لگتا ہے خان نے ایک بڑا یو ٹرن لے لیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق صدر اور ریٹائرڈ آرمی چیف مشرف صاحب کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنانے کے بعد جو سونامی سا ابھرا تھا وہ اس قدر تیزی کے ساتھ بیٹھتا چلا گیا جیسے وہ طوفان نہیں کولڈ ڈرنگ کی بوتل میں بھڑک جانے والے جھاگ تھے جو بے قابو ہوکر بوتل سے باہر ابلے پڑ رہے تھے۔ خصوصی عدالت کے اس ”خصوصی“ فیصلے کے فوراً بعد پی ٹی آئی کی جانب سے جس قسم کا شدید رد عمل سامنے آیا تھا وہ تو خود ایک حیران کن امر تھا ہی لیکن موجودہ آرمی چیف کی زیر قیادت کور کمانڈروں کے سات گھنٹے کے اجلاس کے بعد جس قسم کا شدید ترین بیان سامنے آیا وہ نہ صرف حیران کن تھا بلکہ پریشان کن بھی تھا۔

ملک کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی بھی قسم کی عدالت کے کسی بھی فیصلے کے بعد آرمی کی جانب سے عدالت کے کسی بھی فیصلے کے خلاف کوئی اسٹیٹمنٹ آیا ہو اور وہ بھی اتنا شدید جیسے اب چند ہی گھنٹوں میں پورا پاکستان فرش سے اٹھا کر عرش کی بلندی تک لیجانے کے بعد پہلے پلٹا جائے گا اور اس کے بعد اسے واپس زمین پر پٹخ دیا جائے گا۔ اس سے قبل نہ جانے کتنے وزرائے اعظم عدالتی فیصلوں کی بھینٹ چڑھائے جاتے رہے لیکن کسی ایک فیصلے کے خلاف ترجمان کی جانب سے کبھی کوئی بیان نہیں آیا۔

یہ بات یاد رہے کہ ہر ملک کا سپریم کمانڈر وزیر اعظم یا حکومت کا سربراہ ہی ہوا کرتا ہے اور ملک کی ساری فورسز کے چیف اس کی ہی کمانڈ میں اپنے اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بیان میں بار بار اس بات کو دہرایا گیا کہ کوئی بھی سپہ سالار ملک کا غدار نہیں ہو سکتا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک کا وہ سربراہ جو ہر کمانڈر کا کمانڈر ہوتا ہے اور کسی بھی ریاست کے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتا ہے وہ کیسے ملک کا غدار یا ملک کے لئے سیکورٹی رسک ہو سکتا ہے۔

یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ وفاداری اور غداری ایسا معاملہ ہے جو کسی وقت بھی سامنے آ سکتی ہے۔ اس کا کسی بھی عظیم المرتبت ہستی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ابلیس نے معلوم نہیں کتنے لاکھ برس اللہ کی عبادت میں گزارے۔ وہ معلم الملکوت تک رہا تھا اور بہت علم والا تھا۔ بظاہر زہد و تقویٰ میں اس سے کوئی بھی برتر نہیں تھا لیکن وہ اپنی سرکشی اور غرور کی وجہ سے ایک لمحے میں مردود ٹھہرادیا گیا۔ سربراہ فوج کا ہو یا حکومت کا یا کوئی بھی غیر اہم اور اہمیت والا، وہ کسی بھی وقت ایسی خطا کر سکتا ہے جو غداری کے زمرے میں آتی ہو۔

دنیا کی تاریخ میں ایسے نہ جانے کتنے سربراہان اور عسکری و سول عہدیداران گزرے ہیں جو قانون کی گرفت میں آکر اپنی اپنی سزا کو پہنچتے رہے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ آئین و قانون سے برتر کوئی بھی نہیں خواہ وہ ملک کے کسی بھی حساس یا اہم ادارے کے عہدے پر فائز ہو اس لئے کسی بھی عدالت کے عدالتی فیصلے کے بعد (میرے نزدیک) ایک غیر ذمہ دارانہ بیان آنا عقل و فہم سے بالا تر ہی ہے۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف جو بھی کیس چل رہا تھا یہ کسی ادارے، فرد یا کسی شخصیت کی جانب سے دائر نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ کیس حکومت کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ بے شک یہ کیس سابقہ حکومت (نواز لیگ) کے دور میں دائر کیا گیا تھا لیکن فریق تو بہر صورت حکومت ہی تھی۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ بہر لحاظ حکومت ہی کی جیت تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فیصلہ سو فیصد حکومت ہی کے حق میں آیا تو پھر حکومتی وزرا اور پی ٹی آئی اس فیصلے پر کیوں برہم نظر آ رہی ہے؟ اب اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک تو یہ کہ حکومتی حلقوں کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ مقدمے کا مدعی کون تھا یا پھر جب اس پر عسکری ذرائع کی جانب سے شدید رد عمل آیا تو انھوں نے اپنے منھ میں ان کی زبان ڈال لی اور جذبات میں یہ بھول گئے کہ انھیں تو اپنی جیت کا جشن منانا چاہیے تھا۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ مقدمہ جیتنے والی پارٹی فریق مخالف کے ہارجانے پر سیخ پا ہو اور فیصلے حق میں آجانے کے باوجود نہ صرف ناخوش ہو بلکہ اس طرح احتجاج کر رہی ہو جیسے عدالت نے اس کے خلاف کوئی سازش کی ہو اور اسے سیاسی میدان میں نیچا دکھانے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی ہو۔

