مشرف کو سزا
خصوصی عدالت کی جانب سے سنگین غداری مقدمے میں جنرل (ر) پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا پر خوشی اور دکھ دونوں کا اظہار سامنے آیا ہے۔
فیصلے پر خوش ہونے والوں کی نظر میں یہ فیصلہ ملک میں قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی ترقی و مضبوطی کی نوید ہے اور مستقبل میں فوجی آمریت کے امکانات ختم کردے گی۔
اس فیصلے پر غم و غصے کا اظہار کرنے والے سمجھتے ہیں جو جنرل مشرف ملک کی چالیس سال تک خدمت کرچکا، اس کے لیے لڑ چکا اور ملک کی افواج کا سربراہ رہا ہے، اسے غدارقرار نہیں دیا جاسکتا اور مزید یہ کہ انہیں صفائی کا مناسب موقع نہیں دیا گیا، ان کو سنے بغیر فیصلہ دیا گیا اور انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔
اس فیصلے کے خلاف پاکستاں سپریم کورٹ میں اپیل کی جاسکتی ہے۔ اپیل دائر کرنے کے لیے جنرل مشرف کی موجودگی لازمی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپیل دائر کرنے آنے اور اس طرح گرفتاری کا رسک لینے کے لیے تیار ہوں گے یا نہیں یا عدالت عظمیٰ انہیں غیر حاضری میں ہی اپیل دائر کرنے کی اجازت دے گی یا نہیں، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔
یہ فیصلہ کیا واقعی ملک میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنائے گا اور مستقبل میں مارشل لاء کے نفاذ کا راستہ روک سکے گا؟
بظاہر یہ ایک خوش فہمی ہے جس کے پورا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ البتہ قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی کی طرف یہ ایک اہم پیش رفت ضرور قرار دیا جاسکتا ہے۔
جنرل مشرف نے بارہ اکتوبر 1999 کو بھی آئین کو معطل کیا تھا اور تین نومبر 2007 کو بھی۔ حیران کن طور پر پہلے اقدام کی سپریم کورٹ نے نہ صرف توثیق کی بلکہ انہیں آئین میں ترمیم کی بھی اجازت دی۔ بعد میں پارلیمنٹ نے بھی سترہویں آئینی ترمیم میں اس اقدام کو تحفظ دیا۔ تاہم تین نومبر کے اقدام کی نہ سپریم کورٹ اور نہ ہی پارلیمنٹ سے توثیق ہوئی۔
اب اس فیصلے کے بعد اول تو کوئی ایسا اقدام ہوگا ہی نہیں اور اگر ہوگا تو اس کی پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کے ذریعے توثیق لازمی کی جائے گی۔
اس فیصلے میں صرف پرویز مشرف کو سزا دی گئی جبکہ ان کا ساتھ دینے والے ابھی بچے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سزا مل سکتی ہے تو ان کا ساتھ دینے والے کیسے سزا سے بچ سکتے ہیں؟
اگر جنرل مشرف کا اقدام غیر آئینی تھا اور ان کے خلاف ایکشن لیا جاسکتا ہے تو ان کا ساتھ دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کیا انصاف کا تقاضا نہیں ہے؟
جنرل مشرف اور ان کی قانونی ٹیم کی کوشش تھی کہ اس عمل میں کسی بھی طرح ان کی مدد کرنے والے تمام فوجی، عدالتی اور انتظامی افسران اور سیاسی عہدیداروں (یعنی وزیر اعظم اور وزراء، وزراء اعلیٰ) کے خلاف بھی ان کے ساتھ کارروائی ہو اور خصوصی عدالت نے ان افراد کے خلاف حکومت کو ترمیمی استغاثہ دائر کرنے کا حکم بھی دیا تھا لیکن بعد میں عدالت عظمیٰ نے خصوصی عدالت کا یہ حکم کالعدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے پاس اختیار نہیں ہے کہ وہ آئین شکنی کے مقدمے میں کسی اور شخص کا نام شامل کرے، یہ استحقاق وفاقی حکومت کا ہے۔ اس طرح پرویز مشرف کے خلاف کارروائی جاری رہی۔
