ڈپریشن – ذہنی تناؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”سٹریس“ کھچاؤ کو کہتے ہیں چاہے وہ پٹھوں کا ہو یا ہمارے دماغ اور سوچوں کا ہو۔ آج کے دور میں ہر دوسرا فرد ڈپریشن کا مریض ہے۔ اصل میں اس کی بنیادی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔

ہم صرف خود کو ضرورت سے زیادہ بوجھ لادنے کا عادی بنا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ حالانکہ اصول یہ ہونا چاہیے کہ جو کام یا بات ہمارے لیے مفید ہو اسی پر توجہ مرکوز کریں اس کے برعکس ناکارہ اور بے ضرر عوامل سے اجتناب کرنا چاہیے۔

ہم نے ہر چھوٹی بات پہ سٹریس لینا شروع کر دیا ہے اور اپنے دماغ کو تھکانے کا عادی بنا لیا ہے۔ جس سے سیز پیدا ہوتے ہیں۔ جو ہمیں کمزور کرتے چلے جاتے ہیں اور ہم بہتر طور پر کوئی کام انجام نہیں دے سکتے۔ جس سے ہماری ”ذہنی اور جسمانی“ کارکردگی خراب ہوتی جا رہی ہے۔

ہر دوسری بات پر پریشان ہونا بے وقوفی ہے۔ جو باتیں ہمارے معمول کا حصہ ہوں ان پر سٹریس بنتا ہی نہیں۔ مطلب ہم صبح اسکول، آفس یا کام پر جاتے ہیں، یا بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں یا گھر کے کام کرتے ہیں یا آفس میں کام زیادہ ہونے کی وجہ سے سٹریس یا ٹینشن لینے سے کیا وہ کام آسان ہوجاتا ہے؟ نہیں بلکہ مزید مشکل ہوجاتا ہے۔

اسی طرح آفس میں سربراہ (Boss) کا سامنا کرنے کی ٹینشن یا اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں معلم (Teacher) کی کلاس لینے کی ٹینشن یہ پریشانیاں (Tensions) ہم نے پال رکھی ہیں۔ جو درحقیقت ہمارے فرائض (Duties) کا حصہ ہیں۔ پر ہم نے اسے بوجھ سمجھ لیا ہے اور اسی طرح اپنی صحت خراب کرلی ہے۔

اسی طرح شادی بیاہ یا کسی موقع (Function) پر جانا ہے تو خود کو ایک اور طرح سے پریشان کرنا کہ کیا پہننا اور کیسے سب تیاری کرنی ہے۔ فلاں نے تو ایسی تیاری کی ہوگی، میں پیچھے کیوں، یہ فضول اور اضافی سوچیں ہیں۔ کوئی اچھا لگ رہا ہے یا برا اسے اپنے ساتھ موازنہ اور الگ سے پریشانی پال لینا کوئی مثبت فعل نہیں۔ آپ جو ہیں جیسے ہیں جہاں ہیں جس حال میں ہیں، اسے قبول کریں اور خوش رہیں۔ آج کل ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے بھی پریشانی کا شکار ہیں اصل وجہ ہے کہ ان کی پہلی تربیت گھر سے ہوتی ہے گھر میں اپنے والدین یا بڑوں کو وہ پریشانی میں دیکھتے ہیں۔ اسی طرح ہر فضول بات پر پریشان ہونا وہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ ہم نے خود کو خراب کرلیا ہے۔ پر اپنی نئی نسل کے بچوں کو فضول معاملات سے نکالیں۔ بچے گھروں میں بے اتفاقی اور بدحالی دیکھ اپنے دل و دماغ پر گہرا اثر لیتے ہیں۔ سب سے بڑی پریشانی زندگی میں کچھ کرنا اور آگے بڑھنا ہے۔ یہ ہم سوچ تو رکھتے ہیں لیکن منصوبہ کے تحت مکمل محنت و مشقت نہیں کرتے تو اپنا اصل مقصد یا منزل بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ ہم نے ذہن میں جو خاکہ بنا رکھا ہے اس حصار سے نکل کر حقیقت قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے اسی وجہ سے ”ذہنی تناؤ“ کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ حالانکہ اس میں اگر اس حقیقت کو قبول کر لیں جو مقصد تھا اس کے لیے محنت نہیں کی تو وہ مقام کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ سوچ بھی رکھیں تو ہم بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔

