ایک نقطے نے مجرم بنا دیا


جسے دیکھو ہر کوئی وکلا گردی، طلبہ گردی، پولیس گردی کا راگ الاپ رہا ہے ان کا راگ سن کے یوں لگتا ہے جیسے ہر طرف گرد ہی گرد ہے اور کچھ نظرنہیں آ رہا اور کوئی اس گرد کو ختم کرنے کی کوشش بھی نہیں کر رہا۔ جبکہ دوسری طرف کا بیانیہ سنیں تو وہ مخلوق بھی حق پہ لگتی ہے جن پر وکلا یا طلبہ گردی کا الزام لگ رہا ہے، وہ اس کو سراسر بیرونی سازش قرار دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جوکچھ بھی ہے سب ماحول کی دین ہے وہ ذاتی طور پہ ذمہ وار نہیں، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے تو کسی بھی معاملے سے نپٹنے کے لئے تنظیمیں بنا رکھی ہیں۔

اور یہ بس تنظیمی اصول ہے کہ تنظیم کے اراکین کا ہر ممکن دفاع کر نا ہے۔ بات مختصر کہ یہاں ہر کسی کو اپنی تنظیم کے ارکان کا دفاع کرنا ہے، اور اپنے دفاع کی خاطر اٹھایا گیا قدم دہشت گردی کیا کسی طرح کی بھی گردی میں نہیں آتا۔ ویسے بھی یہاں جو اپنا دفاع نہ کر سکے اس کو کمزور، لاچار سمجھ کر اس پر مزیدظلم ڈھایا جاتا ہے۔ اور ہم مظلوم قوم نہیں بننا چاہتے۔ ظلم کی حد تو یہ کہ یہاں جو تھوڑی بہت بات برداشت کر لے اسے پھر نامرد ہونے کا طعنہ دے کر چوڑیاں پہننے کا مشورہ بھی دے دیا جاتا ہے۔

اب مردوں کی اس دنیا میں تو قدرتی طور پہ نا مرد بھی خود کو مرد ثابت کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگادیتے ہیں، البتہ مردوں نے چوڑیاں ہمیشہ سے پہن رکھی ہیں لیکن یہ چوڑیاں پہننے والے مرد، زن مرید ہوتے ہیں کہ بیوی کے سامنے چوڑیاں پہننے ہی میں عافیت ہے۔ لیکن بیوی کے ڈر سے اس کے سامنے زبان اور ہاتھ بند رکھنے والے اس کے جوہر باہر خوب کھولتے ہیں اور اس قدر کھولتے ہیں کہ ہمسائے تک سہم جاتے ہیں اور سوچتے ہیں یہ دیوانے تو سکندر جیسے ہیں جو بنا ہتھیار اٹھائے دنیا فتح کرنے چلے ہیں۔

وکلا کے کارنامے کو دیکھتے ہوئے ایک بار تو پڑوس میں رہنے والے کا دل بھی کانپا ہوگا کہ اگر چند سو وکیل اتنا بڑا ہسپتال فتح کر سکتے ہیں تو سوچیئے اگر یہ سب مل جائیں تو کیا بھارت پر ہلہ نہیں بول سکتے؟ بس اطمینان رکھیں کشمیر ہماری مٹھی میں ہے، بس اک اشارے کی دیر ہے۔ پی آئی سی میں جو بھی ہوا اس کی ہر طرف مذمت ہی کی جا رہی ہے۔ جبکہ معاملہ مذمت کرنے کا نہیں، سراسر مدح و توصیف کرنے کا ہے۔ معاملے کو ایک نقطہ کی غلطی سے محرم سے مجرم بنادیا گیا ہے۔ بس اسی نقطہ کی غلطی کی درستی کے لئے وکلا سراپا حتجاج ہیں مشتعل ہیں کہ

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

وہ (ڈاکٹر) قتل بھی کریں تو چرچا نہیں ہوتا

خود ڈاکٹر حضرات آئے دن ہڑتالیں کر کے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیتے ہیں، ایمبولینس تک کا راستہ روک لیتے ہیں، ایمرجنسی بند کر دیتے ہیں اپنی ہڑتال کے دوران مریضوں کی پرواہ قطعاً نہیں کرتے، بلکہ ایک ہڑتال کے دوران میں تو آپریشن تھیٹر مں جاری آپریشن تک رکوانے کی کوشش کر دی، لیکن یہ تب کسی کو نظر نہیں آیا، کسی نے ان پر لعن طعن نہ کی اور ہم ان سے انصاف مانگنے گئے تو ہم پر سنگ برسائے جارہے ہیں۔

