سینیٹر لنڈسے کا دورہ اور احسن اقبال کی ”رہائی“
”سی پیک“ بارے کہا گیا تھا کہ یہ منصُوبہ خطے میں معاشی طور پر ”گیم چینجر“ ثابت ہو گا لیکن اس سے پہلے چین کے اشتراک سے پاکستان میں شرُوع کیا جانے والا اقتصادی راہداری کا یہ منصُوبہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے کے لئے ”گیم چینجر“ ضرُور بنتا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں ”پُرانے پاکستان“ کے سیاسی گھوڑوں کو پھر سے تازہ دم کرنے کے لئے ابتدائی مرحلے میں یعنی اعتماد سازی کا ماحول پیدا کرنے کے لئے رعائتیں یا ”ریلیف“ ملنے کا سلسلہ شرُوع ہو چُکا ہے۔
اُدھر برطانیہ میں ”ہیٹ والا بابُو“ ایم آئی سکس کے اھم حُکام کے ساتھ اھم مُلاقاتیں کرتا پھر رہا ہے تو ادھر ”سب پہ بھاری“ سندھ حکُومت کے خصُوصی طیارے میں ”کپتان“ کی ناک کے نیچے سے پھُر سے اُڑ جانے کا منظر دکھا رہا ہے، جبکہ سنکیانگ کی ”باغی“ ایگور مُسلم اقلیت یعنی چین کے ”مُجاہدین“ کی ”آزادی“ کی جد و جہد کی سرپرستی کے وعدے کے بدلے میں قائد آزادی مارچ دسمبر کے باقی دن گننے میں لگے ہُوئے ہیں۔ اطلاعات کے مُطابق امریکہ بہادر بے پاکستانی میدان سیاست کے تمام سٹیک ہولڈرز کو پیکج آفر کر دیے ہیں۔ کیُونکہ امریکہ ”سی پیک“ سبوتاژ کرنے کے لئے ایک طرف پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مدد چاہتا ہے تو دُوسری طرف پاکستان میں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت کا بھی مُتمنی ہے اور اس کے لئے کوشاں ہے۔
اُدھر چین نے بھی اپنی روایت کے برعکس معرُوضی عصری تقاضوں کے تحت پاکستانی سیاست میں ”ناگزیر مُداخلت“ شُرُوع کر دی ہے اور عظیم دوست مُلک ہی کی خواہش پر نہ صرف ”چیف فرشتہ“ کو ”توسیع“ دیئے جانے کا فیصلہ کیا گیا کہ چین اُسے ذاتی حوالے سے پسند کرتا ہے بلکہ نواز شریف کی ”نُون لیگ“ کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال کی آزادی بھی اسی عظیم ہمسائے نے یقینی بنائی، ورنہ ”کپتان“ کی سرکار نواز شریف کی لندن روانگی سے قبل ہی احسن اقبال کو گرفتار کرنے کی تیاری کر چُکی تھی مگر عظیم ہمسایہ دوست مُلک نے بروقت مُداخلت کر کے ”سی پیک“ کے ابتدائی انچارج سیاست دان کو ”رہائی“ دلوائی، جبکہ موجُودہ سرکار کے منصُوبہ بندی کے پہلے وفاقی وزیر کو اسی دوست مُلک کی خواہش پر ہٹا دئئے جانے کا واقعہ سب کے سامنے ہے
اسی طرح اسٹیبلشمنٹ کے سب سے چہیتے مذہبی لیڈر کو بھی در اصل عظیم دوست ہمسائے ہی کی ایماء پر پابند سلاسل کیا گیا جس کے کالعدم قرار دیئے جا چُکے ”لشکر“ کو نئے نام کے ساتھ بھی کام کرنے سے بھی اُسی طرح روک دیا گیا جس طرح تحریک طالبان پاکستان کے خلاف ایک نتیجہ خیز آپریشن عمل میں لایا گیا، کیُونکہ طالبان اور ”لشکری پروفیسر“ کی جماعت چین کے صُوبہ سنکیانگ میں آباد ایگور نسل سے تعلق رکھنے والے مُسلمانوں کی جدوجہد آزادی ”کے حوالے سے سرگرم تھے اور درحقیقت چین ہی کی شکائت پر ان دونوں مذہبی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن عمل میں لایا گیا جس پر“ ایف اے ٹی ایف کے دباؤ ”کا غلاف چڑھا دیا گیا۔
اسی وجہ سے امریکہ بہادر کو ”مولانا“ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا پڑا جن کی پاکستان میں تعینات ایک امریکی سفارت کار سے مُلاقات بھی ہُوئی۔ اطلاعات کے مُطابق مولانا کو مُتحرک کر کے پھر سے مُلکی سیاست میں relevant بنانے کی غرض سے اُن کے ”مارچ شو“ کو خطیر فنڈز بھی فراہم کیے گئے کیُونکہ واشنگٹن کی تمنا ہے کہ مولانا سنکیانگ کے ایگور ”مُجاہدین“ کی مدد کا وُہ کام وہیں سے سنبھال لیں جہاں طالبان اور ”لشکری پروفیسر“ کی تنظیم کے کارکن چھوڑ گئے تھے، امریکہ کے لئے سنکیانگ میں شورش جاری رکھوانا بُہت اہم ہے کیُونکہ وہیں سے ”سی پیک“ شُرُوع ہوتا ہے۔
سی آئی اے نے ”باغی“ ایگور مُسلمانوں کی ایک تنظیم بنوا کر جرمنی میں اس کا دفتر بھی بنوا رکھا ہے، اسی طرح گلگت بلتستان کے ”خُریت پسندوں“ خاص کر نوجوانوں کو وفاق کے خلاف مُنظم کرنے پر بھی بھر پُور طور پر کام ہو رہا ہے۔ اسی سلسلہ میں سوئٹزرلینڈ میں قائم ایک این جی او کے زیراھتمام گُزشتہ دنوں لاہور میں ایک سیمینار بھی کروایا گیا۔
سُنا ہے ری پبلکن امریکی سینیٹر لنڈسے اولن گراھم ایک وفد ہی نہیں بلکہ پاکستانی حُکم رانوں یعنی اصل پالیسی سازوں کے لئے ایک پُرکشش نیا امدادی پیکج بھی لے کر اسلام آباد پُہنچے ہیں جس میں ”بات مان لینے“ کے بدلے میں کشمیر کا مسئلہ حل کروا دینے سے لے کر دفاعی شُعبے میں ایک بڑی امداد کی پیشکش تک بُہے کُچھ شامل ہے۔ امریکہ بہادر سینیٹر لنڈسے کے ذریعے ’سی پیک‘ ”فتح“ کرنے کا ایک اور چانس لینا چاہتا ہے اور سینیٹر لنڈسے کا حالیہ دورہ در اصل قائمقام نائب امریکی وزیر خارجہ برائے جنُوبی ایشیا ایلس ویلز کی طرف سے ’سی پیک‘ پر ڈالی گئی ”کل کل“ ہی کی اگلی کڑی ہے لیکن اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ”سی پیک“ کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

