افغان جنگ: امریکا کا دشمن کون؟


افغانستان میں جاری جنگ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے۔ اٹھارہ سال افغانستان کی دشت وصحرا میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اب اعتراف کر رہے ہیں کہ ہم دشمن کا تعین کرنے میں ناکام رہے۔ افغانستان کے ہر چھوٹے اور بڑے شہر میں نیٹو اور ایساف کے تربیت یافتہ جاسوسوں کا منظم نیٹ ورک قائم کیے رکھا لیکن اس کے باوجود دشمن کو پہچان نہ سکے۔ افغانستان کے ہر چھوٹے اور بڑے قصبے میں ڈالروں سے ہزاروں ضمیروں اور انسانوں کو خریدتے رہے لیکن پھر بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ ہم دشمن کو پہچان نہ سکے۔

یوایس ایڈ جیسے ادارے کو شیلڈ بنا کر اور فلاحی منصوبوں کے نام پر سماج کے ذہن کو تبدیل کر نے کی دوعشروں تک بھر پور کوشش کی پھر بھی یہ کہنے پر مجبور ہو ئے کہ پورے اٹھارہ سال ہوا میں ہی تیر چلاتے رہے۔ مسلسل دو عشروں سے گڈ اور بیڈ طالبان کا وظیفہ خود بھی کرتے رہے اور پوری دنیا میں ان کے وظیفہ خور بھی یہی وظیفہ باقاعدگی کے ساتھ کر تے رہے لیکن پھر بھی بغیر کسی ندامت کے صرف یہ اقرار کر رہے ہیں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ گڈ اور بیڈ طالبان کیا ہیں۔

مسلسل اٹھارہ سال پاکستان پر الزام لگاتے رہے کہ اسلام آباد ہمارے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا ہے لیکن ان کو خود معلوم نہیں تھا کہ ہم کس کی گیم اور کیوں کھیل رہے ہیں؟ اٹھارہ برس افغانستان کے پہاڑوں سے سر ٹکرانے کے بعد اب واشنگٹن کو سمجھ آگئی ہے کہ جس کے خلاف ہم لڑ رہے تھے وہ تو ”نامعلوم“ تھے۔ اٹھارہ سال اگر کوئی ملک جدید ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ فوج اور جاسوسی کا ایک منظم نظام ہونے کے باوجود اس حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کیوں اور کس کے خلاف افغانستان میں لڑ رہے تھے تو ضروری ہے کہ اس ”نامعلوم دشمن“ کو پہچانے میں ان کی مدد کی جائے۔

سب سے بڑی ذمہ داری تو نیٹو میں شامل ممالک کی ہے کہ وہ اس کارخیر میں بغیر سوچے سمجھے امریکا کی اسی طرح مدد کر یں جس طرح بغیر سوچے سمجھے انھوں نے افغانستان پر یلغار کرنے میں ان کی آواز پر لبیک کہا تھا۔ اس کے بعد پوری دنیا میں موجودہ ان دانشوروں اور خیر خواہوں کی ذمہ داری ہے کہ گلوبل ویلج کے چوہدری کی اس ”نامعلوم دشمن“ کو ڈھونڈنے میں ان کی مدد کریں جو اٹھارہ سال تک اس ضدی بچے کو افغانستان کے پہاڑوں، ریگستانوں اور صحراؤں میں دوڑاتے رہے۔

لیکن مجھے معلوم ہے کہ نیٹو ایسا نہیں کرے گا۔ جن دانشوروں نے افغان جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا وہ مطالبہ بھی نہیں کریں گے کہ ہمیں کیوں اٹھارہ سال تک بے وقوف بنایا اور نہ ہی ان کو اس سے کوئی سروکار ہے کہ واشنگٹن کا دشمن کون ہے؟ اس لئے کہ ان کو اپنا حصہ مل چکا ہے۔ اس صورت حال میں کہ سب نے امریکا کا ساتھ چھوڑ دیا ہے کوئی ان کویہ بتانے کے لئے تیار نہیں کہ ان کا دشمن کون ہے کہ جس نے اٹھارہ سال ان کو ذلیل و رسوا کیا تو ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کو بنا سکیں کہ تمھارا دشمن کوئی غیر نہیں بلکہ تم میں سے ہی ہے۔