کتنے دکھ کی بات ہے کہ واقعہ کو رنگ ہی اور دے دیا گیا ہے۔ وکلا کے مطابق بات تو سادہ سی تھی، سب کچھ صرف ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے، اب دیکھیے ڈاکٹروں سے مار بھی ہم نے کھائی، زخمی بھی ہمارے وکیل بھائی ہوئے، گھر سے بے گھر بھی ہم ہوئے، پکڑا بھی ہمارے ساتھیوں کو جارہا ہے اور برے بھی ہم ٹھہرے۔

ناحق ہم بیچاروں پر تہمت ہے مختاری کی

وکلا بیچارے تو پی آئی سی میں ڈاکٹروں کی جانب سے کی گئی زیادتی کا ان سے احتجاج کرنے اور انصاف مانگنے آئے تھے لیکن ڈاکٹروں نے سمجھا کہ وکلا کی جانب سے ان پر حملہ کر دیا گیا، بس پھر اسی غلط فہمی میں انھوں نے وکلا پر پتھراؤ کر دیا اور نتیجہ کے طور پہ وکلا نے جو بھی کیا اپنے بچاؤ کے لئے کیا، اپنا دفاع تو ہر صورت لازم ہے بس یہیں سے شر پسند عناصر نے معاملے کو ہوا دی، وکلا کی شہرت خراب کرنے کے لئے، معاملے کو کوئی اور نگ دے کر اسے وکلا گردی کہہ دیا گیا ہے۔

یقین کیجیئے اس سارے میں وکلا گردی کا کوئی پہلو ہے ہی نہیں، بلکہ اس سارے قصے میں جو روشن پہلو نکلتا ہے اس پر تو کسی اہل نظر کی نظر ہی ابھی تک نہیں گئی، وہ یہ کہ دنیا پر ہماری دہشت چھا گئی ہے کہ ادھر طلبہ ہو یا پولیس ڈاکٹر ہو یا وکیل ہر کوئی مضبوط ہے، کوئی کسی سے دبتا نہیں، ظلم نہیں سہتا، اتنا طاقتور ہے کہ اسے دشمن کو ڈرانے کے لئے ایٹم چلانے کی دھمکی بھی نہیں دینا پڑتی بلکہ مسلمان ہونے کے ناتے اپنے زور بازو پر بھروسا کرتے بنا شمشیر کے لڑتا دشمن کے گھر میں گھس جاتا ہے۔

ہمارے موجودہ اور سابقہ حکمران تو احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں جو ہاتھ باندھے اغیار کے سامنے سر جھکائے انھیں ہر ممکن یہ یقین دلانے میں اپنی توانائی صرف کرتے ہیں کہ ہم دہشت گرد نہیں، ہم پر رحم کیجیئے وہ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ ہم سے ڈرو ہم طاقتور ہیں۔ اتنے طاقتور کہ کسی بھی یونیورسٹی جدھر آئی ڈی کارڈ دکھائے بغیر طلبا کو کتابیں لے کر اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی وہاں ہم بنا کارڈ دکھائے اسلحہ لے کر پہنچ جاتے ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی یا پھرجب چاہیں کسی بھی ہسپتال میں گھس کر ڈاکٹروں پر حملہ کر دیں، ہم چاہیں تو تھوڑی سی دیر میں اتنا بڑا ہسپتال خالی کروا سکتے ہیں۔

ہم اتنے بے بس نہیں کہ کسی کے دیے زخم کو چپ چاپ سہہ لیں، بلکہ اتنے طاقتور ہیں کہ بدلہ لینے پر آئیں تو راہ میں آئی ہر رکاوٹ کو توڑ ڈالتے ہیں۔ اور اس معاملے میں پولیس بھی ہمارے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے۔ ویسے بھی جس کا کام اسی کو ساجھے۔ لیکن پتہ نہیں کیوں یہاں ہر بندے نے اپنا کام چھوڑ کر دوسرے کا کام سنبھال رکھا ہے۔ جیسے کہ جو کام ڈاکٹر کے کرنے کا ہے وہ کام پولیس نے کرنا ہے (یعنی آپریشن) ۔ جب پولیس آپریشن کرے گی تو ویلے ڈاکٹر پھر وکیلوں سے پنگے لیں گے، پنگے لیں گے تو پھر نتیجے میں دنگے ہی ہوں گے۔

