اقلیتی بنیاد پر بچیوں کا مذہب تبدیل کیا جاتا ہے

’رات کا وقت تھا، ہم اپنے گھر میں ہی موجود تھے کہ اچانک کچھ مسلح افراد ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور اسلحہ کی زور پر میری کم سن بیٹی کو اغوا کر کے ساتھ لے گئے۔ ‘ یہ کہنا تھا سندھ کے شہر نؤں کوٹ کے رمیش بھیل کا جو کہ پیشے کے لحاظ سے ٹرک ڈرائیور ہیں۔ رمیش بھیل نے 18 فروری کو پیش آنے والے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلحہ سے لیس تین لوگ آدھی

Read more

سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ اور لواحقین کی امیدیں

سانحہ بلدیہ پاکستان کی تاریغ کا وہ درد ناک دن جب 260 سے زائد ماؤں کی گود اجڑ گئی، جس دن ہر گھر سے جنازہ نکلا۔ کسی نے اپنے لخت جگر کو الوادع کیا تو کہیں بچے یتیم ہو گئے۔ 11 ستمبر 2012 وہ سیاہ دن جس دن سیاسی تنظم کے دباؤ اور بھتہ نہ دینے پر کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں قائم گارمینٹ کی فیکٹری کو آگ لگائی گئی۔ آگ لگانے کے بعد نہ تو کسی کو جان

Read more

پسند کی شادی کرنے والوں کے نام

کہا جاتا ہے کہ ماں انسان کا پہلا استاد اور ماں کی گود انسان کی پہلی درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے، وہ ماں جو اپنے بچے کو جنم دینے سے قبل 9 ماہ تک اپنی کوکھ میں سنبھال کر رکھتی ہے، سر پر کفن باندھ کر اولاد کو جنم دیتی ہے وہ ماں جو بچے کی اچھی پرورش کے لئے دن رات محنت اور دعائیں کرتی ہے، خود جتنی بھی بھوکی ہو لیکن پہلا لقمہ اپنے بچے کے منہ میں

Read more

پانچ سال میں لاڑکانہ میں کتوں کے کاٹنے کہ کیس ایک لاکھ سے تجاوز کر گئے

پاکستان کا صوبہ سندھ جہاں نمرتا قتل کیس اور کاروکاری جیسے بے شمار واقعات کا سلسلہ جاری ہے وہیں اس صوبے کے شہر لاڑکانہ میں سگ گزیدگی کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اور کتوں کے کاٹنے کی ویکسین نہ ملنے کے سبب لوگوں کی ہلاکت بھی ہو رہی ہیں۔ کچھ دن قبل شکار پور کے 10 سالہ بچے کو کتے کے کاٹنے پر لاڑکانہ کے سول ہسپتال پہنچا مگر کتوں کے کاٹنے کی ویکسین نہ ملنے

Read more

سانحہ بلدیہ فیکٹری اور حکومت سندھ کا جھوٹا وعدہ

ہمارے یہاں شہید کا لقب تو جلد مل جاتا ہے، مگر شہید اور ان کے اہلہ خانہ کے ساتھ انصاف صرف اور صرف لفظوں میں نظر آتا ہے۔ حقیقت میں تو شہید اس کی بیوہ اور اہل خانہ ہیں جنہیں صرف اتنظار ہی نصیب ہوتا ہے، سانحہ 12 مئی کے 5 سال بعد 2012 میں کراچی میں ایک بار پھر ایک بڑا سانحہ پیش آیا، کراچی بلدیہ کے علاقے میں قائم گارمنٹس کی فیکٹری کو کچھ شر پسند لوگوں نے چند روپوں کا بھتا نہ دینے پر آگ لگا دی، فیکٹری میں لگائی گئی آگ کچھ دیر بعد تو بجھ گئی مگر لے گئی اپنے ساتھ 250 سے زائد معصوم زندگیاں۔

Read more

جھکڑ جو دڑو

دنیا میں چار بڑی تہذیبیں ہیں۔ جس میں میسوپٹیم، مصر چائنا اور سندھو تہذیب شامل ہے۔ ہر تہذیب دریا کے کنارے پر قائم ہوا کرتی ہے۔ اس طرح سندھو تہذیب سندھو دریا کے کنارے پر آباد تھی۔ سندھو تہذیب کو چاروں تہذیبوں میں اعلی مقام حاصل تھا اس لیے سندھو تہذیب کو تہذیبوں کی ماں کہا جاتا ہے۔ جب بھی سندھ تہذیب کا نام زبان پر آتا ہیں تو ہمارے دماغ میں موئن جو دڑو کا تصور چھا جاتا ہے۔ جی بالکل موئن جو دڑو جو موجود دور کے ضلع لاڑکانہ میں شھر سے 25 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود وہ شھر سندھ تہذیب کا سب سے بڑا کاروباری مرکز تھا۔

Read more