تمھارا دشمن نامعلوم بھی نہیں بلکہ معلوم ہے۔ وہ ملک سے باہر بھی نہیں بلکہ امریکا ہی میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ تمھارا وہ دشمن اتنا چالاک اور ہوشیار ہے کہ اب بھی تمھارے خزانے سے مراعات لیتا ہے۔ جس وقت امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہوا تو جارج ڈبلیو بش امریکا کے حکمران تھے۔ اس شخص نے بغیر تحقیق اور معتبر تفتیش کے افغانستان پر یلغار کا فیصلہ کیا۔ یہ شخص اکیلا نہیں تھا بلکہ اس وقت وائٹ ہاؤس میں جتنے بھی عہدے دار تھے وہ سب اس جرم میں شریک تھے۔

وائٹ ہاؤس کے بعد پینٹاگون نے بغیر کسی تیاری کے افغانستان پر حملے کی حامی بھری۔ اس وقت پینٹاگون میں جو بھی اعلی فوجی قیادت تھی وہ شریک جرم ہے۔ بش کے جانے کے بعد باراک اوباما صدر منتخب ہو ئے۔ وہ جانتے تھے کہ امریکا، افغانستان کے صحراؤں میں ایک بے مقصد جنگ میں اپنے وسائل ضائع کر رہا ہے لیکن آٹھ سال تک وائٹ ہاؤ س کا مکین رہنے کے باوجود انھوں نے کوشش نہیں کی کہ قومی وسائل کے اس ضیاع کو روک سکے۔ اسی طرح ان آٹھ سالوں میں پینٹاگون میں مو جود فوجی قیادت بھی اس بات پر آمادہ نہ ہو ئی کہ افغانستان میں اپنے خیالی گھوڑوں کو لگام دیتے۔

گز شتہ تین سالوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کو شش میں ہے کہ افغانستان کی بے مقصد جنگ میں ضائع ہو نے والے قومی وسائل کو بچایا جاسکے لیکن امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور پینٹاگون ان کو مجبور کررہی ہے کہ کوئی بات نہیں ضائع ہونے دیں قومی وسائل کو، بس چند برسوں کی بات ہے اس لئے کہ ہم فتح کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان اٹھارہ سالوں میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا کردار سب سے گھناونا اور گمراہ کن رہا ہے۔ سب اچھا کی رپورٹس اس ادارے نے تیار کرکے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کو پیش کی ہے۔

جتنی بھی ہیر پھر اعداد و شمار میں کی گئی وہ اس ادارے نے کی ہے۔ جب بھی مفاہمت کی کوشش کی گئی ہے سی آئی اے نے مفاہمت کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں کامیاب رہی ہے۔ سی آئی اے کے دباؤ کی وجہ سے کابل میں مو جود امریکی سفارت کار بھی اس جرم میں شریک رہے۔ یو ایس ایڈ کا ادارہ جعل سازی میں سب سے آگے رہا ہے۔ اس ادارے نے افغانستان میں تر قیاتی اور فلاحی کاموں کے نام پر جو فراڈ کیا ہے اگر تحقیقات کی گئی تو گز شتہ دو عشروں میں اس کی نظیر نہیں ملے گی۔ جن افغان سرداروں اور سرکاری عہدے داروں سے مل کر جعل سازی کی گئی ہے وہ اس ادارے کے نام اور کام پر ایک بدنما داغ ہے۔ حامد کر زئی کے دور حکومت میں جس طرح ایوان صدر بد عنوانی کا مرکز رہا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کابل میں موجود امریکا کے سفارت کاراور فوجی افسران اس دھندے میں کسی نہ کسی طرح ملوث تھے۔

اگر اٹھارہ سال بعد واشنگٹن کو معلوم نہیں کہ ان کا دشمن کون ہے؟ تو ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما، وائٹ ہاؤس، پینٹاگون، سی آئی اے، گز شتہ اٹھارہ سالوں میں کابل میں مقیم امریکی سفارت کار، فوجی سربراہان، یو ایس ایڈ، حامد کر زئی، اشرف غنی اور وہ افغان سردار اور سرکاری عہدے دار جن کو یوایس ایڈ نے خرید رکھا تھا یہی ان کے دشمن ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سب کے خلاف تحقیقات ہو، جھوٹ، دھوکہ بازی، قومی دولت کے ضیاع، افغانستان کی تباہی وبربادی اور بے گناہ انسانوں کی ہلاکتوں کا حساب کتاب ان سے لیا جائے۔

Facebook Comments HS