ہماری پریشانی کی ایک بڑی وجہ ”مذہب، دین اور ادب“ سے دوری بھی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب پریشان ہونے کی دعوت نہیں دیتا۔ ”اسلام“ تو مکمل ”امن و سکون“ کی دعوت دیتا ہے۔ لیکن ہم اس پر توجہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

پریشانی کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں لگتا ہے ہم ٹھیک ہیں جو ہماری سوچ ہے اس کو سب مانیں اور تعریف بھی کریں۔ حالانکہ ہر انسان جدا جدا سوچ کا مالک ہے۔ ہر انسان کے تجربات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے کبھی ایک خاص مقصد کے لیے ہر انسان کا ”زوایہ نظر“ مختلف ہوگا۔ چونکہ سوچنے کی صلاحیت الگ ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں جو اصل ہم ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔

ایک ہی انسان مختلف لوگوں کی نظر میں اچھا اور برا بھی ہوسکتا ہے وجہ یہ ہے کہ اس کا رویہ ہر ایک ساتھ یکساں نہیں ہوتا۔ جس کے ساتھ اچھا ہوتا ہے وہ اسے اچھائی کی نظر میں جانتا ہے جس کے ساتھ رویہ یا اخلاق برا ہوتا ہے اس کی نظر میں برا۔

چھوٹی سی زندگی ہے خوش رہنا سیکھیں۔ اگر آپ خود کو بے چین محسوس کر رہے ہیں تو خود سے سوال کریں خود کو وقت دیں۔ اپنی اندر کی پریشانی تلاش کریں۔ پھر سوچیں جس بات پر پریشان ہیں کیا وہ اتنی اہم ہے کہ آپ کی خوبصورت زندگی پل پل خراب رہے؟ اپنے پیاروں کو پریشان کر رہے ہیں۔ کیا وہ پریشانی اتنی اہم ہے کہ خود کو اور گھر والوں کو بے سکون کرنا بنتا ہے۔ اپنے آپ کو وقت دیں۔

اپنا معمول تبدیل کریں۔ اپنے ذہن کو نئے کاموں میں مصروف کریں۔ کہیں سیر کو جائیں مارکیٹ جائیں۔ مزاحیہ ڈرامہ یا فلم دیکھیں یا کسی سے مزاحیہ گفتگو کریں یا سنیں۔ خود کو سکون محسوس کروائیں۔

پریشانیاں اجتماعی ہوتی ہیں۔ جیسے بجلی، گیس، پانی، مہنگائی، بے انصافی اور تحفظ کا مسائل اسی طرح کچھ انفرادی مسائل بھی ہوتے ہیں جیسے بے روزگاری، گھریلو جھگڑے، اولاد کی پریشانی وغیرہ۔

چند اقدامات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم خوشحال زندگی کا زاویہ بنا سکتے ہیں۔

1) باتوں کو غور کریں۔ کہ کتنی ضروری ہیں جس کی وجہ آپ خود کو اندر سے ختم کرتے جارہے ہیں۔

2) آپ اہم ہیں نہ کہ پریشانی کو خود سے اہمیت دینے لگ جائیں۔

3) وقت اہم ہے۔

4) جب بھی بے چین ہوں خود کو کہیں سکون، سکون۔ اپنے دل و دماغ کو کہو سکون۔ ایسا کرنے سے اپنے اندر ٹھہراؤ محسوس کریں گے۔

5) روزانہ پانچ منٹ خود کو دیں۔ خود سے سوال کرتے رہیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں اکیلے ہیں۔

6) آپ جب بھی پریشان ہوں اپنی پریشانی فوراً کسی کو نہ بتائیں پہلے اس کی نوعیت دیکھیں پھر جو آپ کے قریب ہو آپ کو قریبی محسوس ہو ان سے اپنی بات ظاہر کریں اور مشورہ طلب کریں۔

7) جب تک ہم اپنے کام سے کام نہیں رکھیں گے ہم نہ خود سکون سے رہ سکیں گے نہ ہی کسی دوسرے کو سکون دے سکتے ہیں۔

8) جب بے سکون ہوں لمبے لمبے سانس لینا شروع کردیں۔ اگر فارغ بیٹھے ہوں تو اٹھ کر کوئی کام کرنا شروع کردیں۔

9) جب بھی پریشان یا اداس ہوں تو ایک ”ڈائرای یا صفحہ پر لکھ لیں اس کے بعد بے پراوہ ہوجائیں۔ لکھتے وقت سارا غم و غصہ اس صفحے پر لکھ دیں۔ جتنا دل کرے۔ پھر آپ خود کو ہلکا اور پرسکون محسوس کرنے لگیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شمائلہ ملک کی دیگر تحریریں