاز شاعر، نقاد اور دانشور ڈاکٹر روش ندیم صاحب کے دیباچہ اور مذہبی اسکالر فرح سعید کے مقدمہ کے ساتھ عکس پبلشر لاہور سے شائع ہوئی۔
کتاب کے حصول کے لئے عکس پبلشر لاہور سے رابطہ کیجئے۔
عکس پبلیشر لاہور