سب پوچھتے ہیں پی آئی سی میں اتنا ہنگامہ ہوگیا لیکن اس سارے وقت میں پولیس کدھر تھی، وہ وقت پرکیوں نہ پہنچی، توجناب اطلاع کے لئے عرض ہے کہ پولیس آپریشن کے لئے آلات ڈھونڈ رہی تھی اور ڈاکٹری اصول کے مطابق انتظار کر رہی تھی کہ خدا کرے سب نارمل ہوجائے اور انھیں آپریشن نہ ہی کرنا پڑے۔ ویسے بھی پولیس ہر اس جگہ ہمیشہ دیر سے پہنچتی ہے جدھر اس کو یقین ہو کہ وقت پر پہنچنے سے جرم رک سکتا ہے۔ اگر پولس وقت پر پہنچ جائے تو جیلیں وہ کس سے بھرے گی۔

یوں ان کے وقت پر پہنچنے سے بہت سارے لوگ فارغ ہونے سے بچ جاتے ہیں، کہ اگر جرم ہی نہ ہوگا تو جیلیں کس سے بھری جائیں گی، وکیل کے پاس کوئی آئے گا نہ عدالتیں لگیں گی، سب فارغ ہوگئے تو گھروں کے چولہے کیسے جلیں گے۔ سب کومتحرک رکھنے کے لئے پولیس تھوڑی سستی دکھاتی ہے دوسرا پولیس والے کتنے ہی پھنے خان کیوں نہ ہوں اپنے سے تگڑے پر ہاتھ نہیں ڈالتے، ان سے ہمیشہ ڈرتے ہیں۔ اب سمجھ آئی کہ پولیس اس لئے منظر سے غائب تھی۔

بلکہ یقین کیجئے کبھی کبھی تو پولیس کے انداز دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ محکمہ مجرموں کو نہیں مظلوموں کو پکڑنے کے لئے بنا ہے کہ مجرم تو کبھی ان کی گرفت میں نہیں آتے البتہ شکائیت لے کر آئے سائلین کو ہی پکڑ کر حوالات میں بند کر دیتے ہیں، اور انھی سے اعتراف جرم کروا لیتے ہیں۔ جیسے کہ ابھی بھی پستول لہرانے والے وکیل حضرات تو پکڑے نہیں گئے ان سے، لیکن ساتھ دکھائی دینے والے دوسرے وکیل پولیس کی حراست میں ہیں۔

یہاں ایک اور ابہام بھی پیدا کیا جارہا ہے کہ وکلا کی دیکھا دیکھی طلبہ بھی میدان میں کودے ہیں اور انھوں نے بھی طلبا گردی کی مثال قائم کی ہے جبکہ یہ بھی محض الزام ہی ہے۔ انھوں نے تو اٹک میں علم و معرفت کے جھنڈے گاڑنے کی غرض سے اسسٹنٹ کمشنر کے ایمان کا امتحان لینے کی کوشش کی تھی، اور اسلام آباد یونیورسٹی میں بھی ان کا ارادہ جہاد کی تربیت دینے کی ادنٰی سی کوشش تھی۔ لیکن یہاں بھی شر پسند عناصر اور کچھ نادان دوست اسے طلبہ گردی سے موسوم کر رہے ہیں جبکہ وہ معصوم تو اسلام کی بقاء کے لئے سب کر رہے تھے۔

لیکن شکر ہے وکلا گردی کا الزام لگانے والوں نے طلبہ کے معاملے کو اتنی ہوا نہیں دی، اور معاملہ جمعیت پر ڈال کر طلبہ کی بچت کر دی گئی۔ شاید یہ سب حال ہی میں طلبہ کی طرف سے لال لال لہرائے جانے کا اثر ہے کہ لال تو پھر لال ہوتا ہے ماں کا ہو یا رنگ کا۔ ویسے بھی اس واقعے سے چند دن پہلے ہی تو طلبہ ایشیا کے سرخ ہونے کی خبر دے رہے تھے

Facebook Comments HS