آئیڈیالوجی کا مارکسی مطالعہ
مارکسی زاوئے کے مطابق کسی بھی کلچر میں آرٹ کے نام پہ تخلیق کی گئی چیزیں مثلاً فلم، ڈرامہ، سوپ اوپیرا، یا طنز و مزاح پہ مبنی کتابیں اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائی اور لکھی جاتی ہیں کہ غالب نظریے کی برتری قائم رہے اور اس برتری کو فطری بنا کے پیش کیا جائے۔ ایسا کرنے کے لئے مظلوم طبقات کو اس نظام کے فطری ہونے کا یقین دلایا جاتا ہے تاکہ ان کے ذہن میں کسی قسم کے باغیانہ خیالات نہ پنپ سکیں۔ اس بات کی وضاحت کے لئے ہم ’چارلس ڈکنز‘ کے ناول ’ہارڈ ٹائمز‘ کے کردار ’سٹیفن بلیک پول‘ کی مثال لے سکتے ہیں جو بہر حال اس بات کا قائل نظر آتا ہے کہ صنعتی نظام اور اس کی پیدا کردہ صورتِ حال عین فطری ہیں۔
مارکسی نقاد اور فلسفی اس بات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں کہ کسی فلم یا ناول میں کون سے نظریے کو حتمی اور فطری سچائی کے طور پہ پیش کیا جا رہا ہے اور کس طرح سے بیانئے کو توڑ مروڑ کے اپنے مطلوبہ سانچے میں ڈھالا گیا ہے۔
اس کی ایک اور مثال ہم ’ہالی ووڈ‘ میں بننے والی فلموں سے لے سکتے ہیں۔ اکثر فلموں میں دنیا میں انتشار کی وجہ ’دہشت گردوں‘ کو ٹھہرایا جاتا ہے اور امریکہ کو ایک مسیحا اور نجات دہندہ بنا کے پیش کیا جاتا ہے۔ کون دہشت گرد ہے اور کون ہیرو یا کون سے دہشت گرد کو کب ہیرو بنانا ہے اور کون سے ہیرو کو دہشت گرد بنا کے پیش کرنا ہے اس کا فیصلہ بھی وہی کرتا ہے جس کے پاس بیانیہ تشکیل دینے کی طاقت ہے۔
حقیقت کو اسی طرح اپنے مطلوبہ سانچے میں ’ٹوِسٹ‘ کرنے، ڈھالنے کو مارکسی اصطلاح میں آئیڈیالوجی کہتے ہیں اور مارکسی نظام میں یہ ایک بنیادی تصور ہے۔ مارکس اور اینگلز کا مؤقف یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام نے چیزوں کو ایسے ہی نظریاتی ’ٹوِسٹ‘ کے ذریعے فطری بنا کے پیش کیا ہے۔ معاشرتی ڈھانچے میں تعلیم، کلچر اور کچھ طاقت ور نظام ایسے ہیں جو پسے ہوئے طبقات کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں ہے کہ یہ تفریق بالکل بجا ہے اور اسی کو مقدر کہتے ہیں۔ ان باتوں کو قسمت کا لکھا مان کر تسلیم کرنا چاہیے۔ لہٰذا آئیڈیالوجی ایک پردہ ہے جو حقیقت کو دھندلا کر دیتا ہے۔ اسے مارکس ’فالس کانشسنیس‘ کا نام دیتا ہے۔
آئیڈیالوجی اور طاقت کا ایک دوسرے سے براہِ راست تعلق ہے۔ آئیڈیالوجی طاقتور طبقات کے غلبے کو جائز قرار دینے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ جان تھامپسن کے ہاں آئیڈیالوجی کو سمجھنا دراصل ان ذرائع کو سمجھنا ہے جن کے ذریعے طاقت کا غلبہ قائم رہتا ہے۔ مارکسی نقادوں کا کام انہیں ذرائع کو سامنے لانا ہے۔ اطالوی مفکر ’گرامشی‘ کے مطابق برتری جس کے لئے انگریزی زبان کا لفظ ’ہیجمنی‘ استعمال کیا جاتا ہے دراصل آئیڈیالوجی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آئیڈیالوجی ایک آلہ ہے جس کے ذریعے ’ہیجمنی‘ خود کو قائم رکھتی ہے۔
آئیڈیالوجی کا کھیل یہ ہے کہ لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ ان کے ساتھ کچھ کیا جا رہا ہے، ان کی سوچ کو ’مینیپولیٹ‘ کیا جا رہا ہے بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر آزاد اور با اختیار ہیں۔ وہ ’سبجیکٹ‘ ہیں اور اپنی آزادی سے انتخاب کی قدرت رکھتے ہیں۔ اس کی سادہ سی مثال ایک ٹوتھ پیسٹ کے اشتہار کی لی جا سکتی ہے۔ اس اشتہار کا مرکزی کردار ایک ڈاکٹر ہے جو کہ کسی خاص برینڈ کی ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔
اب عام آدمی کے نزدیک ڈاکٹر صحت کے معاملات میں مہارت رکھتا ہے اور اس کا کیا کاروباری فائدہ ہونا ہے وہ تو ہمارے فائدے کی بات کر رہا ہے۔ اس سارے اشتہار میں اس بات کا شائبہ تک نہیں ہوتا کہ یہ ایک سرمایہ دار کا چلوایا گیا اشتہار ہے جس کا مقصد یہ پروڈکٹ بیچنا اور منافع کمانا ہے۔ یہی کچھ ’کنسیومر کلچر‘ ہے۔
آئیڈیالوجی ایک حوالے سے مادی ہوتی ہے کیونکہ اس کا سارا ڈھانچہ کنکریٹ سسٹمز جیسا کہ خاندان، تعلیمی نظام، اور آرٹ وغیرہ پہ مشتمل ہے۔ گو کہ ’لوئی آلتھسے‘ مزاحمتی آئیڈیالوجی کی بات کرتا ہے اور ہمارے پاس ایسی فلمیں اور ناول موجود ہیں جو طاقتور بیانئے کو چیلنج کرتے ہیں لیکن غالب آئیڈیالوجی بہر حال بہت طاقتور ہوتی ہے۔ معاشرہ افراد سے متعلقہ سماجی کردار کو فطری بنا کے پیش کرتا ہے جیسا کہ بیشتر معاشروں میں عورت اور مرد کے مخصوص کردار۔ ’آلتھسے‘ اسے ’انٹرپیلیشن‘ کا نام دیتا ہے۔
مختصر یہ کہ آئیڈیالوجی طاقت کے غیر مساوی اور غیر منصفانہ نظام کو بچانے کا ایک آلہ ہے۔ یہ بڑے بڑے سرمایہ داروں اور تاجروں کو بڑا انسان دوست اور رحمدل بنا کے پیش کرتی ہے۔ ان کے ’نیک‘ اور ’فلاحی‘ کاموں کو ’فورگراؤنڈ‘ کرتی ہے۔ استحصالی نظام کو فطری بنا کے پیش کرتی ہے۔ یوں یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔


