مشرف کی موٹی گردن اور نائی کی چس


کہتے ہیں کہ کسی گاؤں میں ایک نائی تھا۔ اُس کا کُل سرمایا ایک تکیہ، ایک چادر، اور اپنے اوزاروں کا تھیلا تھا! اُس کا کوئی گھر نہیں تھا۔ بھلے وقتوں میں لوگ اکثر اپنے گھر کے باھر ایک چارپائی اور پانی کا گھڑا رکھا کرتے تھے۔ وہ نائی بھی کسی کے گھر کے باھر چارپائی پر سو جایا کرتا تھا!

ایک بار گاؤں میں سیلاب آ گیا!

سب لوگ اپنے اپنے مال اسباب کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کر رہے تھے لیکن نائی نے اپنا تکیہ اٹھایا اور ایک دیوار پر چڑھ کر تکیے کو ٹیک بنایا، اور لیٹ گیا!

ایک شخص اس نائی کے پاس سے گزرا اور اسے پُرسکون دیکھ کر کہنے لگا،

لوکاں نو بھاجڑ پئی اے تے تو آرام نال لما پیا ایں؟

(لوگ پریشان حال بھاگ رہے ہیں اور تم سکون سے لیٹے ہوئے ہو؟ )

نائی نے جواب دیا؛

اج ای تے غربت دی چس آئی اے۔ یعنی نہ مال ہے اور نہ ہی اس کی فکر۔ جن کا مال ہے انہیں بچانے کی فکر ہے۔

یہی حال ہمارا تھا۔ جب ہم دیکھتے کہ کسی نے قانون توڑا اور پھر بھی محفوظ ہے، کسی نے سڑک کنارے کھڑے پولیس والے کو بھی طمانچے مار دیے ہیں، کسی نے لال مسجد کو خون سے لال کر دیا مگر پھر بھی محفوظ ہے، مانا کہ وہ دہشت گرد ہوں گے لیکن کیا پاکستان میں دہشت گردی سے نبٹنے کا قانون موجود نہیں تھا؟

جب ہم دیکھتے کہ کوئی بندہ کراچی کو خون سے نہلا کر ایک جلسہ کرتا ہے اور مکے لہرا لہرا کر کہتا ہے یہ ہوتی طاقت، ہم کسی کو یہ کہتے ہوئے سنتے کہ وردی میری کھال ہے، جب ہم کسی کو یہ کہتے ہوئے پاتے کہ انفارمیشن نکالو چاہے اس کے جسم میں ڈرلنگ کرنی پڑے، جب ہم کسی کو یہ کہتے ہوئے دیکھتے کہ میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں، جب ہم دیکھتے کہ فقط ایک بندے نے ایک چھوٹی سے چھڑی کے بل پر پورے ملک پر قبضہ کر لیا ہے، جب ہمیں پتا چلتا کہ ایک انسان نے فقط وردی کے بل بوتے پر سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو قید کر لیا ہے، جب ہمیں معلوم ہوتا کہ ایک بندے نے محض طاقت کے بل بوتے پر ایک سیاسی پارٹی بنا لی اور مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی سے بندے توڑ کر اس جماعت میں شامل کر دیے تو سچی بات ہے کہ ہمیں اپنے بلڈی سویلین ہونے پر بڑا غصہ آتا تھا۔

لیکن آج جبکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسی موٹی گردن پھندے میں آئی ہے جس کے بارے مشہور تھا کہ اس کے سائز کا پھندہ پاکستان میں ملنا ممکن نہیں تو خوشی محسوس ہو رہی ہے اور اپنے سویلین ہونے پر فخر بھی محسوس ہو رہا ہے۔ اس قانون کا بنانے والا ذوالفقار بھٹو اس قانون کو توڑنے والے کے ہاتھوں پھانسی کے پھندے پر جھول گیا لیکن آج اسی قانون نے صحیح موڑ لیا ہے تو ناز تو ہونا چاہیے۔ وہ جو پاکستان بننے سے پہلے بھی قانون سے بالا تھے اور پاکستان بننے کے بعد قانون کو موم کی ناک سمجھتے تھے آج یہ قانون انہی کی ناک کاٹ گیا۔ وہ جو سمجھتے تھے کہ طاقت ہی سب سے بڑا قانون ہے آج ان کو قانون کی طاقت یاد کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔

ہمیں بھی پتا کہ پھانسی کا صرف فیصلہ سنایا گیا اور پھانسی ہو گی نہیں لیکن پاکستان جیسے ملک میں اس طرح کا فیصلہ سنانا بھی دل گردے کا کام تھا۔ کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر عمل نہ بھی ہو تب بھی وہ ناسور کی طرح رستے رہتے ہیں۔ یہ فیصلہ ایک ایسا ہی زخم ہے جس سے شفا ممکن ہے اور نہ ہی اس کا کوئی کامیاب آپریشن لیکن اس کی ٹیسیں مکے باز سجنا کو سر سے لے کر پیر تڑپاتی رہیں گی۔ عدالت کا کام فیصلہ سنانا تھا۔

انتظامیہ کا کام اس فیصلے پر عملدرآمد کرانا ہے۔ دیکھتے ہیں تحریک انصاف اس فیصلے کے ساتھ انصاف کر پاتی ہے یا نہیں۔ لیکن یہ ممکن نہیں ہو گا کیونکہ اپنے محسنوں کو بھی بھلا پھانسی دی جاتی ہے۔ گیند اب حکومت کے کورٹ میں ہے لیکن حکومت کیا کرے وہ تو خود فٹبال ہے کبھی ایک پلیئز کی کک پر اور کبھی دوسرے کی ٹھوکر پر۔ سولہ دسمبر ملک کو توڑنے والے ایک دن لیٹ ہی سہی لیکن سترہ دسمبر کو آئین کے سامنے خود ٹوٹ گئے۔

اب بہادری کا پتا چلے گا کہ مکے باز اپنے خلاف فیصلہ سن کر نواز شریف کی طرح وطن واپس آتا ہے یا نہیں؟

دوسروں کو غداری کے سرٹیفکیٹ دینے والا آج خود ہی آئین کی نظر میں غدار ٹھہرایا جا چکا ہے۔

وطن عزیز میں میرے عزیز ہم وطنو والی بریکنگ نیوزکے نام پر ایک پتلی تماشا ہوتا تھا لیکن آج پہلی بار حقیقت میں کوئی بریکنگ نیوز آئی ہے۔

پرویزمشرف کی کابینہ آج عمران نیازی کی کابینہ ہے جس کا باس غدار ٹھہرایا جا چکا ہے۔ کیا مشرف کے یہ ساتھی اخلاقی طور مستعفی ہو کر عوام سے معافی مانگیں گے؟

اگر تاریخ یہ لکھے گی کہ نواز شریف نے مشرف کے خلاف مقدمہ بناکر بھیجا تو تاریخ یہ بھی لکھے گی کہ عمران خان کی حکومت نے عدالت میں فیصلہ نہ سنانے کی درخواست کی تھی۔ تو تاریخ کی درست سمت میں کون کھڑا ہے؟

اور آخر میں صرف دو سوال :

ایک یہ کہ فیصلہ پرویز مشرف کے خلاف آیا ہے لیکن صف ماتم حکومت کے ہاں کیوں بچھ گئی ہے؟

دوسری یہ کہ فیصلہ پرویز مشرف کے خلاف آیا ہے لیکن ایک میڈیا ہاؤس پر سکوت مرگ کیوں طاری ہے؟

Facebook Comments HS