یہ ایک ایسا مقدمہ تھا جس کا ایک فریق خود حکومت تھی اور دوسرا فریق کوئی ادارہ نہیں بلکہ ایک فرد تھا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومتی حلقے اس پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں تو انھوں نے کسی بھی فیصلے کے آنے سے قبل اپنی درخواست عدالت سے واپس کیوں نہیں لی جبکہ وہ ایسا کرنے میں مکمل قانونی اختیار رکھتی تھی۔ دوسری جانب جب اس مقدمے کا دوسرا فریق ادارہ نہیں بلکہ ایک فرد (پرویز مشرف) تھا تو فیصلہ آنے کے بعد کسی ادارے کی جانب سے براہ راست اس پر کسی قسم کا کوئی رد عمل کیوں آیا اور وہ بھی نہایت شدید۔

عسکری حلقوں کا اضطراب تو کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اگر فوج میں کسی نے چالیس برس گزارے ہوں، جنگوں میں دلیرانہ کردار ادا کیا ہو، فوج کے اہم عہدوں سے ہوتا ہوا آرمی چیف کے عہدے تک پہنچا ہو اور پھر ملک کا صدر بھی رہا ہو تو ادارہ بہر لحاظ اس کی طرفداری ضرور کرے گا لیکن جو بات عقل و سمجھ سے بالا تر ہے وہ حکومتی حلقوں میں پائی جانی والی بے چینی ہے کیونکہ وہ اگر چاہتی تو پرویز مشرف کو اس بحران سے بالکل اسی طرح بآسانی باہر نکال سکتی تھی جیسے مکھن سے بال کو کھینچ لیا جاتا ہے۔

اب یہاں دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ حکومت کی قانونی ٹیم اتنی نا اہل تھی کہ اسے قانون کا یہ پہلو دکھائی ہی نہیں دیا یا پھر وہ منافقت پر اتری ہوئی تھی اور اس بات کی خواہش رکھتی تھی کہ پرویز مشرف اپنی سزا کو پہنچیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسے اس بات کا اندازہ ہی نہ ہو کہ اس کے ”محسنین“ اس حد تک شدید رد عمل کا مظاہرہ کریں گے کہ خود ان کی کرسی کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں گی۔

کبھی کبھی یہ بھی لگتا ہے کہ حکومت اور مقتدرہ جیسے دوہرے کھیل کھیل رہی ہو۔ حکومت مقتدرہ کی بظاہر حامی ہو لیکن وہ اندر ہی اندر ان کے خلاف کوئی خفی ارادہ بھی رکھتی ہو۔ ممکن ہے کہ مشرف کے خلاف فیصلے پر جو بھی رد عمل حکومت کی جانب سے سامنے آ رہا ہے یہ تصویر کا ایک رخ ہو جبکہ دوسرا رخ کچھ اور ہی ہو جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ حکومت نے مشرف کے خلاف کی ہوئی اپیل کو واپس نہیں لیا۔ اسی دہرے عمل کا ایک مظاہرہ آرمی چیف کی ایکسٹنشن میں بھی دیکھنے میں آیا جس میں ایک مرتبہ نہیں، چار مرتبہ جاری کیے گئے نوٹسز قانونی پہلوؤں کے سامنے رکھ کر نہیں بنانے گئے جس کے نتیجے میں عدالت نے نہ صرف انھیں مسترد کر دیا بلکہ آخر کار یہ حکم سنایا کہ حکومت پالیمنٹ میں اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کرے۔

ان دونوں مواقعوں پر مقتدرہ کو بہت سبکی کا سامنا رہا۔ یہ دونوں انداز بظاہر اس جانب اشارہ کرتے نظر آ تے ہیں کہ حکومت، حکومتی معاملات میں عسکری ادارے کے عمل دخل کو دور رکھنا چاہتی ہے۔ پھر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ سیاسی رہنماؤں کو عدالتی جکڑ بندیوں سے آزاد کرکے وہ پارلیمان کی برتری کی جانب بھی پیش قدمی کرتی نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں آج اخبارات میں شائع ہونے والے حکومتی بیان کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جس میں وزیر اعظم کا یہ کہنا بہت وزن رکھتا ہے کہ اداروں کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کو تسلیم کرنا چاہیے۔ یہ وہ بیانیے ہیں جو الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ ساری سیاسی پارٹیاں دیتی رہی ہیں اور اب پی ٹی آئی نے بھی اسی جانب ”یوٹرن“ لے لیا ہے۔

ملک میں اب کیا ہونے جارہا ہے، اس پر قیاس آرائی قبل از وقت ہی ہوگی لیکن اب اداروں میں یہ کشمکش بڑھتی جارہی ہے کہ کس کو کس پر برتری حاصل ہے۔ پہلے پی ٹی آئی اس کشمکش سے باہر نظر آتی تھی لیکن اب لگتا ہے کہ وہ خود بھی اس سرد جنگ میں شامل ہو چکی ہے جو شاید پی ٹی آئی کا اس وقت کا سب سے بڑا یو ٹرن بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک دوسرے پر برتری کی اس جنگ میں اس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ ریاست ہے تو ہم سب ہیں اور اگر ریاست نہیں تو ہم سب صفر بھی نہیں لہٰذا اس بات کا خیال ہر صورت میں رکھنا ضروری ہے کہ ہماری کسی بھی کشاکش کا منفی اثر ریاست پر نہیں پڑنا چاہیے ورنہ سب کچھ تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •