اے پی ایس کے شہید بچے کا اپنی ماں کے نام خط


پیاری ماں!

آداب

امید ہے تم ٹھیک ہوں گی۔ اس ناممکن امید کے ساتھ کہ میں اس گھڑی لوٹنے والا ہوں۔ اور اس امید پر تم نے پانچ سال گزار دیے، نا میں ہی آیا نا تیرے در پہ انصاف آیا ہوگا، انصاف تو دور کی بات ہے تمہیں آج تک کوئی یہ تک نہیں بتا پایا ہوگا کہ تمہارے لخت جگر کا قصور کیا تھا۔ ماں میں جنگی سپاہی نہیں ایک پرامن پرندہ تھا۔

ماں!

جانتا ہوں، تم آج بھی یہ سمجھتی ہو کہ میرے اسکول کی چھٹی ہونے میں لیٹ ہوگئی ہے، ماں واقعی پانچھ سال ہوگئے، چھٹی نہیں ملی، اب دروازہ بند کردو، جانے والے کب لوٹ کہ آتے ہیں؟ اور وہ کیسے آئیں گے جو ہاتھ سے خاک ہوئے، آہوں سے جدا ہوئے، اشکوں سے وداع ہوئے۔

ماں!

کئی برسوں سے اپنے گھر کا دروازہ کھلا ہے۔ پتا ہے اب بھی جب پڑوس والے اسکول کی گھنٹی بجتی تم دروازے کی طرف بھاگتی ہو، تمہارے قدموں کی آہٹ سے میری قبر لرز جاتی ہے، تیری چیخیں آج بھی مجھے سونے نہیں دیتی۔ ماں اب رونا بند کردو! ، اس شہر نامراد کو سنائی نہیں دیتا۔ کس کو سناتی ہو؟

ماں!

اب دروازہ بند کردو پلیز، پتا ہے، جن پرندوں کی آغوش سے بچے جھپٹ لیے جائیں، وہ واپس نہیں آتے۔ دیکھو کئی مائیں یہاں روتے روتے چپ ہوگئیں، کئی بچے اپنے والد کی راہ تکتے خاموش ہوگئے، کئی سہاگنوں نے انتظار کی اذیت کاٹ کاٹ کر اپنی چوڑیاں توڑ دیں۔ یہاں دلاسا دینے والا کوئی نہیں۔ جن پھول سے بچوں کو مائیں چومتی بھی احتیاط سے تھیں۔ اتنے نازک تھے۔ جلادوں کو ان کو کاٹنے میں ذرا رحم نا آیا اب اور کس کی آس ہے؟ چپ ہو جا!

ماں!

اب بابا سے میری شکایت تو نہیں کرتی ہو نا؟ کافی عرصے سے تمہیں تنگ بھی نہیں کیا۔ عرصہ بیت گیا ہے ماں تمہارے ہاتھ کی وہ چپیڑ نہیں کھائی جو مجھ تک پہنچتے پہنچتے اپنا زور توڑ دیتی تھی۔ میں سب سمجھتا تھا۔ چھوٹی دیدی کیسی ہے، اب بڑی ہوگئی ہوگی، اب وہ کس سے لڑتی ہے؟ اس کی ایک شکایت باقی ہوگی۔

اس کی خواہش تھی کہ میں بڑا آدمی بنوں گا

ماں میں چھوٹا ہی رہ گیا وہ مجھ سے بڑی ہوگئی۔

ماں

جب ٹہنی ٹوٹتی ہے تو گھونسلے زمیں پہ آ گرتے ہیں۔ جب گھونسلے گر جائیں تو بچے بکھر جاتے ہیں۔ اس چمن کے رکھوالوں سے امید نا کرنا۔ یہاں کئی گھر اجڑ گئے۔ کئی سفید چہروں پہ سوال ہیں۔ کئی اداس لوگوں کی خاموشیوں تحلیل ہوگئے ہیں۔ جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے۔ انصاف کی دہلیز پر سر پٹک پٹک کر دم توڑ گئے۔ لیکن کیا کر سکتے ہیں۔ گلابی تتلیوں کے حصے میں خسارے آتے ہیں۔ کیف بھوپالی کو کون سمجھائے۔ آندھیاں گل سے لپٹی تتلی کو الگ کر کہ لے جاتی ہیں۔ اور کسی چٹان سے ٹکرا دیتی ہیں۔ چٹانیں اس کے سینے میں تلوار کی طرح گڑ جاتی ہیں۔

گلابی تتلی کی موت

حنوط پھولوں کی گریہ زاری

ذرد موسموں کے گرد لپٹی

آداس مسافت

کمرے کی کھڑکی کے شیشے سے پرے

ایک گلابی تتلی

زھر سے نیلی پڑی ہے

کند تلوار سینے میں گڑی ہے

دشمن کی موت پے اپنے بال کوی نہی کھولتا

دکھ تقسیم ہو جایں تو

خسارے

گلابی تتلیوں کا

نصیب بنتے ہیں۔

ماں!

