یار کا شہر ”پنڈی“ بھی تو ہوسکتا ہے


میں کبھی بھی اپنی زندگی کا وہ نومبر، دسمبر اور جنوری کو فراموش نہیں کر سکتی جو میں نے جڑواں شہر یعنی پنڈی۔ اسلام آباد میں بسر کیے ہیں ان سرد ایام کے آغاز کے ساتھ لگا تار 2016، 2017 اور 2018 کے گزرے ہوئے وہ خوبصورت دن بہت یاد آتے ہیں جن دنوں میں نے اپنی آزادی، اپنی مرضی، اپنی صبح، اپنا دن، اپنی رات کو خوب انجوائے البتہ کراچی میں واقع اپنے گھر میں اپنے کمرے کو بھی بہت مس کیا مگر قدرتی مناظر سے مالا مال اسلام آباد کے یہ اتنی قربانی بنتی تھی جبکہ پنڈی سے تو نہ جانے کیوں مجھے ایک الگ سی انسیت ہے، یہ بھی دلچسپ اتفاق ہے، جب میں چھٹی جماعت میں زیر تعلیم تھی تو مشہور فاسٹ بالر شعیب اختر میرے پہلے مسٹر کرش تھے، جو پنڈی ایکسپریس کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

یعنی پنڈی سے روح کا تعلق نیا نہیں ہے، جانے کیا کشش ہے پنڈی میں جو مجھے اس شہر کی جانب مائل کرتی ہے، اس شہر میں گزرے اوقات میرے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں نہ جانے کیوں اس شہر میں مجھے میرے ہونے کا احساس ہوتا ہے، نہ جانے پنڈی میں کیسی اپنائیت ہے، جہاں مجھے قلبی سکون سا محسوس ہوتا ہے جبکہ میرا وہاں کوئی نہیں ہے مگر میں وہاں جانا چاہتی ہوں اسی لئے اس کوشش میں ہوتی ہوں کہ کوئی کام وجہ روانگی پنڈی ثابت ہو مگر پچھلے ڈیرہ سال سے بے روزگاری کے شکنجے میں ہوں، اب کراچی میں ہی گزر بسر مشکل ہورہا ہے جبکہ پنڈی میں تو اپنا گھر بھی نہیں پھر بھی وہ شہر مجھے اپنا دوسرا گھر لگتا ہے، میری پنڈی کے بینک روڈ اور اسلام آباد کے فیض آباد سے بڑی دلچسپ یادیں وابستہ ہیں، جڑواں شہروں میں اوائل نومبر کی سرد صبحیں اور ٹھھرتی راتوں کا بھی اپنا ہی مزہ ہے، پنڈی کینٹ کے ہلال روڈ سے بینک روڈ، پھر میٹرو اسٹیشن تک کی لمبی سی روشن اور ٹریفک کے ہجوم سے بے نیاز سٹرک پر کافی کا کپ لے کر واک کرنے کا بھی اپنا ایک الگ ہی مزہ ہے، وہاں روح میں اترتی خاموشی کا بھی الگ ہی رومانس ہے جو دل کو بہت سکون دیتا ہے۔

c.-1883-Street-Scene-‎Rawalpindi

راولپنڈی کو دیکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے بازاروں میں گھوما جائے۔ وہاں کے دو اہم تجارتی مراکز ہیں ایک راجہ بازار جبکہ دوسرا پنڈی صدر کی مارکیٹ شہر کی دو اہم شاہراہیں جی ٹی روڈ سے کنٹونمنٹ اور مری روڈ سے مال روڈ ہیں۔ میٹرو بس سروس کے لیے بنائے گئے 9 کلو میٹر طویل پل اور اتنی ہی لمبی پھولدار پودوں سے لدی کیاریاں ہیں۔

پنڈی کینٹ کی تہذیب بیکری جڑواں شہر کی سوغات ہے جس کی متعدد شاخیں وہاں موجود ہیں، اگر آپ کا پنڈی، اسلام آباد جانا ہو تو تہذیب بیکری کے نٹس والے چاکیلٹ بسکٹس ضرور ٹرائی کیجئے گا، پھر سیور کے کباب، پلاؤ نہیں کھائے تو کیا فائدہ جڑواں شہر جانے کا، اسٹیڈیم روڈ پر واقع نیو پنڈی فوڈ اسٹرائیٹ کی کڑاہی اور روغنی نان بھی شدید سردی کا مرغوب کھانا ہے اور ملائی والی قلفی کے بھی کیا کہنے۔ اگرچہ اس سے لذیز کھانے کراچی میں ہوتے ہیں، تفریح کی جگہیں بھی کراچی میں پنڈی سے کہیں زیادہ ہیں مگر پھر بھی ہر شہر اپنی خاصیت رکھتا ہے جسے کراچی کا کوئی ثانی نہیں ویسے پنڈی بھی پنڈی ہے، جیسے کراچی منی پاکستان ہے ایسے ہی پنڈی، دھرتی کے سپوتوں کی لاج ہے کیونکہ وہاں پاک فوج کا صدر مقام یعنی جنرل ہیڈ کوارٹر واقع ہے جو پاکستانیوں کی ڈھارس ہے۔

جڑواں شہر میں قیام کے دوران اگر کراچی کی بہت یاد ستائے تو اسلام آباد میں واقع کراچی کمپنی جایا جاسکتا ہے اگرچہ وہاں کراچی جیسا کچھ نہیں ہے تاہم اپنے شہر کے ہم نام ہونے کی وجہ سے دیکھنے کا دل ضرور کرتا ہے، بہرحال پنڈی کی اپنی ایک الگ بات ہے، ایک الگ کشش ہے جس کے تحت میں پنڈی کے بارے میں لکھنے پر مجبور ہوجاتی ہوں جیسا کہ میں رواں سال جنوری میں بھی پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کر چکی ہوں۔

پڑھنے والوں سے التماس ہے کہ دعاؤں میں یاد رکھیں گا، دعا کرئیگا جس کے دل میں جو ہے وہ اسے ضرور ملے کیونکہ رانجھے کا شہر جھنگ ہی نہیں بلکہ پنڈی بھی تو ہوسکتا ہے، طالب دعا۔

Facebook Comments HS