پرویز مشرف نہیں، نواز شریف غدار ہیں اور انہیں پھانسی دینی چاہیے: عامر لیاقت حسین


پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور ممتاز عالم آن لائن عامر لیاقت حسین نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں ملنے والی سزائے موت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو غدار قرار دے دیا اور انہیں پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کر دیا۔

خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد ٹوئٹر پر اظہار خیال کرتے ہوئے عامر لیاقت حسین نے کہا کہ فیصلہ خصوصی عدالت نے سنایا، ریویو پٹیشن بھی اسی عدالت میں کی جا سکتی ہے اور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ابھی لمبا سفر باقی ہے۔ اپیل کی درخواستیں دائر کی جائیں گی۔ 12 اکتوبر 99ء کو طیارہ سازش کیس کا مرکزی ملزم پلیٹ لیٹس کی کمی کا ڈھنڈورا پیٹتا لندن کی سڑکوں پرگھوم رہا ہے، ملک اس نے الگ لوٹا مزید یہ کہ جھوٹ پر جھوٹ بولا۔

انہوں نے کہا کہ بعض اینکرز حقائق غلط پیش کر رہے ہیں، مشرف صاحب نے عدالت کا سامنا کیا اور پیش بھی ہوئے۔ تاہم اب وہ افسانوی نہیں حقیقی بیمار ہیں۔ مقدمہ صحیح طرح نہیں لڑا گیا۔ جسٹس فیصل عرب سپریم کورٹ چلے گئے تھے، بینچ پھر تبدیل نہیں ہوا۔

عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ مشرف صاحب کی اگر زبان کھل گئی تو ایسا پنڈورا باکس کھلے گا کہ کئی پردہ نشینوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔ اگر مشرف غدار ہیں تو غدار سے حلف لینے والی گیلانی کابینہ بھی غدار، حلف اٹھانے والا وزیراعظم گیلانی بھی غدار، یہ وہ زمانہ تھا جب نواز زرداری بھائی بھائی تھے۔ آرٹیکل 6 کی ایک شق کے مطابق آئین توڑنے میں شامل دیگر افراد کو بھی یہی سزا ملنی چاہیے لیکن مقدمہ دائر کرنے والوں ( نواز، زرداری بھائی بھائی ) نے صرف ایک ادارے یعنی فوج سے ذاتی چپقلش کی بنیاد پر سیاسی لوگوں کو کیوں بچایا، سوال یہ ابھی باقی ہے۔

رہنما تحریک انصاف نے لکھا سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان کا چیف آف آرمی اسٹاف ملک سے غداری کر سکتا ہے؟ وہ جس نے جنگیں لڑی ہوں، وہ جس نے بھارت میں بیٹھ کر بھارتی صحافیوں کے دانت کھٹے کر دیے ہوں، وہ جس نے کارگل کے محاذ پر دشمن کو زمین چٹا دی ہو، سوال اٹھتا ہے، سوال اٹھیں گے۔ کلنٹن کے قدموں میں بیٹھ کر ٹسوے کس نے بہائے تھے؟ واجپائی کے فون پر بھاگ کے وہائٹ ہاؤس کون پہنچا تھا؟ کس نے کہا تھا کہ کارگل سے مشرف کو ہٹواؤ ورنہ بھارتی فوج فارغ ہو جائے گی اور میری دوستی کھٹائی میں پڑ جائے گی۔ وہ نواز شریف تھا، وہی غدار ہے، پھانسی کی سزا اسے ملنی چاہیے۔

Facebook Comments HS