دسمبر سے شکایت مجھے بھی ہے، میں نے بھی دسمبر سے شکایت کی تھی۔ سنوگی؟

اے 16 دسمبر

دسمبر! تیری سرد راتوں میں وہ زرد آنکھیں اب بھی انتظار کی شمع جلائے بیٹھی ہیں۔ رنگ برنگی چہرے تیرے سرد لہجے نے پتوں کی طرح ذرد کر ڈالے۔ دسمبر! تم ہمیشہ لوٹ آتے ہو لیکن جن کو لے گئے وہ نہیں لوٹے۔ ماؤں کو یقین نہیں آتا۔

دسمبر! وہ جھولیاں اب بھی خالی ہیں۔ وہ جھولے اب بھی خالی جھول رہے ہیں۔

دسمبر! چلو ان دریچوں میں کھڑی مائیں دیکھو

اسکول کی گھنٹی بجتی ہے، سب کے بچے گھروں کو جاتی دیکھ رہی ہیں۔ آخر گھنٹی کی آواز تھم جاتی ہے۔ گلی میں بچوں کا شور کم ہونے لگتا ہے۔ محلے کے سب دروازے کھٹکتے ہیں۔ بچے گھر جاتے ہیں، لیکن ان گھروں کا دروازہ نہیں کھٹکتا۔

پھر اچانک درد صبر کی دہلیز پار کر جاتا ہے۔ اور ان شمشان نما گھروں کے در و دیوار چیختے ہیں

آج بھی ان گھروں میں صبح ہوتی ہے۔ لیکن وہ رنگ نہیں، کئی دن سے سورج بھی آنکھیں چرا کر گزر جاتا ہے۔

وہ چڑیوں سی آوازیں نہیں۔

وہ ناز نخرے نہیں۔

وہ اسکول نا جانے کے بہانے

وہ پیٹ درد کا رونا،

وہ بھائی بہن کا جھگڑا

دسمبر! وہ چمن اُن پرندوں کے بن اداس ہیں۔

اور اس گھر میں تب سے ایک بہن اداس ہے۔ اس کی اداسی کی وجہ عجیب سی ہے۔ بولتی ہے اب مجھ سے جھگڑنے والا کوئی نہیں۔ اب میری کاپیاں خراب کرنے والا، میری جورابیں چھپادینے والا نہیں ہے۔ بہت دن ہوگئے ہیں میں نے اماں ابا سے کسی کی شکایت نہیں کی۔ بہت دن ہوئے میں نے کسی کو بھائی نہیں بولا۔

ماں!

بابا کیسے ہیں؟

میرے کپڑے، کتابیں جوتے تو پڑے ہوں گے، پانچھ سالوں میں کتنی بار دیکھ چکی ہو؟ بابا نے کتنی بار کانپتے ہاتھوں سے ان کو چھوا ہے۔ بابا سے کہو اب انہیں سنبھال کر رکھ دے، ماں میں ہمیشہ تمہارے سامنے اور بابا سے چھپ کر شرارت کرتا تھا۔ بابا ٹھیک تو ہے نا۔ ماں! بابا اپنے ہاتھ سے رکھا ہوا چشمہ مجھے کیوں ڈھونڈ لانے کو کہتا تھا؟ بابا دن میں کئی بار مجھے میرے نام سے کیوں بلاتا تھا؟ ماں! بابا کو میرے نام سے کیوں اتنی رغبت تھی؟ ماں۔ بابا کو کہو میرا نام لے کر پھر پکارے۔ مجھے اس کی آواز نہیں آتی ماں بابا کو کہو میرا نام لے۔ ماں میں کئی دن سے اپنا نام بھول گیا ہوں۔ مجھے کوئی کیوں نہیں پکارتا؟

ماں!

مجھے گھٹن ہو رہی ہے مجھے واپس بلالو۔

ماں!

مجھے واپس بلا لو۔ مجھے اپنے پاس بلالو

Facebook Comments HS