پسند کی شادی کرنے والوں کے نام
کہا جاتا ہے کہ ماں انسان کا پہلا استاد اور ماں کی گود انسان کی پہلی درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے، وہ ماں جو اپنے بچے کو جنم دینے سے قبل 9 ماہ تک اپنی کوکھ میں سنبھال کر رکھتی ہے، سر پر کفن باندھ کر اولاد کو جنم دیتی ہے وہ ماں جو بچے کی اچھی پرورش کے لئے دن رات محنت اور دعائیں کرتی ہے، خود جتنی بھی بھوکی ہو لیکن پہلا لقمہ اپنے بچے کے منہ میں ڈال دے کہ میرے جگر پہلے تم کھا لو۔ وہ ماں جو نہ گرمی دیکھے نہ سردی نہ دن دیکھے نہ رات ہر وقت بس اپنے بچے کے حال اور مستقبل کے لئے پریشان رہتی ہے جو اپنے بچے کی اچھی زندگی، اچھی پڑھائی کے لئے ہر وقت سوچتی ہے۔
ماں وہ ہے جو اپنے بچوں کو کبھی نہیں کہتی کہ بیٹا مجھے خوش رکھنا وہ ہمیشہ یہی کہتی ہے کہ میرا بچہ خوش رہے، مگر جب اس کے وہ بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے ماں باپ کو کیا دیتے ہیں؟ وہ بچے ان کو کسی فلاحی ادارے میں چھوڑ آتے ہیں یا اپنے گھر میں کسی غلام کی حیثیت دیتے ہے، وہ بچے جو کبھی اپنے ماں باپ کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھے تھے وہ اپنے ماں باپ کی ان ہاتھوں کی عزت اور لاج بھی نہیں رکھتے۔ وہ ماں باب جو بچوں کی خوشیوں کے لئے اپنی زندگی وقف کر دیتے ہیں۔
ان کو خوش رکھنے کے لئے ہر وہ کام کرتے ہیں جو نہ کبھی انہوں نے کیا اور نہ انہیں پسند ہوتا ہے، صرف اور صرف اپنے بچوں کی خوشیوں کے لئے وہ دینا کی ہر چیز نثار کرنے کو تیار ہوتے ہیں کہ بس ہمارے بچے خوش ہوں۔ وہ اچھی زندگی بسر کریں، بحیثیت صحافی میں نے اپنے صحافتی دور میں درجنوں ایسے واقعات دیکھے ہیں جس میں ایک غلط فیصلہ پورے خاندان کی خوشیاں ختم کر دیتا ہے، جی بالکل میں بات کر رہا ہوں لو میرج یا پسند کی شادی کی ہر ماہ کم سے کم پسند کی شادی کے 4، 5 واقعات میں اپنی نظروں کے سامنے دیکھتا ہوں۔
پسند کی شادی کرنے والے جوڑے عدالت میں اپنے ہی پیاروں سے جان کا خطرہ ہونے پر عدالت سے تحفظ مانگتے ہیں، میرے کہنے کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ بالغ لڑکا لڑکی اپنی پسند کی شادی نہیں کرسکتے۔ نہ ہی میں پسند کی شادی کے خلاف ہوں، یہ حق تو ہمارا اسلام بھی دیتا ہے کہ عورت اپنی رضا خوشی سے شادی کر سکتی ہے کیوں کہ اس لڑکی کو ہی اس شخص کے ساتھ پوری زندگی گزارنی ہوتی ہے، ہاں لیکن پسند کی شادی ضرور کرو مگر اپنی پسند کے چکر میں دونوں خاندان کے درجنوں لوگوں کی عزت کے ساتھ مت کھیلو، پسند کی شادی تو ہوجاتی ہے، عدالت سے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے، مگر جب عدالت میں لڑکی کا پورا خاندان آتا ہے اور وہ احاطہ عدالت میں اپنی بیٹی کے بیچھے بھاگتا ہے۔
اور اس خاندان کے ہر فرد کے لبوں پر یہی صدا ہوتی ہے کہ بیٹی نہ جاؤ ہمیں چھوڑ کے ہم تم سے معافی مانگتے ہیں، جو تم بولو گی وہی کریں گے مگر پسند کے چکر میں پڑ کر بیٹیاں اندھی ہو جاتی ہیں نہ وہ ماں کی ممتا کو دیکھتی ییں نہ باپ کی شفقت انہیں یاد رہتی ہے نہ بھائی بہن کا پیار انہیں کسی غلط اقدام سے روک پاتا ہے، پسند کی شادی کرنے والا جوڑا سیکڑوں لوگوں کے سامنے اپنے خاندان کی عزت کو تار تار کر دیتا ہے، ایسے واقعات میں دوش صرف پسند کی شادی کرنے والے لڑکے لڑکی کا ہی نہیں ہوتا اس میں کچھ غلطیاں ماں باپ اور خاندان والوں کی بھی ہوتی ہیں، اس لیے جب ماں باپ اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کے لئے قربان کر دیتے ہیں تو زندگی کے اس اہم فیصلے میں بھی ان کو اپنے بچوں کو اعتماد میں لینا چاہیے، یا تو وہ اپنے بچوں کی خوشی میں خوش ہوں جائیں یا پھر انہیں سمجھائیں کہ آپ کی پسند سر انکھوں پر مگر آپ کا یہ فیصلہ ٹھیک نہیں یہ فیصلہ آپ کے مستقبل کے لئے خراب ہے، میرے خیال سے ماں باب اور بچے اگر آپس میں مل بیٹھ کے ایک دوسرے کی بات سنیں اور سمجھیں تو بھاگ کر پسند کی شادی کرنے کے واقعات بہت کم ہو جائیں گے اور یوں دو خاندانوں کی عزت سرعام خراب نہیں ہوگی ”


