ماہر امراض قلب ڈاکٹر نیوٹن خان!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ایک عزیز کافی عرصے سے دل کے مریض ہیں۔ اِدھر اُدھر سے کافی علاج کرایا لیکن کہیں سے افاقہ نہ ہوا۔ ایک دن ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی توجلدی جلدی ایمبولینس کوکک ماری اور شیدے نائی کے تندور پر جا پہنچے۔ اس نے ایک روٹی کی کٹنگ چھوڑ کر انہیں چیک کیا اور کہنے لگا ”اس کی بیماری بہت سنگین ہو چکی ہے، ۔ اگر اس کی خیریت چاہتے ہوتو اسے ڈاکٹر نیوٹن خان کے پاس لے جاؤ“۔ ”ڈاکٹر نیوٹن؟ ، وہ کون ہے، کہاں رہتا ہے اور اس کی فیس کتنی ہے؟

” ہم نے پوچھا تو اس نے بتایا“ ڈاکٹر نیوٹن وہی تو ہے جسے فزکس کا بانی تصور کیاجاتا ہے اور جس نے حرکت کے تین مشہور اور بنیادی قوانین دریافت کیے تھے ”۔ “ لیکن فزکس کے سائنسدان کا امراض قلب سے کیا تعلق؟ ”میں نے دوسرا سوال کیا تو شیدے نے ترنت جواب دیتے کہا“ او بھئی نئے پاکستان کی طرح نئی دنیا بھی وجود میں آ چکی ہے، زندگی کی علامت کیاہے؟ ۔ دل کی حرکت! جس نیوٹن نے حرکت کے قانون دریافت کیے دل کی حرکت کا اگر اسے پتا نہیں ہوگا تو اور کسے ہوگا؟ ”۔ خیر مرتے کیا نہ کرتے۔ ہم نے فورا ً انڈونیشیا کا ٹکٹ لیا اور ڈاکٹر نیوٹن سے ملاقات کے لیے امریکا جاپہنچے۔

آخر کار وہ دن آ ہی گیا جب ہم عظیم سائندان سے ملنے کا شرف حاصل کرنے والے تھے۔ باری آنے پر صدر ٹرمپ کی سیکٹری نے ہمیں ڈاکٹر آئزک نیوٹن کے کمرے میں بھیج دیا۔ اندر داخل ہوئے تو نیوٹن نے ہماری طرف دیکھے بغیر ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود کرسی سے اٹھ کر ایک مسطح میز کی جانب چل پڑا۔ اس کے ہاتھ میں ایک نقشہ تھا۔ اس نے وہ نقشہ میز پر بچھایا اور خوردبین آنکھوں سے لگا کر اس نقشے میں سے کچھ تلاش کرنے لگا۔ جوں جوں وقت گزررہا تھا نیوٹن کی پریشانی بڑھ رہی تھی۔

اس کی دائیں طرف مٹی کا ایک ڈھیرپڑاہواتھا۔ نقشے میں جاپان اور جرمنی کے اردگرد سرخ دائرہ لگاہواتھاجبکہ دونوں ملکوں کے درمیان والے علاقے کو سبز رنگ میں ظاہر کیاگیا تھا۔ ”سر! یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ “ میں نے حیرت سے پوچھا تو نیوٹن نے آنکھوں سے ایک ذرا عینک سرکاتے ہوئے جواب دیا ”یہ مٹی دیکھ رہے ہو؟ یہ جاپان اور جرمنی کے بارڈر سے اٹھا کر لایا ہوں، میں اس مٹی کے ذرات سے تابکاری کے ذرات تلاش کررہا ہوں، مجھے تلاش ہے بمبوں کے ان ٹکڑوں کی جو جاپان اور جرمنی نے جنگ کے دوران ایک دوسرے کے بارڈرپر گرائے تھے، مجھے اس مٹی سے وہ کیمیکل بھی تلاش کرنا ہے جو وہاں موجود فیکٹریوں سے فاضل مادے کے طور نکلاتھا“۔

میں نے کہا ”جناب! ہم تو بڑی دور سے آپ کی شہرت سن کر آئے ہیں لیکن آپ کو تو اتنا علم بھی نہیں کہ جاپان اور جرمنی کا بارڈر آپس میں ملتا ہی نہیں“۔ سچی بات ہے اب مجھے اس ڈاکٹر نیوٹن پر شک بھی ہورہا تھا اور خود پر افسوس بھی کہ ہم محض سنی سنائی باتوں پر یقین کرکے اتنا خرچا کرکے یہاں تک آگئے۔ اب مجھے شیدے نائی کے میڈیا ہاؤس پرغصہ بھی آرہا تھا اور افسوس بھی لیکن اب ہاتھ ملنے کے سوا کوئی چارا نہیں تھا۔

