کیوں ایک نہیں ہو سکتے شیعہ سنی؟


\"malike-ashter\"یہ کوئی تین چار سال پہلے کی بات ہے۔ دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اتحاد بین المسلمین پر ایک پانچ روزہ پروگرام منعقد کیا گیا، کانفرنس میں بھارت بھر کے علمائے کرام اور دانشوروں کے علاوہ بیرونی ممالک کے مندوبین بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔ کانفرنس کے آخری دن بھی علماء کی دھواں دھار تقریریں جاری تھیں، اتحاد بین المسلمین کے نعرے بلند کئے جا رہے تھے، علماء اپنی تقاریر میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو کا پیغام دے رہے تھے، تقریروں میں بار بار بتایا جا رہا تھا کہ شیعہ سنی کو آپس میں لڑوانا یورپ امریکہ کی سازش ہے اس لئے اس سے بچو۔ تقریروں کا یہ سلسلہ صبح سے شروع ہوکر ظہر کی نماز تک چلتا رہا، نماز کا وقفہ ہوا،کانفرنس میں شریک لوگوں نے بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ شیعہ سنی کی تفریق کئے بنا ایک ساتھ صفیں باندھ لیں اور ایک ہی عالم کے پیچھے شیعہ سنی دونوں نماز پڑھنے کھڑے ہوئے۔ بڑا دلکش منظر تھا کوئی ہاتھ باندھے نماز پڑھ رہا ہے تو کوئی ہاتھ کھول کر لیکن سب کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے تھے۔ لگتا تھا کہ علما ء کی تقریروں کا ان افراد پر گہرا اثر پڑا ہے۔

اتفاق سے نماز کے وقفے میں میں نے آڈیٹوریم میں جھانک کر دیکھا تو پایا کہ کچھ لوگ اندر بیٹھے منتظر ہیں کہ باہر ”مشترکہ نماز جماعت“ ختم ہو تو ہم“اپنی والی“ پڑھیں۔ ہوا بھی یہی جب شیعہ سنی مشترکہ جماعت ختم ہوئی تو ان لوگوں نے اپنی الگ جماعت قائم کی۔ جانتے ہیں یہ الگ جماعت قائم کرنے والے کون افراد تھے؟ ۔ جی ہاں، کوئی اور نہیں یہ وہی مقررین تھے جن کے گلے صبح سے اتحاد بین المسلمین اور شیعہ سنی بھائی چارے کی تقریریں کرتے کرتے سوکھ گئے تھے۔ آپ بر صغیر میں شیعہ سنی تفرقے کو ہوا دینے والوں کی ایک لسٹ بنائیں تو اس میں زیادہ تر مدارس کے فارغین نکلیں گے۔ یہاں پر ایک سوال یہ ضرور پیدا ہو سکتا ہے کہ آخر انتشار کا ٹھینکرا علماء و خطبا ء کے سر پر ہی کیوں پھوڑا جائے؟ ۔ بات دراصل یہ ہے کہ علماء قوم کی مذہبی آنکھ اور دماغ ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر علماء ہی یہ سمجھانے میں لگ جائے کہ فلاں مسلک والوں سے بچو تو ظاہر ہے ایک سادہ لوح اس ”وارننگ“ کو بھی مذہبی ”فریضے“ کے زمرے میں رکھ لیتا ہے۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ علماء اور خطبا ء اپنی تقاریر میں مسلکی اختلافات کو ہوا نہیں دیتے تو بھی وہ اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اور بھی اختلاف کو ہوا دے رہا ہے تو ہمارے علماء کیوں اس کے خلاف تحریک نہیں چلاتے اور اتحاد بین المسلمین کا پیغام عام نہیں کرتے؟

