فیصلہ سستی شہرت کے سوا کچھ نہیں، پرویز مشرف غدار تھے تو اُن سے حلف لینے والے کیسے محب وطن ہو گئے: علامہ طاہر اشرفی
پاکستان علما کونسل کےسربراہ علامہ حافظ طاہرمحموداشرفی نےسابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی جانب سےسزائے موت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف غدار تھے تو پھر اُن سے حلف لینے والے کیسے محب وطن ہو گئے؟۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ حافظ طاہر محموداشرفی کا کہنا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو ہدف بنانے کا مقصد سستی شہرت حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے،کاش عدالت افتخار محمد چوہدری سمیت اُن سیاست دانوں کے بارے میں بھی فیصلہ کرتی جو جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا حصہ تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر پرویز مشرف غدار تھے تو پھر اُن سے حلف لینے والے کیسے محب وطن ہو گئے؟۔
واضح رہے کہ آج اِسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدرجنرل پرویزمشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائےموت کا حکم سناتے ہوئے کہا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اور اُن پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہوتا ہے۔ تین رکنی بینچ میں سے دو ججز نے سزائے موت کے فیصلے کی حمایت کی جب کہ بنچ میں شامل سندھ ہائیکورٹ کے جج نذر محمد اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔
خصوصی عدالت کی جانب سے پرویز مشرف کو سزائے موت سنانے کے فیصلے کے خلاف پاک فوج کی جانب سے سخت ردعمل دیا گیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر پاک فوج میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ پرویز مشرف کسی صورت غدار نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے 40 سال پاکستان کی خدمت کی ہے اور جنگیں لڑی ہیں۔ کیس میں آئینی و قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔


