کالے کوٹ والوں کے پیچھے کون تھا؟


جب جنرل پرویز مشرف نے اپنے دؤر حکومت میں بطور صدر مملکت ایمرجنسی نافذ کی تو، جج صاحباں معزول ہوگئے اور ان کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانا پڑ رہا تھا۔ تب اس کے خلاف وکلاء برادری اور جج صاحبان نے ملک گیر تحریک چلائی، جوکہ خاصی مقبول ہوئی، ساتھ ہی کراچی میں ہنگامے ہوئے اور کئی لوگ جان سے بھی گئے۔ اس وقت کے وکلاء کی پاکستان مین بڑی عزت و احترام تھا، جو اپنے حقوق کے لیے سراپا احتجاج تھے۔ پر جو لاھور میں گیارہ دسمبر کو وکلاء کا بھیانک چہرا سامنے آیا، اس نے تو یہ ثابت کردیا کہ وکلاء بہت بڑی مافیا بن چکے ہیں، جو اپنے مطالبات منوانے کی خاطر ہر حد پار کر سکتے ہیں۔

لاہور کی امراض قلب کی سب سے بڑی اور واحد سرکاری ہسپتال، جہاں پہ دور دراز کے مریض مفت علاج کروانے کی خاطر آتے ہیں، ان پہ کالے کوٹ والوں نے دھاوا بول دیا، اور ایسے دل دھلا دینے والا مناظر تھے کہ خدا کی پناہ۔ کالے کوٹوں میں ملبوس تمام ڈنڈا بردار وکیل ہسپتال کی عمارت میں لگا شیشے کا دروزاہ توڑ کر ہجوم کی صورت میں اندر داخل ہوتے جا رہے تھے، اور جو بھی شخص سامنے نظر آتا، اسے مارنا پیٹنا شروع کر دیتے، جو چیز ہاتھ لگی اس کو توڑ پھوڑ رہے تھے۔ جن افراد کو وہ مار رہے تھے ان کا تعلق نہ صرف ہسپتال سے تھا بلکہ کئی ایسے لوگ تھے جو تیمارداری کے لیے آئے ہوئے تھے۔ پر وہ سب یہ منظر دیکھ کر بہت ہی خوفزدہ ہوگئے، کیوں کہ ہمارے ملک میں مشتعل افراد کا کسی پر دھاوا بولنا بہت دفعہ جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔

نہتے نوجوان مشعل خان پر ہجوم کا پتھراؤ اب بھی ہم بھولے نہیں، جس کو بہانہ بنا کر ہجوم نے بے دردی سے قتل کیا گیا۔ لاھور واقعہ میں وڈیو میں صاف دکھائی دیتا وزیراعظم عمران خان کا بھانجا حسان نیازی ایسی جنس نایاب ہو چکا ہے جو پولیس کو ڈھونڈنے سے نہیں مل رہا۔ پر سمجھ نہیں آ رہا قانون کا سبق دینے والوں نے قانون کو کس طرح ہاتھ میں لیا۔ چلو مان لیتے ہیں کہ سفید کوٹ والے ڈاکٹرز نے زبان درازی کی ہوگی، پر اس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ ہسپتال پر حملہ کیا جائے اور لوگوں کی جان اس عمارت کے اندر خطرے میں ڈالی جائے، جہاں وہ بچنے کی امید لے کر داخل ہوتے ہیں۔

یہ سب اچانک سے کیسے اور کیوں ہوا؟ کچھ پلے نہیں پڑ رہا۔ پر ہاں ایک بات یاد آ رہی ہے کہ کچھ دن پہلے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جناب آصف سعید کوسہ نے کچھ سخت گیر جملے کہے تھے، اور یہ بھی کہا تھا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، قانون کے کٹہرے میں تو جنرل بھی آ سکتے ہیں اور وزرائے اعظم بھی۔ قانون میں اتنی طاقت ہے کہ وہ منتخب وزیراعظم کو اپنے عہدے سے سبکدوش بھی کر سکتا ہے، ساتھ ہی یہ کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف جو سنگین غداری کیس چل رہا ہے، اس کا فیصلہ سنایا جا رہا ہے۔ اس اعلان نے بہت سے حلقوں میں کھلبلی مچادی اور جلد ہی پرویز مشرف کا وڈیو بیان آیا جس میں وہ اپنے اوپر لگے الزامات کی تردید کر رہے تھے۔ اور ساتھ ہی ایک اور ہوا کہ جج صاحب نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجود کی ملازمت میں توسیع کا نوٹس لے کر اس پر کڑی تنقید کی۔

جیسے تیسے کر کے دونوں مسئلے نمٹا تو دیے گئے، دونوں مسائل کا وقتی طور پر حل تو نکالا گیا پر عدلیا کی جانب سے سخت گیر جملے شاید کسے کو نہ بھائے۔ اور پھر جلد ہی وکلاء کے یہ ہنگامے ہوئے، اور سارے ملک میں وکلاء کی بدنامی ہوئی۔ کیا ان دونوں باتوں میں کوئی تعلق ہے؟ کیا جج صاحبان کو جواب دینے کے لیے پلاننگ کے تحت وکیلوں سے یہ سب کروایا گیا۔ سولہ دسمبر کو بھی چیف جسٹس کھوسہ صاحب نے سقوط ڈھاکہ پر بیان جاری کرتے ہوئے اس کا ذمے دار ریاست کو ٹھہرایا۔

اب بھی سپریم کورٹ کے سینئر 55 ججوں اور وکلاء نے پاکستان بار کاؤنسل کے وکلاء کو خط لکھ کر، ایک طرف لاہور واقعہ پر کڑی تنقید کی ہے تو دوسرے طرف اس سے مکمل لاتعلقی کا اظہار بھی کیا ہے۔ ان کو اس بات پر بھی تشویش تھی کہ وکلا کے حق میں مختلف شہروں میں ایسے مظاہرے کیوں ہوئے؟ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پوری وکلاء برادری اس میں شامل نہیں تھی، پر کچھ مخصوص لوگوں کا یہ طرز عمل تھا، جس نے دہشت و خوف پھلایا، اور تین مریض جان سے گئے۔

ہمارے ملک میں ہوتا بھی ایسا آیا ہے، جو کوئی بھی مقتدرہ کے بارے میں لب کشائی کرتا ہے اسے سنگین نتائج بھگتنے پڑتے ہیں، باقی جو کوئی خاموش رہتا ہے اس پر نوازشیں ہوتی رہتی ہیں۔ مقتدرہ کے مختلف حصوں میں کشمکش بہت پرانی ہے اور ان کی آپس میں پیار کی کہانیاں بھی مثالی ہیں۔ جب کبھی عدلیہ نے سر اٹھانا چاہا، سنگین نتائج بھگتے۔ عدلیہ نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے سے لے کر، نواز شریف کو پاناما اسکینڈل میں وزارت عظمیٰ سے ہٹانے تک، جو کام حسب منشا کیے، ان پر داد بھی وصول کی ہو گی۔

Facebook Comments HS