پرویز مشرف کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہو گا: حامد میر


تجزیہ کار حامد میر نے اپنے کالم میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کو سنگین غداری کے جرم میں خصوصی عدالت سے سنائی جانے والی سزا پر عمل درآمد نہیں ہو گا

حامد میر نے لکھا ہے کہ عمران خان کی حکومت کھل کر پرویز مشرف  کی حمایت کر رہی ہے۔ پرویز مشرف  کے خلاف سنائے جانے والے فیصلے پر بڑا اعتراض یہ ہے کہ اُن کا ساتھ دینے والوں کو سزا کیوں نہیں ملی؟ سنگین غداری کا مقدمہ صرف حکومت بنا سکتی ہے لہٰذا حکومت چاہے تو کچھ شریک ملزمان پر مقدمہ بنا سکتی ہے لیکن یہ بہت مشکل ہے۔

عمران خان کی اصل ترجیح پرویز مشرف  کو بچانا ہو گی۔ پرویز مشرف  کے وکلا اس فیصلے پر اپیل دائر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں اور جب اپیل پر سماعت ہوگی تو مقدمہ دوبارہ کھل جائے گا۔ اگر عدالتی فیصلہ برقرار رہتا ہے تو پھر سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کی کوشش ہو گی۔ سزائے موت کو عمر قید میں بدلنا صدرِ مملکت کا اختیار ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ پرویز پرویز مشرف  پاکستان واپس آ کر گرفتاری پیش کریں۔ پاکستان واپس آنا بہت مشکل ہو گا۔

پرویز مشرف  کو بینظیر بھٹو قتل کیس میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ اُن پر غازی عبدالرشید قتل کیس بھی زیر التوا ہے۔ ججز نظر بندی کیس میں اُن پر فردِ جرم عائد ہو چکی ہے۔ 12؍مئی 2002کو کراچی میں ہونے والے قتلِ عام کا مقدمہ بھی انجام کو نہیں پہنچا۔ پاکستان واپسی کی صورت میں اُنہیں ان تمام مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حامد میر نے یاد دلایا ہے کہ اپوزیشن کے زمانے میں عمران خان بار بار پرویز مشرف  کے ٹرائل کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔ وزیراعظم بننے کے بعد اُن کی حکومت نے پرویز مشرف  کو بچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ خصوصی عدالت بار بار پرویز مشرف  کو بیان ریکارڈ کرانے کا موقع دیتی رہی لیکن پرویز مشرف  نے بیان ریکارڈ نہ کرایا اور آخر کار ساڑھے پانچ سال میں 125سماعتوں کے بعد خصوصی عدالت نے پرویز مشرف  کو سزائے موت سنا دی۔ سب جانتے ہیں کہ پرویز مشرف  کو سزائے موت نہیں ہو سکتی۔ پرویز مشرف  کے خلاف سزا کی واپسی بہت مشکل ہے لیکن اس سزا پر عملدرآمد نہیں ہو گا۔

Facebook Comments HS