اگرچہ اصل اختیارات پرویز مشرف کے پاس تھے لیکن انصاف کا تقاضا یہی نظر اتا ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز اور ان کے وزراء، اس وقت کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جنرل مشرف کا ساتھ دینے والے دیگر افراد بھی شریک ملزم کے طور پر قانونی کارروائی کا سامنا کریں۔
شوکت عزیز یا دیگر افراد صرف اس دلیل سے خود کو بچا نہیں سکتے کہ وہ جنرل مشرف کے احکام پر عمل کر رہے تھے۔ اگرچہ یہ دعویٰ بھی تحقیق کا محتاج ہے لیکن بظاہر ریکارڈ پر ان کی طرف سے جنرل مشرف کے اقدام کی مخالفت کے ثبوت میں کچھ بھی سامنے نہیں آیا۔
کسی بھی غیر قانونی احکام کو نہ ماننے کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے موجود ہیں اور اگر کسی نے ایک غیر آئینی اور غیر قانونی عمل میں کسی کا ساتھ دیا ہے یا کسی ایسے حکم کی اطاعت کی ہے تو اسے بھی سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسے احکام کی پیروی کرنے کی جرات نہ کرے اور یا تو وہ کھلم کھلا ایسے عمل سے اختلاف کرے یا استعفیٰ کا راستہ اپنائے۔
بظاہرانصاف کا تقاضا یہی نظر آتا ہے کہ یا تو سب کے خلاف ایکشن لیا جائے یا سب کو معاف کیا جائے۔
جنرل مشرف کا پیشہ، عہدہ اور ادارہ اور ان کا طرزرعمل دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ان کو گڈ مڈ نہیں کیا جانا چاہیے۔
پوری پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کی صلاحیت اور قربانیوں کی معترف ہے، ان سے پیار کرتی اور ان کی پیشہ ورانہ قابلیت پر فخر کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ مسلح افواج ملک کی سلامتی کی ضامن ہیں۔ پھر قوم جیسی بھی زندگی گزارتی رہی ہے اپنی افواج کی بہتری اور مضبوطی کے لیے مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہی ہے۔
جنرل مشرف پاکستان آرمی میں جنرل کے عہدے تک پہنچے اور فوج کے سربراہ رہے۔ اس حیثیت سے انہوں نے ملک کی خدمت کی، ملک کے لیے جنگیں لڑیں، اس کے لیے قوم ان کی شکر گزار ہے۔
انہوں نے آئین کی بالادستی اور سیاست میں ملوث نہ ہونے کا حلف اٹھایا ہوا تھا، اس بارے میں بھی دو رائے نہیں مگر انہوں نے مذکورہ اقدام کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی، یہ بات بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔
جنرل مشرف نے اگر اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے، آئین کو معطل کیا ہے، غیر قانونی و غیر ائینی پی سی او جاری کیا ہے تو ان سے اور ان کا ساتھ دینے والے سویلین افراد سے بازپرس کی جاسکتی ہے۔ اس کا مطالبہ کرنے والے نہ فوج کے مخالف اور دشمن ہیں اور نہ فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، کارناموں اور قربانیوں سے منکر۔
فوج خود بھی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے یا غیر قانونی کام کرنے والے کسی جوان یا بڑے افسر کو بھی معاف نہیں کرتی اور انہیں سزا دیتی رہی ہے اس لیے ظاہر ہے کسی کو محض اس وجہ سے قانونی کارروائی سے استثنیٰ نہیں مل سکتا کہ وہ ایک خاص ادارے سے وابستگی رکھتا ہے۔ یہ ایک بندے کے غیر آئینی طرزعمل کے خلاف فیصلہ ہے نہ کہ فوج کے ادارے کے خلاف۔ ہاں انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں اور پورے ہونے نظر بھی آنے چاہئیں۔
اس فیصلے پر عمل ہو یا نہ ہو، یہ ان سب لوگوں، جو عدالتوں سے کمزور اور طاقت ور سے یکساں سلوک کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، کے لیے طمانیت کا باعث ہوگا۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ عدالتیں طاقت ور کے معاملے میں مداہنت سے کام لیتی ہیں۔