میں اس مرحلے پر یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ علماء سے میری مراد تمام علماء نہیں ہیں اور نہ ہی ایسا ہے کہ سارے ہی علماء انتشار پسندی پر آمادہ ہیں لیکن وہ علماء یا علماء نما شخصیات بھی بڑی تعداد میں ہیں جو اس آگ میں ”حسب توفیق“ پیٹرول ڈالنے سے باز نہیں آتے۔ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اگر کم پڑھے لکھے مولوی اتحاد بین المسلمین کو نقصان پہنچانے والی بات کریں تو کہا جا سکتا ہے کہ“ان کا علم کم ہے اس لئے ایسی نا سمجھی کر رہے ہیں“ لیکن اگر ”بڑے اداروں کے مفتیان“ فتوے دے کر خلیج میں اضافے کا سامان کرتے دکھائی دیں تو آپ کیا کریں گے؟ مثال کے طور پر دارالعلوم دیوبند کے آن لائن دار الافتاء کی ویب سائٹ پر موجود کچھ فتاویٰ ملاحظہ ہوں۔ سوال نمبر ۱۴۹۵ میں دارالافتاء سے پوچھا گیا کہ ”میں ایک سنی ہوں، میں نے ایک شیعہ لڑکی سے شادی کی ہے، میں نکاح خواں کے ذریعہ دیئے گئے نکاح نامے کی صحت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں“۔ اس سوال کے جواب میں دارالافتاء نے جو فتویٰ صادر کیا اس کا مضمون ملاحظہ ہو۔ ”ایک مسلمان کسی شیعہ لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا، شیعوں کی کتابوں میں درج ان کے عقائد کے مطابق وہ لوگ اسلام کے دائرے سے باہر ہیں، اس لئے شیعہ سنی شادی ممکن نہیں، حیرت کی بات ہے کہ آپ نے شیعہ لڑکی سے نکاح کیسے کر لیا اور آپ کے والدین کیسے مان گئے؟“ ایک اور فتویٰ سنئے، دیوبند کے ہی آن لائن دارالافتا ء سے سوال نمبر 1566میں پوچھا گیا کہ ”کیا شیعوں سے مل سکتے ہیں؟ شیعوں کے ساتھ کھانے پینے کا کیا حکم ہے؟“ اس سوال کے جواب میں دارلافتاء نے فتویٰ صادر کیا۔ اس فتوے کا مضمون دیکھیں، ”شیعی عقائد سنیوں سے متصادم ہیں، ان سے ملنا جلنا اچھا نہیں ہے، ہاں انسانی بنیاد پر ملا جا سکتا ہے، اگر پتہ ہو کہ ان کے یہاں کا کھانا ٹھیک ٹھاک ہے تو کھا سکتے ہیں لیکن جیسا کہ شیعوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کھانے میں کچھ ملا دیتے ہیں اس لئے ان کے یہاں کھانے سے بچنا چاہئے۔“

بات محض کسی ایک گروپ کی نہیں ہے۔ ایسی باتیں ہر گروپ کی طرف سے ہوتی رہتی ہیں جو دوسرے مسلک کی دل آزاری کا سبب بنتی ہیں۔ گذشتہ دنوں ایران کی مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ اور سرکردہ عالم آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی سے داعش اور طالبان جیسے عناصر کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔ شیعہ سنی اختلافات کا مسئلہ ہم جتنا چھوٹا سمجھ رہے ہیں وہ اتنا ہی بڑا ہے۔ ذرا غور سے دیکھیں تو آپ کو پاکستان سے عراق اور سعودی عرب سے شام تک اس مسئلے کی بو واضح طور پر محسوس ہوگی۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم نے ایک عادت سی بنا لی ہے کہ ہم اپنے سارے مسائل کو ایک ٹوکرے میں بھر کر امریکہ اور اسرائیل کے سر پر الٹ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے مسجد کا پیش نماز کہہ رہا ہے کہ فلاں فرقے کے لوگ تو ”تھوک کر کھلاتے ہیں“ یا پھر کوئی ذاکر کہتا ہے کہ ”فلاں مسلک کے پیروکار جہنم میں جھونکے جائیں گے“ اس میں یورپ اور امریکہ کہاں سے آ گیا؟ ہمارے علمائے کرام، ہمارے لئے انتہائی لائق احترام ہیں، ہم اپنے علماء کی ایک ایک بات کو قیمتی مانتے ہیں اور ہمارا ان سے ”حضرت ناصح گر آئیں دیدہ و دل فرش راہ“ والا معاملہ ہے۔ ہم علماء کی ہدایات پر عمل کر نا چاہتے ہیں لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہم اتحاد کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں اور اس سلسلہ میں ہمیں اپنے علماء، خطباء، مبلغین اور واعظین کی مدد درکار ہے۔ ہمیں یقین ہے وہ ہمیں نا امید نہیں کریں گے۔

(مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق)

 

Facebook Comments HS

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 117 posts and counting.See all posts by malik-ashter

One thought on “کیوں ایک نہیں ہو سکتے شیعہ سنی؟

  • 03/11/2016 at 8:25 شام
    Permalink

    میں اس پروگرام کا گواہ ہوں ،اور اس منظر کا بھی جو آپ نے بیان کیا ۔ہم کتنا افسردہ ہو گئے تھے اس دن اور چائے پیتے ہوئے آپ نے کہا تھا اس پر قلم توڑ کے لکھنے کو جی چاہتا ہے ۔ اتنا عرصہ بعد آپ نے لکھا اور کوب لکھا ۔کاش درمندان ملت اس سے کچھ سبق پکڑتے ۔

Comments are closed.