بہرحال تنگ آکر نیوٹن کمرے کے دوسرے کونے میں آکھڑا ہوا۔ وہاں ایک میز پر ایک پرانی ٹارچ پڑی ہوئی تھی۔ میز کے اوپر ایک کتبہ لٹک رہاتھا جس پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا ”سپیڈ کی لائیٹ“۔ کمرے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کا فاصلہ میٹروں میں لکھا ہوا تھا۔ اچانک نیوٹن نے کمرے کے سب بلب بند کردیے۔ جب مکمل اندھیرا چھا گیا تو اس نے میز سے وہ پرانی ٹارچ اٹھائی، اسے آن آف کیا اور خود فاصلہ ناپنے کے لیے کھینچی گئی لکیروں کے ساتھ ساتھ دوڑنا شروع کردیا۔

کافی دیر وہ یہی عمل دہراتارہالیکن مسئلہ حل نہ ہوا تو اس نے مجھے پاس بلایا اور کہنے لگا ”تمہاری صحت سے لگ رہا ہے کہ تمہارے دوڑنے کی سپیڈ اچھی ہوگی، ایسا کرو کہ کمرے کے اِس کونے سے اُس کونے تک پوری سپیڈ سے بھاگو“۔ بہرحال کمرے کے فرش پر بکھری ہوئی مختلف چیزوں کو ایک طرف رکھنے کے بعد میں نے اس دلچسپ تجربے کے لیے خود کو ایک آدھ منٹ میں تیارکرلیا۔ نیوٹن نے گنتی شروع کی۔ خود وہ ایک منجھے ہوئے ایتھلیٹ کی سی پوزیشن میں تھا۔

جب وہ تھری پر پہنچا تو میں نے فوراً دوڑنا شروع کردیا اور اس کی توقع سے بھی کم وقت میں کمرے کی دوسری دیوار کے پاس جا پہنچا۔ پتا نہیں کیا بات تھی کہ اس نے مجھے یہی عمل دوبارہ کرنے کو کہا۔ اس کے بعد یہ عمل اس وقت ہوتا رہا جب تک مجھ میں دوڑنے کی ایک رمق بھی باقی تھی۔ ”یہ آپ کس قسم کا تجربہ کررہے ہیں؟ “ مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے پوچھ ہی لیا۔ اس نے جواب دیا ”میں یہ تجربہ کررہا ہوں کہ واقعی سپیڈ کی لائیٹ ہوتی ہے یا کسی نے ایسے ہی بڑ ہانکی ہے، اس کمرے میں بلب بند کرکے میں نے بڑے بڑے اتھلیٹوں کو دوڑایا، وہ بڑی سپیڈ سے دوڑے لیکن لائیٹ پیدا نہ ہوئی“۔ یہ کہہ کر وہ سر کھجاتے ہوئے میز پر پڑے ٹیلیفون کی جانب بڑھ گیا۔

دوسری طرف کسی نے فون اٹھا یاتو نیوٹ کہنے لگا ”صدر سے کہو کہ نیوٹن بات کرنا چاہتا ہے“۔ فون کا سپیکر آن ہی تھا اور میں بھی ہونے والی گفتگو سن رہا تھا۔ ”ہیلو! میں لائن پر ہوں“ دوسری طرف جواب آیا تو نیوٹن کہنے لگا ”تم انڈونیشیا کے صدر ہواورمیں فزکس کابے تاج بادشاہ، مجھے ایک تجربے کے لیے کیروسین کا تیل چاہیے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے اور تم اسے آج کل پاکستان کو ایکسپورٹ بھی کررہے ہو، کرامات تیل کی ہیں اورلوڈشیڈنگ ختم کرنے کا کریٹ نواز شریف لے رہا ہے“۔ ”اس طرح کا کوئی تیل دنیا میں موجود نہیں ہے“ نیوٹن نے بات ختم کی تو دوسری طرف سے جواب آیا جسے سن کر اس نے فون غصے سے بند کردیا۔

ادھر سے فارغ ہو کر اس نے مجھے پاس بلایا، ایک کتاب کھول کر میرے سامنے رکھی، مریض کو چیک کیا اورکہنے لگا ”حرکت کے میرے تیسرے قانون کے مطابق ہر عمل کا ایک برابر ردعمل بھی ہوتا ہے، پس بیماری پر قابو پانے کے لیے جتنی کوشش کی جائے گی مریض کی بیماری اتنی ہی بڑھتی جائے گی“۔ یہ سن کر میرا خون کھول گیا۔ میں نے کہا ”جاپان جرمنی کا بارڈر ملاتے ملاتے اور سپیڈ کی لائیٹ تلاش کرتے کرتے تم پاگل ہو چکے ہو“۔ اس مسکرا میری طرف دیکھا اور کہنے ”میری جان! میں تو جہاز کی سیڑھیوں اور لفٹر کا فرق تلاش کرتے کرتے پاگل نہیں ہوا تھا، یہ تو معمولی سی بات ہے۔ یہ کہہ کر اس نے ہمیں کمرے سے نکا ل دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •