کیس کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی کسی نے اظہار کر دیا تھا، فوج کا ری ایکشن بہت ہلکا ہے: لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی


لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے پرویز مشرف کیس پر ہلکا رد عمل دیا ہے، جس طرح کسی نے فیصلہ آنے سے پہلے ہی اس کا اظہار کردیا تھا اس سے یہ لگتا ہے کہ عدالتوں کو پہلے سے ہی ہدایات دی جاچکی تھیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی نے ، جو سابق سیکرٹری دفاع بھی رہے ہیں، پرویز مشرف کیس کے فیصلے پر پاک فوج کے رد عمل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنگین غداری کیس کا فیصلہ آیا نہیں تھا لیکن کسی نے اس کا اظہار پہلے ہی کردیا تھا۔ کیا یہ سمجھیں کہ عدالتوں کو پہلے سے ہی ہدایات دی جا چکی تھیں؟ پاکستانی فوج کے ترجمان نے جو رد عمل دیا ہے وہ بالکل درست ہے بلکہ اس سے زیادہ ہونا چاہیے۔ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کریں۔ فوج کا ری ایکشن بہت ہلکا ہے۔ چونکہ فوج قانون پر عمل کرنے والا ادارہ ہے اس لیے میرا خیال ہے کہ وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہیں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی نے ججز کی تقرری کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ وہ لوگ جو کسی پارٹی کا حصہ ہوتے ہیں اور پھر انہیں جج بنادیا جاتا ہے۔ جب تک یہ طریقہ کار تبدیل نہیں ہوتا تب تک پاکستان میں کہرام مچا رہے گا۔ ہم نے سب سے پہلے جوڈیشل ریفارمز کرنی ہیں۔

نعیم خالد لودھی کا مزید کہنا تھا کہ سلیکٹو انصاف کیا گیا ہے، جس کا رد عمل تو آئے گا۔ یہ درست نہیں ہے کہ عدالت جس ایکشن کو چاہے معاف کردے اور جس کو چاہے پکڑ لے۔ ایمرجنسی پرویز مشرف نے اکیلے تو نہیں لگائی، کوئی تو ان کے ساتھ ہو گا۔ ان میں سے کسی کو کیس میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ یہ کیسا انصاف ہوا کہ ایک جرم میں 15 لوگ شریک ہوں لیکن ایک شخص کو سزائے موت سنا دی جائے اور باقی لوگوں کو چھوڑ دیا جائے۔

Facebook Comments HS