مشرف غداری کیس کا فیصلہ غلط ہے: اٹارنی جنرل انور منصور
اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی سزائے موت کے فیصلے کو غلط قرار دے دیا ہے۔
اسلام آباد میں خصوصی عدالت نے جنرل (ر) پرویز مشرف کو غدار قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے کہا کہ پرویزمشرف کو سزائے موت دینے کا فیصلہ غلط ہے۔ میں واضح طور پر کہتا ہوں، اس سے زیادہ ظلم کسی کے اوپر نہیں ہوسکتا۔ یہ ایسی بات ہے جیسے کسی کے بنیادی حق کو مکمل نظر انداز کردیا جائے۔
انہوں نےکہا کہ ایک شخص کو بیان ریکارڈ کیے بغیر پھانسی کی سزا سنانے پر معافی کی گنجائش نہیں۔ ایک شخص بیمار ہے اسے کہا جاتا ہے کہ آپ یہاں پر آکر بیان دیں اور ایک شخص جو بیمار نہیں ہے، اسے کہا جاتا ہے کہ آپ باہر چلے جائیں۔
اٹارنی جنرل انور منصور خان کا کہنا تھا کہ فیصلہ جو غلط ہے اس کو غلط کہیں گے اور کہنا چاہیے۔ جو درخواست دی گئی تھی وہ آج سے ڈیڑھ سال پہلے دی گئی تھی۔ درخواست تھی کہ سب کو بلایا جائے، جس میں جسٹس ڈوگر اور دیگر بھی شامل تھے لیکن اس درخواست کو انہوں نے ڈس مس کیا تھا اور کورٹ کا یہ کہنا کہ یہ اتنے عرصے کے بعد آئے ہیں یہ مناسب نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرویز مشرف کے پاس اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود ہے۔


